اتوار , 9 اگست 2020

خلیج فارس تعاون کونسل کے اجلاس کے بیان کی مذمت

  • خلیج فارس تعاون کونسل کے اجلاس کے بیان کی مذمت

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ریاض میں خلیج فارس تعاون کونسل کے چالیسویں سربراہی اجلاس کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے میں غیرعاقلانہ پالیسیوں کے حامیوں کو رائے عامہ کو جواب دینا پڑے گا

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے بدھ کو کہا کہ علاقے میں موجودہ غیرعاقلانہ پالیسیوں کے تسلسل کے حامی معدودے چند ممالک رائے عامہ کو جواب دیں کہ انھوں نے عراق ، شام اور یمن میں دہشتگرد گروہوں کو جنم دینے ، انھیں مضبوط بنانے اور خلیج فارس میں اغیار کے آنے کا راستہ کھولنے کے سوا علاقے میں کشیدگی کم کرنے کے لئے کیا کیا ہے ۔ترجمان وزارت خارجہ سید عباس موسوی نے ایران کے ذمہ دارانہ رویے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عدم جارحیت معاہدے ، علاقائی ڈائیلاگ کونسل کے قیام اور آخرکار ہرمز امن منصوبے کی تجاویز وہ جملہ کوششیں ہیں جو ایران نے علاقائی تعاون کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کی ہیں ۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے تین ایرانی جزیروں ، ابوموسی ، تنب بزرگ اور تنب کوچک کو اسلامی جمہوریہ ایران کا اٹوٹ حصہ قرار دیا اور کہا کہ ان جزیروں میں ایران کے تمام اقدامات ، ملک کی ارضی سالمیت اور قومی اقتداراعلی کے مطابق اور مسلمہ حقوق کے تحت اٹھائے گئے ہیں اور اس طرح کے مداخلت پسندانہ موقف کی تکرار چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہو پوری طرح قابل مذمت ہے اور اس کا موجودہ قانونی اور تاریخی حقائق پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے خلیج فارس تعاون کونسل کے بیان میں ایرانی عوام کے خلاف امریکہ کی اقتصادی دہشتگردی کی کھلی حمایت کی مذمت کی اور اسے اچھی ہمسائگی کی پالیسی کے منافی قرار دیا۔

 

یہ بھی دیکھیں

بھارتی وزیر اعظم نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ہے : اسد الدین اویسی

سری نگر: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا ہے …