جمعہ , 24 جنوری 2020

زیارت، مذہبی سیاحت اور ہمارے حکمران (1)

تحریر: ارشاد حسین ناصر

پاکستان ایران کا ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک ہے، جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ مذہبی و ہمسایانہ تعلقات ہیں، ان تعلقات میں پاکستان میں بسنے والے کروڑوں شیعیان حیدر کرار، جن کی ایران اور عراق میں مدفون آئمہ اہلبیت، انبیاء کرام، اولیاء اور دینی شخصیات سے عقیدتی وابستگی ہے، جن کے مزارات پر حاضری کیلئے سالانہ کروڑوں لوگ ان مقامات کا رخ کرتے ہیں۔ کوئی شک نہیں کہ اس مذہبی سیاحت سے ایران و عراق کو اچھی آمدنی ہوتی ہے، جو لوگ اتنی بڑی تعداد میں وہاں جاتے ہیں، ان میں سے جو نہایت غریب بھی ہو، وہ بھی کچھ نہ کچھ ضرور خریدتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں بھی اس کے ساتھ بہت سے لوگوں کا روزگار وابستہ ہے، جن میں ٹرانسپورٹرز، ایئر لائنز، ٹریول ایجنسیز اور سب سے بڑھ کر کوئٹہ سے تفتان تک کے مقامی تاجران، جن میں وہ غریب افراد بھی شامل ہیں، جن کا کوئی روزگار نہیں، مگر جب کانوائے کی شکل میں 100/200 بسیں ان کے علاقے میں آکر رکتی ہیں تو ان سے لوگ مہنگے داموں کھانے کی ہر شئے خریدتے ہیں، کیونکہ زائرین ایک طویل سفر کرکے یہاں پہنچتے ہیں، انہیں بہرحال کچھ نہ کچھ کھانے اور پینے کیلئے خریدنا ہوتا ہے، یہاں پچاس روپے کی چیز کم از کم سو روپے کی ملتی ہے۔

دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بائی روڈ سفر کرنے والے اکثر زائرین مالی طور پر مستحکم نہیں ہوتے، یہ وہ لوگ ہوتے ہیں، جو بائی روڈ سفر کی صعوبتیں برداشت کر لیتے ہیں، چونکہ ان میں پاس بائی ایئر ٹکٹس خریدنے کی سکت نہیں ہوتی۔ پاکستان میں ہمارے وزیراعظم نے مذہبی سیاحت کے فروغ کیلئے جو اقدامات اٹھائے ہیں، وہ سب کے سامنے ہیں، بالخصوص سکھ کمیونٹی کیلئے ہمارے حکمرانوں نے دل کھول کر کام کیا ہے، جس کا کریڈٹ بھی لیا جا رہا ہے اور دنیا کے سامنے کرتار پور گوردوارہ کم سے کم مدت میں بنا کر ویزہ پراسس کی مشکلات کو ختم کرکے ہندوستانیوں کیلئے کرتار پور کوریڈور کھولا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ انہیں مخصوص وقت کیلئے پاکستان آنے کی اجازت ہوتی ہے، وہ ہندوستان کی طرف سے آکر پرمٹ لیکر آتے ہیں، درشن کرتے ہیں، اپنی پوجا پاٹ اور مذہبی رسومات آزادی سے انجام دیتے ہیں اور پھر واپس چلے جاتے ہیں۔ کوئی شک نہیں کہ دنیا کا سب سے بڑا سکھ گوردوارہ بنا کر سکھ کمیونٹی کیلئے سہولیات دے کر پاکستان نے دنیا کے سامنے اپنا امیج بہتر کیا ہے اور اسے پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

اسی طرح یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بدھسٹ کیلئے بھی کافی کام کیا جا رہا ہے، چونکہ بدھ مذہب کی بہت سی اہم عمارات اور تاریخ ہمارے ہاں موجود ہے، جسے دیکھنے کیلئے اس مذہب کے پیروکار بھی پاکستان کا رخ کریں گے، اس سے بھی پاکستان کو بے حد فوائد ہونگے۔ عالمی سطح پر اس کو بھی پذیرائی حاصل ہوگی، جبکہ پاکستان آنے والے غیر ملکیوں سے یہاں کے عوام کو روزگار ملے گا۔ یہاں کی اشیاء میں آنے والوں کی دلچسپی ہوگی تو وہ خریداری بھی کریں گے۔ ہوٹلنگ انڈسٹری کو بھی فائدہ ہوگا، حکومت بھی ویزہ یا دیگر حوالوں سے اپنی آمدن کے ذرائع بنائے گی، یقیناً اس سے ملک کا امیج بھی بہتر ہوگا اور اس سے پہلے جو امن و امان کی بدتر صورتحال سے غیر ملکیوں نے پاکستان آنا چھوڑ دیا تھا، اب لوگ اس جانب رخ کریں گے۔ ہندوستان سے ہر سال سکھ کمیونٹی ہزاروں کی تعداد میں پہلے ہی ننکانہ صاحب جنم استھان بابا گورو نانک، دیگر اہم مقامات کے درشن اور حاضری کیلئے آتے ہیں تو حکومت ان کی سکیورٹی سے لیکر دیگر حوالوں سے ان کیلئے خصوصی انتظامات کرتی ہے۔

اب بات کرتے ہیں زائرین امام حسین و زائرین امام رضا کی، جو ایران و عراق جاتے ہیں، یہ پاکستانی عوام ہیں، کسی بھی غیر ملکی سے زیادہ پاکستان پر سب سے زیادہ حق انہی کا ہے، اس لئے کہ ان کے آبائو اجداد نے یہ پاکستان بنایا اور اس کے قیام کی جدوجہد میں اپنا سب کچھ لٹایا۔ ویسے تو یہ زائرین ہر وقت پاکستان سے بائی روڑ جاتے رہتے ہیں، مگر اب جب سے کانوائے کا سسٹم شروع کیا گیا ہے، تب سے مہینہ میں صرف دو بار یہ کانوائے تشکیل پاتا ہے، جس سے زائرین کو سراسر نقصان ہوتا ہے، لوگوں کا وقت برباد ہوتا ہے، بہت سے سرکاری ملازمین ہوتے ہیں، جن کی چھٹیاں ضائع ہو جاتی ہیں، کیونکہ کانوائے سے اگر ایک دن لیٹ ہوگئے تو آپ کو پندرہ دن انتظار کرنا پڑے گا۔ یہ پندرہ دن کوئٹہ میں گزریں یا تفتان بارڈر پہ، کسی عذاب سے کم نہیں، بالخصوص تفتان پہ پاکستان ہائوس میں اتنے دن انتظار کرنا کسی عذاب سے کم نہیں۔ یہاں ایک رات گزارنا کسی کمزور، بزرگ، بیمار یا مریض کا خاصا مشکل ہوتا ہے، چونکہ یہاں کسی قسم کی سہولیات نہیں ہیں۔

اوپر سے اگر سردی ہے تو سخت سردی (ناقابل برداشت) ہوتی ہے اور اگر موسم گرم ہے تو جلا دینے والی گرمی ہوتی ہے، ایسے میں یہاں اگر رش ہو جائے جو کہ کانوائے کی صورت میں ہو ہی جاتا ہے تو کئی مسائل سامنے آتے ہیں۔ ایک تو یہاں کی انتظامیہ فی پاسپورٹ ایک سو روپے وصول کرتی ہے، دوسرا یہاں پر کمبل، چٹائی، خیمہ کرائے پر ملتا ہے، کھانے اور چائے وغیرہ کی کنٹین بھی موجود ہیں، جو ناقص کھانا مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔ اربعین کے ایام میں اگرچہ اربعین فائونڈیشن پاکستان یہاں کافی فلاحی کام کرتی ہے، جس میں کمبل کی تقسیم، کھانے کی فراہمی، پانی کا انتظام اور نماز وغیرہ کا اہتمام بھی شامل ہے، مگر جس قدر لوگ ہوتے ہیں، اس قدر شائد ان کے وسائل نہیں ہیں۔ ابھی سنا ہے کہ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کا افتتاح ہوگیا ہے، وگرنہ یہاں تو پینے کیلئے پانی بھی خریدنا پڑتا تھا۔

ایک اذیت جس نے مجھے ذاتی طور پہ بے حد متاثر کیا، وہ کانوائے کی وجہ سے راستے میں کسی قسم کے واش رومز یا طہارت و نماز کا اہتمام نا ہونا ہے، چند گھنٹوں کا سفر اکیس گھنٹوں میں کروایا جاتا ہے، جس کے دوران خواتین اور مرد حضرات کیلئے طہارت کرنا انتہائی بے شرمی کا مقام بن جاتا ہے۔ ایک کھلے صحرا میں دن کے اوقات میں جب ہزاروں لوگ بسوں سے اتر کر یہ عمل انجام دیتے ہیں تو خواتین کیساتھ مرد حضرات جنہیں اس طرح طہارت کی عادت نہیں ہوتی، کافی دقت محسوس کرتے ہیں۔ کم از کم سٹاپ ایسی جگہ کیا جائے جہاں ٹوائلٹس بنے ہوں یا اگر جن جگہوں پر کانوائے کو روکنے کا امکان ہوتا ہے، جو کہ معین شدہ ہی ہے، وہاں ہوٹلز کیساتھ طہارت کا وسیع انتظام ہونا چاہیئے۔ ظاہر ہے کہ ان لوگوں کو کانوائے رکنے کی صورت میں اچھی خاصی آمدن ہوتی ہے۔

عمومی ایام سے ہٹ کے دو مواقع پر زائرین کا رش بہت زیادہ ہوتا ہے، جب روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں کی تعداد میں زائرین کی بسیں روانہ ہوتی ہیں، وہ دو مواقع محرم اور چہلم امام حسین کے ایام ہیں، ان ایام میں امیگریشن آفس پر بھی بہت سی مشکلات پیش آتی ہیں، امیگریشن آفس میں خواتین عملہ نہیں ہے، جبکہ رش کے ان دنوں میں اضافی کائونٹر بھی لگنے چاہیئے، تاکہ زائرین کا وقت ادھر ہی برباد نہ ہو۔ زائرین کو زیارت کی راہ میں جو جومشکلات پیش آتی ہیں، ان کی ذمہ داری کس پہ عائد ہوتی ہے؟ حکومت کو کیا کرنا چاہیئے، ہمارے بزرگان و قائدین کو کیا کرنے کی ضرورت ہے، قافلہ سالار حضرات اور پاکستان میں ایران و عراق کے ویزہ دفاتر و سفارت خانے کیا کردار ادا کرسکتے ہیں، یہ سب اس مضمون کے دوسرے حصہ میں بیان کریں گے۔ ان شاء اللہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

یہ بھی دیکھیں

سب سے پہلے پاکستان!

محمد اکرم چودہری پاکستان ایک مرتبہ پھر ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں …