جمعہ , 7 اگست 2020

ہمسایہ ملکوں کی اقلیتوں کے بارے میں انڈیا کے دعوے کتنے درست؟

انڈیا کی حکومت نے شہریت کا ایک متنازع قانون متعارف کروایا ہے جس کے تحت اس کے تین پڑوسی ممالک سے آنے والے غیر مسلم پناہ گزینوں کو وہاں کی شہریت مل سکے گی۔

اس قانون کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے ایسے ہندو، سکھ، جین، پارسی اور مسیحی افراد بھی انڈیا کی شہریت کے لیے اہل ہوں گے جو ملک میں غیر قانونی طریقوں سے داخل ہوئے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ان ممالک میں بسنے والی اقلیتوں کی تعداد کم ہو رہی ہے انھیں اپنے عقائد کی وجہ سے حقوق کی پامالی کا سامنا ہے۔

اس قانون پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس میں سے مسلمانوں کو خارج کر کے انڈیا کی حکومت ان کے ساتھ مذہبی امتیاز کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

لیکن انڈیا کے پڑوسی ممالک میں بسنے والی غیر مسلم آبادی کے کیا حالات ہیں؟

انڈیا کے وزیرِ داخلہ امت شاہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں آباد اقلیتوں کی تعداد میں سنہ 1951 سے اب تک ڈرامائی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

سنہ 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد لاکھوں مسلمانوں نے انڈیا سے پاکستان کی جانب ہجرت کی تھی۔

امت شاہ کے مطابق سنہ 1951 میں پاکستان میں اقلیتیں کل آبادی کا 23 فیصد تھیں، لیکن ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کے باعث اس تناسب میں کمی آئی ہے۔

تاہم ایسے معلوم ہوتا ہے کہ امت شاہ نے پاکستان اور بنگلہ دیش (جو کہ 1971 سے قبل مشرقی پاکستان ہوا کرتا تھا) کے اعداد و شمار کو غلطی سے اکٹھا کر لیا ہے۔

مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی ہندو آبادی میں زیادہ کمی بیشی نہیں ہوئی اور 1951 میں 1.5 فیصد سے آج وہ دو فیصد پر کھڑی ہے۔

تاہم بنگلہ دیش میں ہونے والی مردم شماری سے یہ پتا چلتا ہے کہ وہاں بسنے والی اقلیتی برادریوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ سنہ 1951 میں بنگلہ دیش کی آبادی میں 22 سے 23 فیصد حصہ اقلیتوں کا تھا، جبکہ 2011 میں یہ کم ہو کر آٹھ فیصد رہ گئے۔

نیز بنگلہ دیش میں بسنے والی اقلیتی برادریوں کی تعداد میں تو کمی آئی ہے لیکن پاکستان میں نہیں۔

پاکستان اور بنگلہ دیش میں اور بھی کئی غیر مسلم اقلیتیں ہیں، مثلاً مسیحی، بودھ، سکھ اور پارسی وغیرہ۔ ان کے علاوہ پاکستان میں احمدی بھی بستے ہیں۔ یہ وہ فرقہ ہے جسے پاکستان کی حکومت نے 1970 کی دہائی میں غیر مسلم قرار دیا تھا۔

اندازوں کے مطابق پاکستان میں اس برادری کے تقریباً 40 لاکھ افراد بستے ہیں اور یہ ہی پاکستان میں بسنے والی سب سے بڑا اقلیتی گروہ ہے۔

دوسری جانب افغانستان میں ہندو، سکھ، بہائی اور مسیحی مل کر آبادی کا صرف 0.3 فیصد ہیں۔ سنہ 2018 میں افغانستان میں صرف 700 سکھ اور ہندو ہی بچے تھے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اس کی وجہ ملک میں سکیورٹی کی بدستور خراب صورتِحال تھی۔

غیر مسلم آبادی کے قانونی حقوق
انڈیا کے نئے شہریت کے قانون میں لکھا ہے: ’پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش کے آئین میں ریاست کے مذہب کا ذکر ہے۔ اس کی وجہ سے کئی ایسے افراد جو ہندو، سکھ، بودھ، جین، پارسی یا مسیحی برادریوں سے تعلق رکھتے ہیں انھیں مذہب کی بنا پر امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘

یہ بات سچ ہے کہ اسلام پاکستان کا قومی مذہب ہے اور افغانستان بھی ایک اسلامی ریاست ہے۔

لیکن بنگلہ دیش میں صورتِحال زیادہ پیچیدہ ہے۔ اگرچہ 1971 میں ریاست کی بنیاد سیکولر بنیادوں پر قائم کی گئی تاہم 1988 میں اسلام کو سرکاری مذہب قرار دے دیا گیا۔

اس حوالے سے ایک طویل قانونی جنگ 2016 میں اس وقت ختم ہوئی جب ملک کی عدالتِ عظمی نے اسلام کی سرکاری مذہب کے طور پر تاید کر دی۔

لیکن ان تمام ممالک میں اقلیتوں کو آئینی تحفظ موجود ہے اور اضافی حقوق بھی حاصل ہیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کی تاریخ میں کئی نامور ہندو گزرے ہیں اور دونوں ممالک میں ہندو چیف جسٹس بھی رہ چکے ہیں۔

پاکستان سے آنے والے ایک ہندو گروہ کی تصویر جو دلی کے ایک کیمپ میں رہائش پذیر ہے
کیا یہاں اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہوتا ہے؟
عام طور پر غیر مسلم اقلیتیں امتیازی سلوک اور ظلم و ستم کا شکار رہتی ہیں۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان میں توہین رسالت کے قوانین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ مبہم ہیں اور انھیں پولیس اور عدلیہ اپنی من مانی سے ایسے انداز میں نافذ کرتی ہیں جس سے مذہبی اقلیتوں کے ساتھ ہراسانی اور ظلم و ستم کے واقعات پیش آتے ہیں۔‘

حال ہی میں پاکستان سے دلی نقل مکانی کرنے والے ہندؤں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ سماجی اور مذہبی طور پر امتیازی سلوک کا سامنا کر رہے تھے۔ خاص طور پر پاکستان ک صوبے سندھ میں ہندو لڑکیوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

مگر یہ بھی درست ہے کہ انڈیا کے شہریت کے بِل جس میں احمدیہ برادری کا احاطہ نہیں کیا گیا کو بھی اپنے عقیدے کی وجہ سے امتیازی سلوک کا سامنا ہے کیونکہ انھیں مسلمانوں کی اکثریت ملحد قرار دیتی ہے۔

اور سنہ 2018 تک بہت سے توہین مذہب کے مقدمات ہندو اور مسیحت کے پیروکاروں کے بجائے مسلمانوں اور احمدیوں کے خلاف تھے۔

بنگلہ دیش میں کئی برس کے دوران ہندو برادری کی آبادی میں کمی کے تناسب کی بہت سی وجوہات رہی ہیں۔

متمول ہندو آبادی کے گھروں اور بزنس کو نشانہ بنایا گیا، کبھی حملے اس لیے ہوئے کہ وہ اپنے گھر بار چھوڑیں تاکہ ان کی زمین یا اثاثوں پر قبضہ کیا جائے۔

ہندوؤں کو مذہبی انتہاپسندوں کی جانب سے بھی نشانہ بنایا گیا۔

بنگلہ دیش کی حکومت نے انڈیا کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ وہاں اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

وزیر خارجہ عبدلمونم نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمارے پاس ایسی مثالیں نہیں ہیں کہ اقلیتوں کی ایذا رسائی ہو رہی ہے۔‘

اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق انڈیا میں سنہ 2016 سے سنہ 2019 کے درمیان مہاجرین کی تعداد 17 فیصد بڑھی۔

رواں برس اگست میں اقوام متحدہ میں رجسٹر ہونے والے سب سے زیادہ مہاجرین کا تعلق تبت اور سری لنکا سے تھا۔

بشکریہ بی بی سی اردو

یہ بھی دیکھیں

پنجاب اسمبلی میں تکفیری سوچ کا راج اور ہماری ذمہ داری!

تحریر: غلام مرتضی جعفری پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے …