جمعہ , 24 جنوری 2020

امریکا کا حافظ سعید پر فرد جرم عائد ہونے کا خیر مقدم

واشنگٹن: امریکا نے پاکستانی عدالت کی جانب سے حافظ سعید پر فرد جرم عائد کرنے کے اقدام کا خیر مقدم کیا اور اسلام آباد پر زور دیا ہے کہ ان کے خلاف مکمل قانونی چارہ جوئی اور الزامات پر تیزی سے مقدمہ چلایا جائے۔ رپورٹ کے مطابق حافظ سعید کالعدم جماعت الدعوۃ (جے یو ڈی) گروپ کے سربراہ اور بھارتی شہر ممبئی میں 26 نومبر 2008 کو ہونے والے حملوں کے مرکزی ملزم ہیں۔قبل ازیں 11 دسمبر کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے حافظ سعید اور ان کے 3 ساتھیوں حافط عبدالسلام بن محمد، محمد اشرف اور ظفر اقبال پر دہشت گردی کے لیے مالی معاونت پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے جنوبی اور وسطی ایشیا ایلس جی ویلز نے کہا کہ ’ہم حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں پر فرد جرم عائد کرنے کا خیر مقدم کرتے ہیں’۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے تدارک کے لیے بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق مکمل قانونی چارہ جوئی اور مقدمے کی فوری سماعت کو یقینی بنائے اور 26/11 جیسے دہشت گرد حملوں کے قصورواروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے‘۔

خیال رہے کہ فرد جرم عائد کیے جانے کا یہ اقدام عسکری گروہوں کو ملک میں فنڈز جمع کرنے سے روکنے اور عسکری کارروائیوں میں ملوث افراد کے خلاف فوری ایکشن لینے کے لیے پاکستان پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کا نتیجہ ہے۔یاد رہے کہ حافظ سعید، اقوام متحدہ کی جانب سے نامزد کردہ عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہیں اور امریکا کے محکمہ خزانہ نے بھی انہیں خصوصی نامزد عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا جبکہ 2012 سے ان کی گرفتاری پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام بھی رکھا ہوا ہے۔

3 جولائی کو کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید اور نائب امیر عبدالرحمٰن مکی سمیت اعلیٰ قیادت کے 13 رہنماؤں پر انسانی دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے تقریباً 2 درجن سے زائد کیسز درج کیے گئے تھے۔محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی)کا کہنا تھا کہ جماعت الدعوۃ اپنے فلاحی ادارے الانفال ٹرسٹ، دعوۃ ارشاد ٹرسٹ، معاذ بن جبل ٹرسٹ وغیرہ کے ذریعے جمع ہونے والا فنڈ دہشت گردوں کی مالی معاونت کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

قبل ازیں 5 مارچ کو دونوں تنظیموں پر انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت پابندی عائد کرنے کا اعلامیہ جاری کرتے ہوئے ان کے ناموں کو ایکٹ کے شیڈول ‘ون’ میں شامل کر دیا گیا تھا۔ان تمام فلاحی اداروں کی تحقیقات کے بعد جماعت الدعوۃ سے تعلق کا پتہ لگنے پر اپریل میں ان پر اور ان کی اعلیٰ قیادت پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

بعدازاں 17 جولائی کو سی ٹی ڈی حکام نے جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کو دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے الزام میں لاہور سے گوجرانوالہ جاتے ہوئے گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کردیا تھا۔3 ستمبر کو لاہور ہائی کورٹ نے حافظ محمد سعید کے خلاف دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کا کیس گوجرانوالہ سے لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔جس کے بعد 11 دسمبر کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے دہشت گردوں کی مالی معاونت کے الزام میں کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں پر فرد جرم عائد کردی تھی۔

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ حجاج المعروف سعودی عرب کے شہر دمّام میں سعودی لڑکیوں کی وین پر فائرنگ

مقبوضہ حجاج المعروف سعودی عرب کے مشرقی شہر دمّام میں لڑکیوں کی وین پر فائرنگ …