منگل , 28 جنوری 2020

بستر مرگ پر خلیج فارس تعاون کونسل + کارٹون

  • بستر مرگ پر خلیج فارس تعاون کونسل + کارٹون

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں خلیج فارس تعاون کونسل کا چالیسواں سربراہی اجلاس منعقد ہوا جو بری طرح ناکام رہا۔ جہاں قطر نے اس سربراہی اجلاس میں بڑی سطح پر شرکت نہیں کی وہیں اس کونسل کے ارکان میں اختلافات بھی کافی حد تک نظر آئے۔

خلیج فارس تعاون کونسل کہ جس کی بنیاد 1981 میں رکھی گئی تھی، آج جبکہ اسے اپنی شناخت اور سالمیت کے بحران کا سامنا ہے، اس کونسل کے بعض رکن ملکوں نے ایسے مواقف اپنا رکھے ہیں کہ جو مغربی ایشیا اور خلیج فارس کے علاقے کے ملکوں کی سلامتی کے حق میں نہیں ہیں-

خلیج فارس تعاون کونسل میں سعودی عرب کے روایتی اثر و رسوخ اور سعودی پالیسیوں کا تابع ہونے کے لئے دباؤ ڈالے جانے کے سبب، یہ کونسل گہرے سیاسی بحران سے دوچار ہوگئی ہے- اس کے علاوہ سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات کی حکومتوں کے علاقائی مواقف ، خلیج فارس کے علاقے کی ایک اور مشکل ہیں- خلیج فارس اور مغربی ایشیا کے علاقے میں امریکہ کی غیر تعمیری اور دشمنانہ پالیسیوں کی سعودی عرب، بحرین اور متحدہ امارات کی جانب سے اتباع و پیروی نے علاقے کو بحران سے دوچار کردیا ہے- ریاض میں خلیج فارس تعاون کونسل کے چالیسیویں سربراہی اجلاس کے بیان نے، سعودی عرب کے ایران مخالف رویے کو برملا کردیا ہے- جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران نے مختلف علاقائی منصوبے پیش کرنے کے ذریعے، کہ جس کا آخری نمونہ "ہرمز امن منصوبہ” ہے، خلیج فارس میں اچھی ہمسائیگی اور پرامن بقائے باہمی کو پایۂ ثبوت تک پہنچایا ہے-

یہ بھی دیکھیں

احمق صدر