جمعہ , 7 اگست 2020

لبنان نئے وزیراعظم کی تلاش میں سرگردان

تحریر: محمد سلمان مہدی

یقیناً لبنان کا سیاسی و اقتصادی بحران ہر گذرتے دن کے ساتھ سنگین تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ احتجاجی مظاہروں سے پیدا ہونے والے دباؤ کے بعد 29 اکتوبر کو وزیراعظم سعد حریری کے استعفیٰ کے بعد سے ان کی حکومت نگران حکومت میں تبدیل ہوگئی۔ گو کہ نئے وزیراعظم یا نئی حکومت آجانے سے بھی لبنان میں کوئی جوہری تبدیلی نہیں آنے والی۔ لیکن پھر بھی آئینی قوانین کی روشنی میں نئے وزیراعظم کی تلاش شروع کردی گئی۔ البتہ یہ کام بہت زیادہ مشکل اس لئے ہے کہ لبنانی آئین میں اس کا کوئی ٹائم فریم معین نہیں کیا گیا کہ کتنے دنوں، ہفتوں یا مہینوں میں حکومت بن جائے۔

ماضی میں بھی بارہا لبنان کے پیچیدہ و منقسم سیاسی نظام کا تذکرہ کیا جاچکا۔ کیونکہ اعلیٰ ترین عہدے مختلف ادیان و مسالک کی بنیاد پر بھرے جاتے ہیں۔ جیسے کہ صدر مارونی عیسائی، وزیراعظم سنی اور اسپیکر پارلیمنٹ شیعہ ہونا لازمی ہے۔ اسی طرح کابینہ بھی ان تین گروہوں سمیت دروز، علوی اور عیسائیوں کے دیگر فرقوں سے تعلق رکھنے والوں پر مشتمل ہونا لازمی ہے۔ یعنی لبنان میں کوئی بھی اہم فیصلہ کرتے وقت سبھی اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت لازمی ہے۔ نہ صرف مشاورت بلکہ اتفاق رائے بھی۔ اتفاق رائے کے بغیر کیا گیا ہر فیصلہ حکومت کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس پس منظر میں لبنان کے نئے وزیراعظم کی تلاش جاری ہے۔

بہت سے اسٹیک ہولڈرز اب بھی سعد حریری کے نام پر متفق ہیں۔ البتہ سعد حریری نے لبنان کی ایک بڑی کاروباری شخصیت اور سابق وزیر محمد الصفدی (صفادی) کا نام بھی وزارت عظمیٰ کے لئے پیش کیا۔ مگر ان کے ماضی پر بھی انگلیاں اٹھیں۔ سعد حریری اور ان کے مابین آف دی ریکارڈ باتیں ریکارڈ پر آگئیں تو محمد الصفدی خود ہی وزارت اعظمیٰ کی امیدواری سے دستبردار ہوگئے۔ اس کے بعد سابق وزیر بہیج طبارہ کا نام بھی اسی جہ سے مسترد کر دیا گیا۔ ولید علم الدین اور فواد مخزومی کو بھی متبادل امیدوار بنا کر پیش کیا جانے لگا۔ مگر اچانک سمیر الخطیب کا نام سامنے آگیا۔ صدر میشال عون نے اعلان کیا کہ وہ 9 دسمبر کو آئینی طور پر لازمی قرار دی گئی مشاورت کے عمل کو انجام دیں گے۔ اس دوران ایک اور مرتبہ اعتراضات آنے لگے تو وہ مشاورتی ملاقاتیں منسوخ کر دیں گئیں۔

بحران کی پیچیدہ نوعیت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ سعد حریری کے تجویز کردہ امیدوار سمیر الخطیب کا نام مسترد کرنے والوں میں نھاد المشنوق سرفہرست تھے۔ حالانکہ یہ سعد حریری کی جماعت المستقبل کی طرف سے لبنان کے وزیر داخلہ و بلدیات رہ چکے ہیں۔ مشنوق کا بیان بیروت کے مکینوں کی مقامی تنظیم کی جانب سے جاری کیا گیا تھا۔ اسی طرح سابق وزرائے اعظم نجیب میقاتی، فواد سنیورا اور تمام سلام بھی صدر میشال عون اور نگران وزیر خارجہ جبران باسل پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ تین سابق وزرائے اعظم، محمد الصفادی اور سمیر خطیب دونوں ہی کو وزیر اعظمیٰ کے لئے مسترد کرچکے ہیں، جبکہ صفادی اور سمیر دونوں سے سعد حریری کا قریبی تعلق رہا ہے اور اب بھی سعد حریری ہی ان کی حمایت کر رہے ہیں۔ سعد حریری کی جماعت المستقبل سے منسلک رکن پارلیمنٹ محمد الحجار نے کہا تھا کہ ان کے سارے اراکین سمیر خطیب ہی کو ووٹ دیں گے، مگر یہ بیان بھی کام نہ آسکا۔

اس ساری صورتحال میں حزب اللہ اور حرکت امل مکالمے اور اتفاق رائے پر زور دیتے نظر آتے ہیں۔ یاد رہے کہ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے تو سعد حریری کے استعفیٰ دینے کی بھی مخالفت کی تھی اور اب بھی حزب اللہ اور امل تحریک دونوں ہی کو سعد حریری کی نامزدگی پر اعتراض نہیں۔ شاید اس کا سبب امل کے سربراہ اور لبنان پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری کے اچھے تعلقات ہوں۔ سیاسی تعطل ختم کرنے کے لئے حزب اللہ اور امل کا موقف ایک جیسا رہنے کا امکان ہے۔ جبران باسل نے اسپیکر نبیہ بری سے ملاقات کی، تب بھی حرکت امل کے سربراہ نبیہ بری کا کہنا تھا کہ لبنان میں مکالمے کا کوئی متبادل وجود نہیں رکھتا۔

موجودہ صورتحال میں اندرونی فیکٹر کے ساتھ ساتھ خارجی عوامل کے اثرات بھی اہم ہیں، بلکہ خارجی کردار زیادہ اثر انداز ہیں۔ لبنان میں بیرونی مداخلت کی ایک طویل تاریخ ہے۔ اسرائیل لبنان پر متعدد مرتبہ چڑھ دوڑتا رہا ہے۔ تاحال شبعا فارمز سمیت بعض لبنانی علاقوں پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ اسرائیل کے اعلانیہ اور غیر اعلانیہ اتحادی، دوست اور سہولت کار ممالک کے حکام بھی وقتاً فوقتاً اثرانداز ہونے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ایک سابق وزیر ویام وھاب نے کہا کہ بین الاقوامی اور لبنان کی داخلی قوتیں کسی اور نام پر بھی متفق ہوسکتی ہیں۔ ان بڑی طاقتوں میں فرانس سرفہرست ہے، کیونکہ وہ لبنان کی اقتصادی معاونت کے ضمن میں دیگر بڑی طاقتوں کو جمع کر رہا ہے۔ بدھ کے روز پیرس میں کانفرنس بھی ہوئی۔ حالانکہ وہاں سے بھی اقتصادی بحران کی دلدل میں پھنسے لبنان کی کوئی خاص مالی مدد کا اعلان نہیں ہوا۔

ویسے پیرس کانفرنس کے شرکاء میں ایک مصر بھی تھا، حالانکہ مصر خود اقتصادی بحران میں مبتلا ہے۔ اقوام متحدہ، یورپی یونین، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، عرب لیگ، امریکا، برطانیہ، فرانس، روس، چین،جرمنی، اٹلی، کویت اور متحدہ عرب امارات بھی پیرس کانفرنس میں شریک ہوئے۔ ادارہ بین الاقوامی مالیات، یورپی بینک برائے تعمیر نو و ترقی اور یورپی سرمایہ کاری بینک کے نمائندگان بھی شریک تھے۔ اجلاس کے اختتامی بیان میں لبنان میں فوری طور پر موثر اور قابل اعتماد حکومت کے قیام کی تاکید کی گئی۔ یعنی اس وقت بحران زدہ لبنانی عوام اور ان کے نمائندگان کو بڑی طاقتوں کی فرمائشات کا سامنا ہے۔ ویسے عرب لیگ کے ہوتے ہوئے، تین عرب ممالک کی شرکت بھی معنی خیز ہے۔ خاص طور بحران زدہ مصر کی شرکت۔!!

برطانوی عسکری و دفاعی قیادت کی طرف سے بھی لبنان کا دورہ ہوا ہے۔ اس سے قبل امریکا نے خاموشی سے فوجی قرضہ دے دیا تھا، جو کافی عرصے سے روک کر رکھا گیا تھا۔ لبنان کی فوجی قیادت کے سامنے بھی بڑی طاقتوں نے فرمائشی پروگرام رکھا ہوا ہے۔ نہیں معلوم کہ روس اور چین لبنان کے معاملات میں کہاں کھڑے ہیں، مگر امریکی مغربی بلاک تو واضح طور پر لبنان کو اسرائیل کا ہمنوا بنانے کی سازش میں مصروف ہے۔ سازشوں کا ہدف لبنان کی عوامی دفاعی قیادت اور آئینی و قانونی منتخب پارلیمانی اسٹیک ہولڈر حزب اللہ ہے۔ امریکی مغربی بلاک موجودہ سیاسی بحران سے فائدہ اٹھا کر حزب اللہ کے خلاف اقدامات کروانا چاہتا ہے۔ اس کے قرضے بھی مشروط ہوا کرتے ہیں۔ پیرس کانفرنس میں شریک امریکی معاون وزیر خارجہ برائے مشرق قریب ڈیوڈ شینکر نے کہہ دیا تھا کہ لبنان کے لئے کوئی ایڈ پیکیج نہیں۔

مارونی مسیحی تیار الوطنی الحر کے رہنما جبران باسل نے انتخابی اتحاد مضبوط لبنان کے اجلاس میں واضح کر دیا کہ سعد حریری کی قیادت میں ٹیکنو سیاسی حکومت ہو یا سعد حریری کی قیادت میں کوئی اور سیٹ اپ، وہ اس کی حمایت نہیں کرتے، کیونکہ ایسا سیٹ اپ حتماً ناکامی سے دو چار ہوگا۔ یاد رہے کہ لبنان کو لاحق بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لئے حزب اللہ اور امل تحریک نے سعد حریری کی قیادت میں ٹیکنو سیاسی حکومت کی تجویز دی تھی۔ دوسری طرف حزب اللہ کے پارلیمانی بلاک کتلۃ الوفاء للمقاومۃ کے اجلاس میں بحرین سمیت خطے میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات نارمل کرنے کے لئے منعقدہ اجلاس پر تشویش ظاہر کی گئی۔

اس وقت لبنان کے ریاستی ادارے بھی دشمن کا ہدف ہیں۔ گو کہ لبنانی عوام اپنی خواہشات کے مطابق حکومت کا قیام چاہتے ہیں۔ کوئی مکمل ٹیکنوکریٹ حکومت چاہتا ہے تو کوئی ٹیکنو سیاسی کا امتزاج۔ مگر حکومت کسی بھی نوعیت کی ہو اور اس کی وضع قطع کچھ بھی ہو، ہر ملک کی طرح لبنان میں بھی یہ سب کچھ اتفاق رائے اور مفاہمت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ لبنانی قوم کو اس بحران کے خاتمے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر قومی اتفاق رائے سے حکومت قائم کر لینی چاہیئے۔ نہ ہونے سے ہونا بہتر ہے۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

یہ بھی دیکھیں

پنجاب اسمبلی میں تکفیری سوچ کا راج اور ہماری ذمہ داری!

تحریر: غلام مرتضی جعفری پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے …