امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ بالخصوص عراق میں واشنگٹن کے مفادات اور تنصیبات کو کسی قسم کا نقصان پہنچا تو اس کی قیمت ایران کو چکانا ہوگی کیونکہ حالیہ ایام کے دوران عراق میں ہمارے فوجی اڈوں پر میزائل اور راکٹ حملوں کے پیچھے ایرانی وفادار ملیشیائوں کا ہاتھ ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ہم اس موقع کو ایران کو دہانی کے کا بہتر موقع سمجھتے ہیں اور اسے یاد دلاتے ہیں کہ ایران یا اس کے کسی وفادار ایجنٹ نے امریکا یا اس کے اتحادیوں میں سے کسی کے مفادات کو نقصان پہنچایا تو تہران کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔

ایک دوسرے بیان میں مائیک پومپیو نے لبنان میں کرپشن اور دہشت گردی کے خلاف عوامی احتجاجی مظاہروں کی حمایت کی اور کہا کہ لبنانی حزب اللہ ملیشیا کے خلاف پابندیوں کے ساتھ دیگر تمام ممکنہ طریقے بروئے کار لائے جائیں گے۔مسٹر پومپیو کا کہنا تھا کہ امریکا نے حزب اللہ کو فنڈنگ فراہم کرنے میں ملوث دو افراد پر پابندیاں عاید کی ہیں۔ یہ سلسلہ آگے بھی جاری رہے گا۔خیال رہے کہ جمعہ کے روز امریکی وزارت خزانہ نے لبنانی حزب اللہ ملیشیا کو فنڈ فراہم کرنے کے الزام میں دو لبنانی شخصیات پر پابندیاں عاید کی ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق حزب اللہ کی پابندیوں کی فہرست میں آنے والوں میں صالح عاصی اور ناظم سعید احمد کا نام شامل ہے اور یہ دونوں حزب اللہ کی مالی مدد کے لیے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے منصوبوں پر کام کرتے رہے ہیں۔ ناظم سعید احمد ہیروں کا تاجر ہے اور اسے حزب اللہ کا ایک بڑا مالی معاونت کار سمجھا جاتا ہے۔

ذرائع سے یہ اطلاع کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی وزارت خزانہ دو لبنانی شخصیات پر دہشت گردی کے لیے فنڈنگ اور دیگر الزامات میں پابندیاں عاید کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حزب اللہ کے خلاف فیصلہ کن پابندیاں عاید کرنے اور تنظیم کے مالی معاونت کاروں کو نکیل ڈالنے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔

ذرائع کے مطابق امریکا کے معاون وزیر خارجہ ڈیوڈ ہل جلد ہی بیروت کا دورہ کریں گے۔ اس کےعلاوہ عراق کا بھی دورہ کریں گے۔ مسٹر ہل عراق اور لبنان کے دورے کے دوران وہاں کے حکام کو بتائیں گے کہ امریکا ان کی صرف جامع اصلاحات  اور احتجاج کرنے والے طبقات کے اصولی مطالبات تسلیم کرنے کی شرط پر مدد فراہم کرے گا۔