جمعہ , 7 اگست 2020

تشدد کا پھیلتا ہوا جان لیوا کینسر کون روکے گا؟

شاد بیگم

یہ حقیقت ہے کہ تشدد کا رویہ اور رجحان اتنا ہی پرانا ہے جتنی کرہ ارض پر انسانی تاریخ۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ جہان انسان نے علم و عقل کے لامتناہی سمندر عبور کیے، نت نئی ایجادات اور سہولیات کو فروغ دیا وہاں انسان تشدد، نفرت اور امتیاز جیسے منفی رویوں پر آج تک قابو نہیں پا سکا۔

بلکہ حقیقت اس کے مکمل برعکس بلکہ انتہائی تلخ ہے۔ تشدد کے واقعات میں نہ صرف آئے روز اضافہ ہو رہا ہے بلکہ اب تو ایسا لگتا ہے جیسے تشدد ہماری زندگی کا معمول بن گیا ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ لوگ تشدد کے واقعات پر بات کرنے لگے ہیں اور اس کی مذمت بھی کرتے ہیں اور تشدد میں ملوث لوگوں کو سخت سے سخت سزا دینے پر بھی آواز بلند کرتے نظر آتے ہیں۔ تاہم تشدد کا مسئلہ اور ہمارے معاشرے پر اس کے اثرات بہت پیچیدہ اور قابل تشویش ہیں۔ اس کے حل کے لیے انفرادی آوازوں کے ساتھ ساتھ اجتماعی اور دور رس اقدامات کی بھی شدید ضرورت ہے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا اور تشدد کا یہ ماحول اور رویہ اس طرح پروان چڑھتاگیا تو خدانخواستہ کل ہم میں سے کوئی بھی اس کے اثرات سے نہیں بچ سکے گا۔

اگر یہاں تک آپ مجھ سے متفق ہیں کہ تشدد کے اس بڑھتے ہوئے مائنڈ سیٹ کو بدلنے کے لیے ہم سب کو مل کر اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تب ہی شاید ایک دن ہمارا یہ معاشرہ ہمارے لیے، ہماری خواتین، بچوں، مردوں، خواجہ سراؤں، مختصراً سب کے لیے ایک محفوظ معاشرہ بن جائےگا جہاں پر ہم بےخوف ایک خوشگوار اور صحت مند زندگی گزار سکیں گے۔ اس کے لیے اب کرنا کیا ہے؟ آئیں اس پر بات کرتے ہیں۔ اس کے لیے سب سے پہلا قدم ہمارا یہ ہوگا کہ ہم تشدد کے شکار ہونے والے کا ساتھ دیں نہ کہ الٹا ہم تشدد کے شکار ہونے والے کو اپنی تنقید کا نشانہ بنائیں۔

اس طرح ہم تشدد کرنے والے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ایسا ہم اکثر اوقات تب کرتی ہیں جب تشدد کا شکار ہونے والی کوئی عورت یا لڑکی ہو۔ کوئی اس کے کپڑوں کو الزام دے گا تو کوئی اس کے کردار پر سوال اٹھائے گا۔ حالانکہ تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ آئے روز ہمارے علم میں ایسے تشدد کے واقعات بھی آتے ہیں جن میں عمر اور جنس کے فرق سے بالاتر معصوم بچے بچیوں کو پہلے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد میں وحشانہ طریقے سے قتل کر کے کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیا۔ یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کہ ہم تشدد کرنے والے کا ہاتھ شروع سے مضبوط کرتے آئے ہیں۔

اب ہم سب کو بدلنا ہوگا اور تشدد کا شکار ہونے والے کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ لیکن تشدد کا رویہ جس بری اور گہرے طریقے سے ہماری زندگیوں کا حصہ بن گیا ہے اس کے لیے آپ کو اور مجھے اب ایک قدم اور بڑھ کر اپنی ذمہ داریاں سرانجام دینی ہوں گی کیونکہ تشدد کے واقعات پر صرف فیس بک، ٹوئٹر پر ایک دو پوسٹ یا ایک دو کالم لکھنے سے یہ مسئلہ ختم نہیں ہو گا۔ آپ کا اور میرا فرض ہے کہ تشدد کی روک تھام کے لیے قوانین سے نہ صرف خود کو آگاہ کریں بلکہ اپنے آس پاس کے لوگوں کو بھی آگاہ کریں۔

ہمارے ملک میں اکثر لوگوں کا قوانین کے بارے میں علم و آگہی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس میں ایک رکاوٹ یہ بھی ہے کہ قوانین زیادہ تر انگریزی زبان میں ہیں تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قانون کی زبان ہوتی بھی مشکل اور تکنیکی ہے اور عام انسان کی سمجھ سے تقریباَ بالاتر ہی ہوتی ہے۔ لیکن اس مسئلے کا بھی ایک حل ہے۔ ہمارے ملک اور صوبوں کی سطح پر بہت سارے حکومتی اور غیرحکومتی ادارے موجود ہیں جن سے ان قوانین کو سمجھنے اور آگے پھیلانے میں مدد لی جا سکتی ہے۔ ان اداروں میں سرفہرست وزارت انسانی حقوق ہے جو کہ آج کل بہت سرگرم عمل ہے۔

اب کوئی بھی پاکستانی کسی بھی حقوق انسانی کی خلاف ورزی کی صورت میں وزارت کی ویب سائٹ پر جا کر اپنی شکایت درج کروا سکتا ہے یا ان کے قومی کال سینٹر پر براہ راست فون کر سکتا ہے۔ چند دیگر اداروں میں قومی سطح پر نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹیس آف ویمن اور صوبائی سطح پر پچھلے کئی سالوں سے صوبائی کمیشن اور چائلڈ رائٹس کمیشن موجود ہیں۔ ان اداروں کے بارے معلومات ان کی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے باآسانی حاصل کی جا سکتی ہیں۔ کسی بھی حقوق انسانی کی خلاف ورزی اور تشدد کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے ان اداروں سے نہ صرف رابطے کو مضبوط بنائیں بلکہ رابطے میں رہنے سے ہم عوام ان اداروں کی جوابدہی کو بھی ممکن بنا سکتے ہیں۔

یہ ادارے ہماری ملکیت ہیں اور ہمارے مسائل کے حل کے لیے بنائے گئے ہیں لیکن ان تک اپنی آواز پہنچانا ہمارا فرض ہے ورنہ قدرت کا قانون تو یہ ہے کہ ماں بھی بچے کو دودھ پلانے کے لیے تب تک متوجہ نہیں ہوتی جب تک بچہ شور نہ مچائے۔

تشدد کے اس بڑھتے ہوئے ناسور کو ہم صرف باتیں کرنے اور سوشل میڈیا پوسٹ سے کبھی بھی ختم نہیں کر سکتے بلکہ اس کے لیے اپنے آپ کو اور اپنے آس پاس رہنے والے لوگوں میں تشدد کی روک تھام کے حوالے سے موجود قوانین اور اداروں کے کردار کے حوالے سے آگہی اور معلومات کا پرچار کرنا ہوگا۔ یہی دراصل ایک ذمہ دار اور باشعور انسان کی پہچان ہے۔ آئیں عہد کریں اور مل کر تشدد کا خاتمہ کریں۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

یہ بھی دیکھیں

پنجاب اسمبلی میں تکفیری سوچ کا راج اور ہماری ذمہ داری!

تحریر: غلام مرتضی جعفری پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے …