جمعہ , 7 اگست 2020

امریکا کا بحرالکاہل میں ممنوعہ بیلسٹک میزائل کا تجربہ

واشنگٹن: پینٹاگون نے امریکا اور روس کے درمیان ہوئے ایک معاہدے میں ممنوعہ قرار دیے گئے میزائل کا تجربہ کرلیا۔مذکورہ معاہدہ گزشتہ برس ترک کردیا گیا تھا، اس پر اسلحے کی روک تھام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس ٹیسٹ سے ماسکو کے ساتھ اسلحے کی غیر ضروری جنگ شروع ہونے کا خطرہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق پروٹو ٹائپ میزائل کو غیر جوہری وار ہیڈ سے لیس کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔

تاہم پینٹاگون نے اس کی مزید خاصیت بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میزائل کو کیلیفورنیا میں موجود وینڈن برگ ایئر بیس کے اسٹیٹک لانچ اسٹینڈ سے لانچ کیا گیا جو کھلے سمندر میں گرا۔اس ضمن میں محکمہ دفاع کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا کہ بیلسٹک میزائل نے 500 میل سے زائد کی پرواز کی۔مذکورہ ٹیسٹ ایسے وقت سامنے آیا ہے کہ جب اسلحے کے کنٹرول کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی میں اضافہ ہورہا ہے۔

اس ضمن میں امریکا اور روس کے مابین ہونے والی نیو اسٹارٹ ٹریٹی 2010 فروری 2021 میں ختم ہوجائے گی جس کی شرائط پر مزید مذاکرات کیے بغیر اسے مزید 5 سال کے لیے توسیع دی جاسکتی ہے تاہم اس حوالے سے امریکی حکومت کی جانب سے عدم دلچسپی کا اظہار کیا گیا۔دوسری جانب پینٹاگون نے میزائل کی زیادہ سے زیادہ رینج بتانے سے بھی انکار کیا۔

گزشتہ موسمِ بہار میں امریکی عہدیداروں نے میزائل تجربے کے منصوبے کا انکشاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی رینج 3 ہزار سے 4 ہزار کلومیٹر تک ہوگی، یہ رینج چین کے مختلف حصوصن میں اہداف کا نشانہ بنانے کے لیے کافی ہے۔واضح رہے کہ 1987 کی انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر فورس (آئی این ایف) معاہدے کے مطابق زمین سے زمین تک مار کرنے والے ایسے کروز اور بیلسٹک میزائل جن کی رینج 500 کلومیٹر سے 5 ہزار 500 کلومیٹر ہو، ممنوع قرار دیے گئے تھے۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آئی این ایف کو ترک کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس معاہدے کی پابندی کررہے ہیں جبکہ روس نے امریکا کے اتحادیوں کو نشانہ بنانے کے لیے کروز میزائل نصب کر کے اس کی خلاف ورزی کی۔اس معاہدے کو ترک کرنے کے بعد اگست میں بھی پینٹاگون نے ایک آئی این ایف رینج کے کروز میزائل کا تجربہ کیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

بھارتی وزیر اعظم نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ہے : اسد الدین اویسی

سری نگر: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا ہے …