جمعہ , 24 جنوری 2020

عراق میں حالیہ مظاہرے اور مرجعیت کا کردار

اشرف حسین آخونذادہ

تقریبا پونے چار کڑور آبادی پر مشتمل عراق 438317مربع کلومیٹر پر مشتمل ملک ہے کہ جس کی سرحد مشرق میں ایران ،مغرب میں سوریا اور اردن ،شمال میں ترکی اور جنوب میں سعودی عربیہ اور کویت سے ملتی ہے ۔ انتظامی طور پر عراق کو اٹھارہ صوبوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو کہ میسان ،واسط ،نینوی ،نجف ، کربلا ،مثنی ،دھوک ، کرکوک ،صلاح الدین ،سلیمانیہ ،ذی قار ، دیالی ،قادسیہ ،بصرہ اور بغداد شامل ہیں ۔
لسانی اعتبار سے عراق میں 75سے 80 فیصد عرب ،15 سے 20 فیصد کرد اور 5 فیصد باقی اقوام جیسے سریان ،آشوریین ،ترکمان ،ایذدیین وغیرہ ہیں ۔
جبکہ مذہبی اعتبار سے 95 فیصد مسلمان اور پانچ فیصد دیگر ادیان کے پیروکار ہیں ۔ مسلمانوں میں سے 60 سے 65 فیصد شیعہ ، 30 سے 35 فیصد اہل سنت جبکہ تقریبا 5 فیصد دیگر ادیان کے پیرو کار ہیں ،جن میں مسیحی ،ایذیدی ،صابئی اور یہودی شامل ہیں۔
سیاسی اور مذھبی اعتبار عام طور پر عراق کو تین بڑے حصوں میں دیکھا جاتا ہے ۔ جنوبی و وسطی حصہ ،شمالی حصہ اور کردستان ۔ کرد اگرچہ مذھبی اعتبار سے غالب اکثریت اہل سنت سے تعلق رکھتی ہے لیکن ان کے ہاں مذہب سے زیادہ کرد قومیت کو اہمیت حاصل ہے ، جبکہ شمال علاقے اہل سنت اور جنوب اور وسط کے علاقے اہل تشیع کے علاقے سمجھے جاتے ہیں ۔
عراق میں تشیع غالب اکثریت میں ہونے کے باوجود اندرونی طور پر تقسیم در تقسیم کے نتیجے میں ملک کی سیاست میں وہ کردار ادا نہیں کر سکتا جو اسے ادا کرنا چاہئے تھا ۔ اس تقسیم اور کمزوری کی کئی وجوہات ہیں ،
1۔ دینی مرجعیت : عراق میں السید علی الحسینی سیستانی حفظہ اللہ کے علاوہ بہت سے مراجع موجود ہیں کہ جن کی طرف لوگ اپنے دینی مسائل کے لئے رجوع کرتے ہیں جن میں آیۃ اللہ سید سعید الحکیم ،آیۃ اللہ شیخ اسحاق الفیاض ،آیۃ اللہ شیخ حافظ بشیر نجفی ادامہم اللہ وجودہم شامل ہیں جبکہ عراق ہی میں شیعوں کی اچھی خاصی تعداد ایسی ہے کہ جو سید محمد محمد الصدر شہید جو کہ سید مقتدی الصدر کے والد تھے ،کی تقلید کرتے ہیں اور وہ اپنے دینی معاملات میں سید مقتدی الصدر سے رابطے میں ہوتے ہیں ۔ ان کے علاوہ سید محمد صدر کے مقلدین کی ایک اچھی خاصی تعداد اب انہی کے شاگرد شیخ یعقوبی کی تقلید کرتے ہیں ۔ جبکہ گزشتہ چند سالوں سے بعض لوگوں یا ملکوں کی طرف سے سید صرخی کے نام سے ایک معمم کو مرجع عراقی کے عنوان سے متعارف کرانے کی بھر پور کوشش کی جارہی ہے ،نیز حالیہ احتجاجات کے دنوں میں ہی ایک اور بظاہر سید کوبنام سید حسین موسوی مرجع تقلید بنا کر کردستان سے لانچ کیا گیا ،جسے سعودی نواز میڈیا چینلز نے خوب پزیرائی دی لیکن یہ کوشش بھی کامیاب نہ ہوئی۔ ان کے علاوہ حسن الیمانی کا المہدیون نامی گروہ نے بھی اپنا اثر رسوخ جنوب کے صوبوں میں ہی پیدا کیا ہوا ہے ۔
مندرجہ بالا گروہوں کے علاوہ صادق شیرازی کو ماننے والوں کی بھی ایک اچھی خاصی تعداد کربلا ،سامراء اور دیگر عراقی شہروں میں موجود ہیں ،
2۔ سیاست ۔ میدان سیاست میں اس وقت عراق کے اندر دسیوں نہیں بلکہ سیکڑوں کی تعداد میں پارٹیاں رجسٹرڈ ہیں اور اپنے اپنے نعروں اور وعدوں کے ساتھ الیکشن لڑتی ہیں جن میں سے غالب اکثریت اہل تشیع سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی پارٹیاں ہیں ۔ یہی وجہ کہ الیکشنز میں کوئی بھی پارٹی اکثریت حاصل نہیں کر پاتی جس کی وجہ سے دسیوں پارٹیوں کے مختلف الخیال لوگوں کو جمع کر کے حکومت بنانی پڑتی ہے جو کہ شروع سے ہی کمزور اور بے اختیار ہوتی ہے ۔
شیعہ پارٹیوں میں باقائدہ الیکشنز میں حصہ لینے والی دو پارٹیوں الحکمہ اور السائرون کے سربراہ بالترتیب سید عمار الحکیم اور سید مقتدی الصدر کا تعلق اہل تشیع کے انتہائی قابل قدر علمی مذھبی گرانوں سے ہے کہ جنہوں نے صدام کے دور میں انتہائی سخت صعوبتوں کا مقابلہ کیا اور سینکڑوں شہداء دئے ۔ لیکن ان دونوں شخصیات کے درمیان اختلافات واضح طور پر محسوس کئے جا سکتے ہیں۔ دیگر شیعہ سیاسی پارٹیوں میں نوری مالکی کی حزب الدعوہ ۔ ہادی العامری کی الفتح اور سابق وزیر اعظم حیدر العبادی کی النصر پارٹی قابل ذکر ہیں
3۔ عشائر یا قبائل ۔ عشائر کا نظام عربوں میں بالعموم اور عراق میں بالخصوص انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔اس کا سبب یہ ہے کہ قبیلہ عراق کے معاشرتی ترکیب میں ایک بنیادی جز کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اور قبیلہ کے افراد خوشی اور غم کے مواقع پر بالکل ایک گھر کے افراد کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ قبائل کا اپنا صدیوں پرانا نظام اور آداب و اطوار ہیں جن کو بڑے اہتمام کے ساتھ یہ قبائل اپنے سرداروں کی سربراہی میں نبھاتے ہیں ۔ قبیلے کے افراد کی دوستی اور دشمنی میں بھی بطورعموم قبیلہ کا خیال رکھا جاتا ہے ۔ نیز تنازعات کی صورت میں قبائل کے سربراہاں اور بزرگوں کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔
مندرجہ بالا باتوں کو ذھن میں رکھتے ہوئے اب ہم حالیہ مظاہروں کی جانب نظر دوڑاتے ہیں۔
یکم اکتوبر 2019 سے ہونے والے مظاہرے ابتدائی طور پر ملک میں غربت ،اداروں میں مالی بدعنوانیاں اور عوام کے لئے بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے خلاف شروع ہوئے ۔ لیکن اس کی تیاری بعض حلقوں کی جانب سے کئی مہینوں سے جاری تھی ۔
مظاہرے بغداد میں کیوں خونی ہوئے
اس احتجاج کا عام عراقی جوان کے نزدیک مقصد اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنا تھا ،مگر عالمی اور علاقائی قوتوں کو ان جوانوں کے ذریعے اپنے اپنے مفادات کا حصول مقصود تھا ، یہی وجہ ہے کہ جونہی یہ مظاہرے شروع ہوئے ہزاروں کی تعداد میں سوشل میڈیا اکونٹس ایکٹیو ہوئے اور ان مظاہرین کی بھر پور حمایت ہونے لگی ۔ ایسا ماحول بنایا گیا کہ ان مظاہروں کے بارے میں معمولی سا شک کا اظہار بھی مظاہرین کے جائز حقوق کی مخالفت کے زمرے میں داخل ہو گیا ۔ دوسری جانب جوانوں کے مطالبات بھی جائز تھے اس لئے ان کا پر جوش ہونا بھی ایک فطری عمل تھا ، اس سارے واقعے میں جو چیز سمجھ سے بالا تر تھی وہ عراق کی موجودہ حالات کا ذمہ دار وزیر اعظم عادل عبد المہدی کو ٹھہرانا تھا ،کیونکہ ان کو حکومت میں آئے ابھی ایک سال کچھ مہینے ہی ہوئے تھے ۔ مگر چونکہ امریکہ اور امریکہ کے حواری چند دیگر ممالک کا اصل ھدف ہی عادل عبد المہدی کی حکومت کو گرانا تھا ، اس مختصر دور حکومت میں اس پر نہ کوئی بد عنوانی کا الزام تھا نہ کوئی اور سنگین الزام ایسے میں عادل عبد المہدی کو لوگوں کی نظروں میں مجرم ٹھرانے کا ایک ہی راستہ تھا کہ مظاہرین میں سے بعض کا خون بہایا جائے ،اس ضرورت کے پیش نظر بغداد میں مظاہرے کے شروع کے دنوں میں ہی لاشیں گرائی گئیں اور پھر لوگوں کے نزدیک عبد المہدی ایک قاتل اور مجرم کی شکل میں ظاہر کیا گیا ۔ اب مظاہرین کاسب سے بڑا مطالبہ ہی یہ ٹھرا کہ وزیر اعظم استعفی دے ۔
ناصریہ اور نجف میں پرتشدد مظاہرے کیوں ؟
یہ مظاہرے عراق کے صرف شیعہ نشین علاقوں میں کئے گئے اور بغداد کے بعد نجف اور ناصریہ میں پر تشدت شکل اختیار کر گئے ۔ کیونکہ بغداد میں عبد المہدی کو مجرم ٹہرانے کے لئے لاشوں کی ضرورت تھی ،جبکہ ناصریہ میں (سجن الحوت)الحوت جیل میں ہزاروں کی تعداد میں داعشی دھشت گرد بند ہیں کہ جن کی اکثریت سعودی عرب سے تعلق رکھتی ہے ، لہذا ان مظاہروں سے استفادہ کرتے ہوئے الحوت جیل سے داعش کے خطرناک دہشت گردوں کو چھڑانے کی کوشش کی گئی جسے ناصریہ کے عشائر نے سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناکام بنایا ۔
جبکہ نجف عالم تشیع کا علمی اور روحانی مرکز ہونے کے اعتبار سے دشمنوں کو ہمیشہ کھٹکتا رہا ہے ، یوں نجف کو ایک خطرناک فتنہ میں ڈالنے کے لئے ظاہرہ یہ پلان بنایا گیا تھا کہ مرقد شہید باقر الحکیم کو جلایا جائے اور پھر حکیم خاندان اور ان کے چاہنے والوں کے روپ میں جا کر مرقد شہید باقر الصدر کو جلایا جائےیوں حکیم اور صدر خاندان اور ان کے چاہنے والوں کے درمیان خون ریز لڑائی سے نجف کی گلیاں خون رنگ ہو جاتیں ۔ اس ناپاک منصوبے کے پہلے مرحلے پر عمل کرتے ہوئے شہید آیت اللہ باقر حکیم کے مرقد پر مشتمل کمپلیکس کا کچھ حصہ جلایا گیا اور اس دوران فائرنگ سے ایک درجن سے زائد جوان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔مگر اس منصوبے کے اگلے مرحلے پر عمل کی راہ میں مرجعیت اور عشائر رکاوٹ بن گئے، یوں نجف کو ایک خطرناک داخلی لڑائی میں جھونکنے کی کوشش ناکام ہو گئی ۔
حشد شعبی کے خلاف سازش
اس سارے معاملے میں امریکہ اور سعودیہ کا ایک اور بھی مشترکہ مفاد تھا وہ تھا حشد شعبی کو تحلیل کرنے کے کئے عراقی حکومت پر پریشر بڑھانا ۔ عراق پر داعش کے حملے کے بعد مرجعیت کے فتوی کے نتیجے میں ساری دنیا کے توقعات کے برعکس عراق کی پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن کر مرجعیت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے جان ہتھیلیوں پر رکھ کر نکلنے تو وہ اس مبارک تحریک نے حشد شعبی کی شکل میں عراق کو ایک عظیم تحفہ عطا کیا ۔ عاعش کی نابودی کے بعد اب امریکہ اور سعودی عرب ہر حال میں اس فورس کو ختم کرنا چاہتے ہیں ،جس کے لئے وہ عراقی حکومت پر دباؤ ڈالتے رہے ہیں ۔ بھر پور عوامی تائید رکھنے والی صاف شفاف کردار کے حامل اس فورس کو ختم کرنا حکومت کے لئے بھی ممکن نہیں ہے ، ایسے میں حالیہ احتجاجات کو خصوصی طور پر نجف میں پر تشدد شکل دے کر ،اور برطانیہ میں موجود چند ضمیر فروش لوگوں کے ذریعے آیت اللہ سیستانی کے گھر کا گھیراؤ کرنے کی بات کروا کر در اصل یہ قوتیں حشد شعبی کو غصہ دلا کر مظاہرین کے مقابل لانا چاہتے تھے تاکہ کچھ لاشوں کو گرا کر ان کا الزام حشد شعبی کے سر ڈالا جا سکے یوں بین الاقوامی طور پر اس پروپیگنڈا کو مزید تیز کرنے کا جواز نکل آتا کہ حشد شعبی کو تحلیل کرنا ضروری ہے ،لیکن حشد شعبی ان تمام مشکل حالات میں کسی قسم کا رد عمل دینے سے گریزان رہا جس نے امریکہ اور آل سعود کی خواہش کو ایک دفعہ پھر ناکامی کے قبرستان میں دفنا دیا ۔
ایرانی قونصلیٹ نذر آتش ہوئے
حکومت کے خلاف شروع ہونے والے ان مظاہروں میں دوسری چیز ان مظاہروں میں ایران مخالف جزبات کو ہوا دینا اور ایرانی سرکاری املاک کو جلانا تھا ۔ 3 کی نومبر 2019 کی شام کو مظاہرین نے کربلا میں ایرانی قونصل خانہ جلانے کی کوشش کی ، اور اسی وقت امریکی صدر نے ٹویٹ کی کہ عراق میں ایرانی قونصل خانہ جل رہا ہے ،در حقیقت ٹرمپ نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ ہم نے ٹھیک اسی تارٰیخ4 نومبر(1979) کو کہ جس میں ایرانی طلاب نے طہران میں موجود امریکی سفارت خانہ پر حملہ کیا تھا اور سفارت کاروں کو 444 دن تک یرغمال بنایا تھا ،اس کا بدلہ عراق میں لے لیا ۔14 نومبر کو قطر میں عراق ایران فٹ بال میچ میں جب عراق جیتا تو عراق میں موجود امریکی سفیر نے عراقی ٖفٹ بال ٹیم کی وردی پہنی اور سامنے فٹ بال رکھ کر تصویر سوشل میڈیا پر دی جس میں گویا ایران کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ اب کھیل ہمارے ہاتھ میں ہے ۔ اورپھر 27 نومبر کی رات نجف الاشرف میں ایرانی قونصل خانہ جلا دیا گیا۔ مظاہروں کے بارے میں مرجعیت کی رائے
نجف الاشرف میں موجود دینی مراجع حکومت کی تشکیل میں کسی قسم کی مداخلت کے قائل نہیں ہیں وہ لوگوں کو قابل اور اچھے لوگوں کو منتخب کرنے اور اسمبلیوں تک پہنچانے کی ترغیب دیتے ہیں مگر کون اچھا ہے کون برا یہ فیصلہ عوام کے اوپر چھوڑ دیتے ہیں ۔ عوام اپنی مرضی سے جن کو منتخب کرتے ہیں ،مراجع بھی انہی سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنی قوم کی خدمت کریں گے اور لوگوں کو سہولیات فراہم کرنے کی پوری کوشش کریں گے ۔
لیکن عراق میں منتخب حکومتوں کی جانب سے عوام کو سہولیات کی عدم فراہمی اور بہتر کارکردگی دکھانے میں مسلسل ناکامی کے پیش نظر آیت اللہ سیستانی نے سیاسی نمائندوں سے ملاقات کا دروازہ مکمل طور پر بند رکھا ہوا ہے ۔
بنا بر این جب عراق کے لوگوں نے اپنے حقوق کے لئے احتجاج کا فیصلہ کیا تو مرجعیت نے بجا طور پر ان احتجاجات کی حمایت کا اعلان کیا مگر روز اول سے اس بات پر زور دیا کہ احتجاج کو پر امن ہونا چاہئے ،پر امن احتجاج ہی عوامی امنگوں کے مطابق بہتر نتائج دے سکتا ہے ۔
ناصریہ اور نجف میں شدید بد امنی پیدا ہونے درجنوں جوانوں کی ہلاکت اور ایرانی قونصل خانے کے نذر آتش کئے جانے کے بعد عراق میں صورت حال انتہائی خوف ناک شکل اختیار کر گئی تھی ایسے میں تمام لوگوں کی نظریں ایک دفعہ پھر مرجعیت کی طرف تھیں ۔ داعش کو شکست دینے کے بعد اس خطرناک فتنے سے عراق کو صرف مرجعیت ہی نکال سکتی تھی ۔
29نومبر جمعہ کے خطبے میں آیت اللہ سیستانی کا پیغام دوسرے خطبے کے طور پر سید احمد الصافی نے پڑھ کر سنایا جس میں درج زیل نکات انتہائی قابل توجہ تھیں ۔
1۔ مرجعیت پر امن مظاہروں کی حمایت کرتی ہے
2۔ سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانا پرامن مظاروں کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے ،لہذا مظاہرین اپنی صفوں سے تخریب کاروں کو جدا کر لیں
3۔ حکومت عوام کو رلیف دینے میں ناکام رہی ہے اس لئے موجودہ حکومت کے حوالے سے پارلیمنٹ اپنا کردار ادا کرے ۔
4۔ مرجعیت کا امور سیاست میں کردار صرف نصیحت کنندہ کا ہے ،( انتخاب عوام کا حق ہے اور عوام کی خدمت کرنا سیاسی نمائندوں کا فریضہ ہے ،خدمت میں ناکامی کی صورت میں آئینی طریقے سے حکومت کو برطرف کرنا بھی عوام کا حق ہے جس کے لئے راستہ پارلیمنٹ سے ہو کر گزرتا ہے کیونکہ بالاخر وزیر اعظم کا انتکاب پارلیمنٹ ہی نے کرنا ہوتا ہے) ۔
مرجعیت کی جانب سے اس نپتے تلے اور متوازن خطبے کے فورا بعد عراقی وزیر اعظم عادل عبد المہدی نے استعفی کا اعلان کیا۔ یوں اس خطرناک صورتحال سے نکلنے کا راستہ دکھائی دینا شروع ہوا مگر احتجاج اسی زور شور سے جاری رہا ۔جو کہ ابھی تک جاری ہے مگر مکمل طور پر پرامن احتجاج ہے ۔
سوال یہ ذھن مین آتا ہے کہ آیت اللہ سیستانی نے عراقی عوام مٰن اتنی مقبولیت کس طرح حاصل کی ہے ؟ وہ کونسی چیز ہے کہ جس کی بناء پر وہ بلا تفریق رنگ ونسل ،عقیدہ و مذھب ،اور سیاسی وابستہ گیوں سے بالاتر ہر عراقی کے لئے قابل احترام اور لائق اقتداء قرار پایا ہے ؟
یہ بات بھی ذھن نشین رہے کہ آیت اللہ سیستانی کے پاس عراق کی شہریت نہیں ہے ،وہ غیر میں موجود دیگر ممالک سے آنے والے دینی طالب علموں کی طرح ہر دو سال بعد اپنا اقامہ رینئو کرواتا ہے عراق میں اتنے عرصے سے رہائش پزیر ہونے ،اور دنیائے تشیع کا مرجع قرار پانے کے باوجود ان کا اپنا گھر نہیں ہے بلکہ حرم امیر المؤمنین کے قریب ایک خستہ حال گلی میں کرائے کے ایک خستہ مکان میں کرائے پر رہائش پزیر ہے ۔
آیت اللہ سیستانی جب آیت اللہ خوئی کی رحلت کے بعد مرجعیت کے مقام پر فائز ہوئے تو اس وقت شیعیان عراق سابق ڈکٹیٹرصدام کے شدید ترین مظالم کی چکی میں پس رہے تھے ۔ خصوصا حوزہ علمیہ اور علماء دین انتہائی مشکل دور سے گزر رہے تھے ۔
سقوط صدام کے بعد سے بہت سے سخت مراحل میں سید سیستانی کی بصیرت ،معاملہ فہمی ، تدبر ،اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کے اقدار کی حفاظت اور تعلیمات اہل بیت علیہم السلام کے مطابق عمل نے عراق اور اہل عراق کو نجات دی ۔
ملک کی سیاست میں عوامی نمائندگان کو بہترین نصیحت کرنے اور عوام کو شعور دلانے کی کوشش کرتے رہے مگر عملی طور پر مرجعیت کو سیاست سے لا تعلق رکھا ۔ جس کے نتیجے میں مرجعیت کا احترام برقرار رہا اور مشکل اوقات میں مرجعیت کی طرف رجوع کرنے میں کسی کو کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی ۔
دیگر ماجع عظام اور ان کے مقلدین کے حوالے سے بھی آیت اللہ سیستانی نے عزت و احترام اور رواداری کی فضا کو ہمیشہ برقرار رکھا اور فقہی اختلافات کو مؤمنین کے درمیان برادرانہ ماحول کو متاثر کرنے کا موجب نہیں بننے دیا ۔
ان تمام باتوں کا نتیجہ تھا کہ عراق کے اندر زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بلا تفریق سید سیستانی کو اپنا رہبر ،رہنما اور خیر خواہ ماننتے ہیں ۔
اگر آیت اللہ سیستانی کا کردار ایسا نہ ہوتا تو پھر صورتحال یہ ہوتی آیت اللہ سیستانی بطور ایک شیعہ مجتہد عراق کے تمام شیعوں کا مرجع بھی قرار پاتا تو بھی عراق کی کل آبادی میں سے کردوں، اہل سنت اور غیر مسلم اقلیتوں کو ملا کر ملک کی چالیس فیصد آبادی کا ان سے کوئی تعلق نہ ہوتا ۔
جبکہ تقلید کے اعتبار سے عراق کے شیعوں کی ایک کثیر تعداد آج بھی صدر خاندان سے مربوط ہے ۔ ان کے علاوہ دیگر مراجع کے مقلدین اور شیرازی خاندان سے مربوط لوگوں کی تعداد بھی اچھی خاصی بنتی ہے ۔ اس کے علاوہ عراق کے ہمسایہ ممالک کے مفادات حفاظت اور بعض طاقتور ممالک کی جانب سے اس ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کو برقرار رکھنے کے لئے پراکسیز کا کردار ادا کرنے والوں کی بھی کمی نہیں ہیں ۔
ان تمام پیچیدگیوں کے باوجود ہر مشکل مرحلے پر عراقی عوام کی توقعات پر پورا اترتے ہوئے رہنمائی فراہم کرنا اوربھر پور انداز میں اپنی شرعی مبانی پر قائم رہتے ہوئے مشکلات کو حل کرنے کی صلاحیت ہی مرجعیت کو تمام لوگوں میں قابل قبول بنا رہی ہے ۔

 

یہ بھی دیکھیں

سب سے پہلے پاکستان!

محمد اکرم چودہری پاکستان ایک مرتبہ پھر ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں …