جمعہ , 7 اگست 2020

لاہور، پی آئی سی واقعہ کا ذمہ دار کون؟؟؟

لاہور سے ابوفجر کی رپورٹ

لاہور کے معروف ہسپتال ’’ادارہ امراض قلب‘‘ جسے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) بھی کہتے ہیں میں گزشتہ روز میدان جنگ بنا رہا۔ وکلاء کی ایک ریلی سیشن کورٹ سے آئی اور پی آئی سی کے سامنے احتجاج شروع کر دیا۔ مظاہرین وکلاء نے ڈاکٹرز اور حکومت کیخلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین کے مطابق سوشل میڈیا پر وکلا کیخلاف ویڈیو دوبارہ وائرل ہونے پر لاہور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سینکڑوں وکلا مشتعل ہوئے، جنہوں نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ینگ ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکس کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے ہسپتال پر دھاوا بول دیا۔ اس موقع پر سینکڑوں وکلا ہسپتال کا مرکزی دروازہ توڑ کر اندر داخل ہو گئے جس کے باعث علاج معالجہ کے سلسلے میں آئے ہوئے مریض ہسپتال میں محبوس ہو کر رہ گئے۔ اس ہنگامہ آرائی کے دوران پولیس کی بھاری نفری بھی موجود تھی لیکن اہلکار خاموش تماشائی بنے رہے۔ مشتعل وکلا نے ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے ہسپتال کا مرکزی گیٹ، ہسپتال کی عمارت اور گاڑیوں کے شیشے توڑ دئیے۔

یہ سلسلہ جب حد سے بڑھنے لگا تو ہسپتال میں موجود پولیس کی نفری نے احتجاجی وکلا پر لاٹھی چارج شروع کر دیا اور آنسو گیس کا بھرپور استعمال کیا۔ پولیس کارروائی کے جواب میں وکلا نے ہسپتال کے اندر پتھراﺅ شروع کر دیا اور پولیس کی ایک گاڑی کو آگ لگا دی جبکہ متعدد گاڑیوں کے شیشے توڑ دیئے۔ وکلا پولیس کی جانب سے لگائی جانیوالی تمام رکاوٹیں ہٹا کر ہسپتال میں گھس گئے اور ڈاکٹروں کیخلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ہسپتال کے اندر احاطہ میں دھرنا دیدیا اور پھر ہوائی فائرنگ کرتے رہے جس کی فوٹیج بھی منظر عام پر آ چکی ہے، جس میں وکلا کو اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ تمام تر واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظرعام پرآ گئی ہے جس میں وکلا کو ہلہ بولتے دیکھا جا سکتا ہے۔ وکلاء کی جانب سے شرپسندانہ کارروائی کے بعد ہسپتال میں موجود مریض اور ان کے لواحقین بھی گھروں اور دیگر ہسپتالوں میں منتقل ہوگئے اور پی آئی سی ایمرجنسی کو بند کر دیا گیا۔

ہنگامہ آرائی کے دوران وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان بھی پہنچے اور وکلاء سے بات کرنے کی کوشش کی تو وکلاء نے انہیں بھی تشدد کا نشانہ بنا ڈالا، اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں نے صوبائی وزیر کو وکلاء کے چُنگل سے نکال کر قریبی تھانے پہنچایا، جہاں وہ پولیس کو آپریشن کے حوالے سے ہدایات دیتے رہے جبکہ وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد بھی پی آئی سی پہنچیں مگر چیف ایگزیکٹو آفس میں محصور ہو کر رہ گئیں۔ اس دوران باہر مسلسل ہنگامہ آرائی ہوتی رہی اور پولیس شیلنگ کرتی رہی۔ جبکہ وزیراعظم عمران خان نے بھی اس افسوسناک واقعہ کا نوٹس لے لیا اور ذمہ داروں کیخلاف بلاامتیاز کارروائی کی ہدایت کی۔ وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے واقعہ کے پیچھے نون لیگ کا ہاتھ قرار دیا اور کہا کہ وکلاء نے انہیں اغواء کرنے کی کوشش کی لیکن میڈیا کے افراد نے اغواء کی کوشش ناکام بنا کر انہیں وکلاء کے چنکل سے نکالا۔

وکلا ایمرجنسی وارڈ میں بھی گھس گئے اور ہسپتال کے اندر جا کر توڑ پھوڑ کرتے رہے، اس دوران ہسپتال میں زیرعلاج مریضوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ متاثرین کے مطابق وکلاء نے زیرعلاج مریضوں کی ڈرپس اور آکسیجن ماسک تک اُتار دیئے جس سے اب تک 6 مریضوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ وکلاء نے نرسوں کو بھی ہراساں کیا۔ واقعہ کے بعد پولیس فورس بے بس دکھائی دی تو رینجرز کو طلب کر لیا گیا۔ رینجرز نے پی آئی سی پہنچ کر حالات کو کنٹرول کیا۔ وکلاء رہنماوں کا کہنا تھا کہ لاہور بار کے اجلاس میں ڈاکٹرز کی وہ ویڈیو دکھائی گئی جس میں ڈاکٹر نے وکلاء پر طنز کیا تھا جس سے وکلاء مشتعل ہو گئے اور پی آئی سی کے سامنے پہنچ کر احتجاج کیا۔ جبکہ ڈاکٹر کی ویڈیو کے حوالے سے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے رہنما ڈاکٹر عرفان نیازی کا کہنا ہے کہ وہ پرانی ویڈیو ہے جو وکلاء کیساتھ ہماری صلح سے پہلے کی ہے، مگر اسے غلط انداز میں پیش کرکے وکلا کو مشتعل کیا گیا۔ ادھر پنجاب حکومت نے رینجرز کو طلب کر لیا ہے جسے لاہور ہائیکورٹ اور پی آئی سی پر تعینات کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب وکلا تنظیموں کے عہدیداروں اور انتظامیہ کیساتھ رات 2 گھنٹے تک مذاکرات جاری رہے لیکن کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔ سی سی پی او آفس میں ہونیوالے مذاکرات میں صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت بھی موجود تھے۔ وکلا رہنماؤں نے گرفتار وکلا کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا لیکن انتظامیہ نے یہ مطالبہ نہیں مانا۔ مذاکرات کے بعد وکلا رہنما لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن پہنچے اور اعلان کیا کہ مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے۔ سیکرٹری ہائیکورٹ بار نے آج مکمل ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ صدر ہائی کورٹ بار حفیظ الرحمان چودھری نے کہا کہ مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے وکلا آج مکمل ہڑتال کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے البتہ خواتین وکلا کو چھوڑنے کی یقین دہانی کروائی ہے مگر پولیس نے دیگر وکلا کو چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے، جب تک وکلا کو نہیں چھوڑا جائے گا ہڑتال جاری رکھیں گے۔

اس موقع پر صدر لاہور بار عاصم چیمہ نے کہا کہ آج (جمعرات) سیشن عدالت کو مکمل بند کیا جائے گا کسی کو اندر نہیں جانے دیا جائے گا۔ انتظامیہ سے مذاکرات سے قبل نامزد چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے بھی ملاقات کی اور اپنے مطالبات سے بھی آگاہ کیا تھا جس پر ذرائع کے مطابق نامزد چیف جسٹس مامون رشید شیخ نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب جمال احمد سکھیرا کو طلب بھی کیا تھا۔ ملاقات میں بار قیادت کی طرف سے گرفتار وکلاء کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا اور وکلاء کیخلاف درج مقدمات میں سے دہشتگردی اور قتل کی دفعات ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا، جس پر نامزد چیف جسٹس مامون رشید شیخ نے معاملہ حل کرنے کیلئے حکومتی ذمہ داران سے رابطے کیلئے بار قیادت سے وقت مانگا تھا اور بعد میں بار کی کابینہ صدر لاہور بار اور ہائیکورٹ بار کی قیادت میں سی سی پی او کیساتھ دو گھنٹے تک مذاکرات بھی کیے جو نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے۔ جس پر وکلا تنظیموں نے آج پنجاب بھر میں ہڑتال کر رکھی ہے۔ کوئی وکیل عدالت میں پیش نہیں ہو رہا۔

دوسری جانب رات گئے وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی زیرصدارت کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کے اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ نے افسوسناک واقعہ کی رپورٹ پیش کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ حکومت کی رٹ کو ہر صورت بحال رکھا جائے گا۔ پی آئی سی میں وکلاء کی ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ بلاجواز اور غیر قانونی عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل سٹاف، مریضوں اور ان کے لواحقین کیساتھ ایسا ناروا سلوک کسی صورت قابل برداشت نہیں، جن کیساتھ زیادتی ہوئی ہے ان کیساتھ کھڑے ہیں۔ عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ ہنگامہ آرائی کے دوران علاج نہ ملنے سے بعض مریضوں کے جاں بحق ہونے کے واقعہ پر دلی دکھ اور افسوس ہوا ہے۔ وزیراعلی پنجاب کا کہنا تھا کہ اس واقعہ پر نہ صرف انصاف ہوگا بلکہ انصاف ہوتا ہوا بھی نظر آئے گا، ظالم کو قانون کے تحت سزا ضرور ملے گی۔

غیر جانبدار حلقوں نے پی آئی سی میں ہونیوالے تصادم کا ذمہ دار پولیس کو قرار دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ڈی آئی جی آپریشنز رائے بابر سعید موقع پر موجود تھے مگر انہوں نے کوئی فوری ایکشن نہیں لیا۔ عینی شاہدین کے مطابق انہوں نے ڈی آئی جی سے ایکشن لینے کیلئے کہا تو انہوں نے جواب دیا، ’’مجھے ابھی اوپر سے آرڈر نہیں ملا‘‘ جس کے بعد معاملات کنٹرول سے باہر ہوتے گئے اور معاملہ توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ تک جا پہنچا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل یہی ڈی آئی جی رائے بابر سعید قصور میں تعینات تھے، جہاں بچوں سے زیادتی کے واقعات ہوئے مگر ان کی نااہلی کے باعث قصور میں احتجاجی مظاہرے میں 4 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ جس پر اس وقت کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے رائے بابر سعید کو ان کی نااہلی پر معطل کر دیا تھا۔ مگر موجودہ حکومت نے رائے بابر سعید کو لاہور میں تعینات کر دیا جن کی موجودگی میں یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ وکلا سیشن کورٹ سے روانہ ہوئے، طویل سفر پیدل طے کرکے پی آئی سی پہنے مگر پولیس سوئی رہی۔

یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس تصادم کو بروقت کارروائی کرکے روکا نہیں جا سکتا تھا۔ وکلا کو سیشن کورٹ کے باہر ہی روکا جا سکتا تھا مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ سپیشل برانچ کا عملہ عدالتوں میں تعینات رہتا ہے، بار کے اجلاس میں بھی سپیشل برانچ کے افراد موجود تھے مگر کیا انہوں نے اس کشیدہ صورتحال کی رپورٹ اعلیٰ حکام کو فراہم کی؟ اور اگر انہوں نے رپورٹ دی تو کن کی جانب سے غفلت کا مظاہرہ کیا گیا اور وکلاء کو بروقت کیوں نہیں روکا گیا۔ دوسرا پورے راستے میں سیف سٹی اتھارٹی کے سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں، مگر پولیس کو پتہ ہی نہیں چلا کہ اتنی زیادہ تعداد میں وکلاء پی آئی سی کی جانب آ رہے ہیں۔ جب وکلاء گیٹ توڑ کر پی آئی سی میں داخل ہوئے تب بھی پولیس خاموش تماشائی ہی بنی رہی۔ پولیس اگر ذمہ دارانہ کردار ادا کرتی تو 6 زندگیاں بھی بچ سکتی تھیں اور ہسپتال میں ٹوٹنے والے کروڑوں روپے کے طبی آلات بھی بچ سکتے تھے۔

یہ بھی دیکھیں

پنجاب اسمبلی میں تکفیری سوچ کا راج اور ہماری ذمہ داری!

تحریر: غلام مرتضی جعفری پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے …