اتوار , 19 جنوری 2020

اردوان کا لیبیا کی درخواست پر فوج بھیجنے کا اعلان

استنبول (انٹرنیشنل ڈیسک) ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے لیبیا میں تُرک فوج بھیجنے کا عندیہ دے دیا۔ انہوں نے یہ بات استنبول میں ایک اجتماع سے خطاب اور ٹرکش ریڈیو اینڈ ٹیلی وژن کی مشترکہ نشریات کے دوران کہی۔ خبررساں اداروں کے مطابق لیبیا کے ساتھ سمندری معاہدے کے بعد بحیرۂ روم کے ہمسایہ ممالک سے حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ان سے سوال کیا گیا کہ کیا تُرک فوجی لیبیاجائیں گے؟ اس کے جواب میں اردوان نے کہا کہ اگر لیبیا اس کی خواہش ظاہر کرتا ہے تو اس بارے میں ترکی خود فیصلہ کرے گا۔ ہم کسی سے اس کی اجازت طلب نہیں کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری منظوری کے بغیر یونان، مصر، اسرائیل اور جنوبی قبرص کی یونانی انتظامیہ مشرقی بحیرۂ روم میں قدم نہیں رکھ سکتے۔ انہوں نے روس سے لیبیا کے باغی جنرل خلیفہ حفتر کی معاونت بند کرنے کا مطالبہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔ صدر اردوان نے ٹرکش ریڈیو اینڈ ٹیلی وژن کی مشترکہ نشریات میں ایجنڈے کے موضوعات کا جائزہ لیا اور سوالات کے جوابات دیے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مشرقی بحیرۂ روم میں لیبیا کے ساتھ سمجھوتے کے ذریعے ترکی نے اپنے بین الاقوامی قوانین سے حاصل شدہ حقوق کو استعمال کیا ہے۔ اس سمجھوتے سے یونان کے ہاتھ پیر بندھ گئے ہیں اور انہیں سیخ پا کرنے والی چیز بھی یہی ہے۔ صدر اردوان نے کہا ہے کہ اب تک انہوں نے ہمیشہ من مانی کی ہے، لیکن اب کے بعد ایسا نہیں ہو گا۔ اب ہم بھی اپنے حق کا تحفظ کریں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم ایک اور ڈرلنگ جہاز خریدیں گے اور صرف بحیرۂ روم میں ہی نہیں بحیرۂ اسود بلکہ بین الاقوامی پانیوں میں بھی ڈرلنگ کا کام جاری رکھیں گے۔ اردوان نے کہا کہ ہم تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور منصفانہ حل کے لیے ہماری اپیلیں جاری ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

انڈونیشیا : سیلابا ور لرزشی اراضی کی تباہ کاریاں،66 افراد ہلاک

انڈونیشی دارالحکومت جکارتہ میں سیلاب اور لرزش اراضی سے ہونے والی ہلاکتیں 66 تک پہنچ …