جمعرات , 6 اگست 2020

آنگ سان سوچی دی ہیگ میں اقوامِ متحدہ کی عالمی عدالت انصاف میں پیش

دی ہیگ : میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی کو دی ہیگ میں اقوامِ متحدہ کی عالمی عدالت انصاف آئی سی جے میں پیش ہوئی ہیں جہاں وہ نسل کشی کے الزامات کے خلاف اپنے ملک کا دفاع کریں گی۔

برطانوی نشریاتی ادرے بی بی سی کے مطابق امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والی آنگ سان سوچی ان الزامات کو سنیں گی جن میں یہ کہا گیا ہے کہ میانمار نے روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و ستم کیے۔

خیال رہے کہ بدھ مت کے پیروں کاروں کی اکثریتی آبادی کے ملک میانمار میں بسنے والے ہزاروں روہنگیا سنہ 2017 میں فوج کے کریک ڈاؤن میں ہلاک ہوئے اور سات لاکھ سے زیادہ ہمسایہ ملک بنگلہ دیش چلے گئے۔

میانمار نے ہمیشہ اس بات پر اصرار کیا ہے کہ وہ انتہا پسندی کے خطرے کا سامنا کر رہا ہے, یہ مقدمہ مغربی افریقہ کے مسلم اکثریت والے ملک گیمبیا نے درجنوں مسلم ممالک کی طرف سے دائر کیا ہے۔

کیس کی ابتدائی تین روزہ کارروائی کے دوران بین الاقوامی عدالت انصاف سے کہا جائے گا کہ وہ عارضی طور پر روہنگیا کی حفاظت کے لیے اقدامات کرے۔ نسل کشی کے الزامات پر فیصلہ آنے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ دو برس قبل میانمار کے صوبے رخائن میں فوج نے ریاستی آپریشن شروع کیا تھا جس کی آڑ میں لاکھوں مسلمانوں کو شہید کردیا گیا تھا جبکہ 7 لاکھ کے قریب مسلمانوں نے بنگلادیش ہجرت کی تھی۔

عالمی ادارے(یو این) کے تحقیق کاروں کا کہنا تھا کہ 2017 میں برمی فوج نے مسلمانوں کی نسل کشی کے لئے ریخائن میں آپریشن کیا جس کے بعد 7لاکھ 30 ہزار مسلمان بنگلہ دیش ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔

یہ بھی دیکھیں

بھارتی وزیر اعظم نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ہے : اسد الدین اویسی

سری نگر: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا ہے …