ہفتہ , 8 اگست 2020

متنازع شہریت بل، انڈیا بھی اسرائیل کے نقشِ قدم پر چل پڑا

تحریر: تصور حسین شہزاد

انڈیا اور اسرائیل کے تجارتی تعلقات کا جہاں شہرہ ہے، وہیں انڈیا انتظامی معاملات میں بھی اسرائیل کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ اسرائیل نے جس طرح فلسطین کی زمین پر قبضہ کیا، فلسطینیوں کو بے دخل کیا، اُن کی املاک پر قبضے کئے۔ ان کی قتل و غارت کی، ان کی ناکہ بندی کرکے ادویات اور خوراک کی سپلائی بند کی۔ عین اُسی طرح انڈیا بھی کشمیر میں بالخصوص اور انڈیا بھر میں بالعموم ویسا ہی کر رہا ہے۔ اسرائیلی طرز پر ہی کشمیر میں ہندووں کو بسایا جا رہا ہے۔ کشمیریوں کے کاروبار، املاک پر قبضے کیئے جا رہے ہیں۔ کشمیریوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ کشمیر سے اُردو کو ختم کرکے ہندی میں تعلیم دینے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ کشمیریوں کی اسرائیلی طرز پر ہی غزہ جیسی ناکہ بندی کر کے ادویات اور خوارک کی سپلائی روک دی گئی ہے اور انڈیا ہندووں کو ترغیب دے رہا ہے کہ وہ کشمیر میں آن بسیں، کشمیریوں کو کہا جا رہا ہے کہ وہ یا تو ہندو بن جائیں یا کشمیر چھوڑ کر پاکستان جا بسیں۔

ایسے ہی اسرائیل نے فلسطینیوں کیساتھ کیا، کہ وہ ہمسایہ مسلم ممالک میں جا بسیں، اور نام نہاد سنچری ڈیل بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے کہ فلسطینی اپنی زمین بیج دیں اور خود کسی مسلمان ہمسایہ ملک میں جا کر زمین خرید کر وہاں رہنا شروع کر دیں۔ بھارت نے رواں برس 4 اگست کو کشمیر میں لاک ڈاون کیا جو تاحال جاری و ساری ہے۔ اس کے بعد اب شہریت کے متنازع بل کی منظوری دیدی گئی ہے۔ اس بل کی رُو سے پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان میں بسنے والے کوئی بھی ہندو، سکھ، پارسی، بدھ، جین اور مسیح اپنے اپنے ممالک چھوڑ کر انڈیا میں آ بسیں، انہیں انڈیا کی شہریت دیدی جائے گی۔  نئے بل میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ مذاہب اور برادریوں کے لوگ اگر 6 سال انڈیا میں گزار لیتے ہیں تو 6 سال بعد وہ بھارتی شہریت کے حقدار ہو جائیں گے جبکہ اس سے قبل یہ مدت 11 برس تھی مگر اب اسے کم کر کے 6 برس کر دیا گیا ہے۔

بی جے پی کا خیال ہے کہ وہ شہریت بل کے ذریعے ہندووں کو تو شہریت دے گی مگر مسلمان اس بنیادی حق سے محروم ہو جائیں گے۔ نریندر مودی نے بھی اپنے ایک خطاب میں یہ بے بنیاد الزام عائد کیا تھا کہ ہمارے پڑوسی ملکوں میں ہندووں اور دیگر غیر مسلم اقلیتوں پر ظلم ہوتا ہے تو وہ انڈیا کے علاوہ کہاں جائیں۔ یہاں مودی یہ بھول گئے کہ انڈیا میں مسلمان اقلیت کیساتھ ان کا رویہ کیسا ہے؟۔ شہریت کے اس متنازع بل کیخلاف انڈیا میں کہیں پُرامن تو کہیں پُرتشدد مظاہرے جاری ہیں۔ مبصرین کہتے ہیں جس طرح نئے سرے سے شہریت کی تعریف کی جا رہی ہے اس کی رُو سے تو انڈیا کا جو تصور ہے، اُس کی ہی بنیاد ختم کی جا رہی ہے۔ نئی پالیسی جسے "وی دا پیپل آف انڈیا” کا نام دیا گیا ہے، اس میں اب مسلمان "دی پیپل آف انڈیا” کا حصہ نہیں رہے۔ اس پالیسی کے دوسرے حصے میں بھی بڑی تبدیلی کی گئی ہے۔ وہ تبدیلی عوامی سطح سے ہٹ کر مذہب کی بنیاد پر ہے۔ اس میں دوہرے معیار کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ جس میں اسلام کو دیگر تمام مذاہب کے مدمقابل لا کھڑا کیا گیا ہے۔ اس پالیسی سے اسلام کے ماننے والے ایک طرح سے بالکل الگ تھلگ ہو کر رہ جائیں گے۔

متنازع بل کی منظوری کے بعد انڈیا میں مسلمان بھارتی شہری نہیں بلکہ سبجیکٹ ہوں گے اور انڈین آئین اور قوانین میں ان کو وہ حقوق حاصل نہیں ہوں گے جو دیگر شہریوں کو حاصل ہوں گے۔ مودی اس بل کے حوالے سے رائے عامہ کو گمراہ کرتے پھر رہے ہیں۔ جھاڑ کھنڈ میں ایک جلسے سے خطاب میں مودی نے کہا کہ اپنے خادم پر بھروسہ رکھیں، کچھ نہیں ہوگا، شہریت ترمیمی بل میں ایسی کوئی بات نہیں جس سے آسام یا شمال کے باشندوں کے مفاد پر کوئی ضرب لگتی ہو۔ مودی نے کہا کہ ہم تو صرف کانگریس کی غلطیوں کی اصلاح کر رہے ہیں۔ اُدھر اس متنازع بل کے محرک بھارتی وزیر داخلہ اُمت شاء نے متنازع شہریت بل کیخلاف ہونیوالے مظاہروں کو کانگریس کی "حرکت” قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ کانگریس والے تشدد کو ہوا دے رہے ہیں۔ بھارتی وزیر داخلہ نے کہا میں شمال مشرقی ریاستوں کو یقین دلاتا ہوں کہ ان کی تہذیب، سماجی شناخت، زبان اور سیاسی حقوق سے کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہوگی بلکہ ہم ان کا تحفظ کریں گے، مگر انہوں نے یہاں مسلمانوں کا ذکر تک کرنا گوارا نہیں کیا، جو اصل میں اس بل کا بنیادی شکار اور ہدف ہیں۔

آسام میں صورتحال عجیب و غریب ہے، وہاں ایک خوف کی فضا ہے اور مقامی لوگوں کو اپنی سلامتی خطرے میں دکھائی دے رہی ہے۔ بھارتی مبصرین کہتے ہیں آسام میں جو احتجاج ہو رہا ہے اس میں ایک خوف پوشیدہ ہے۔ خوف یہ ہے کہ اگر پڑوسی ممالک سے آنیوالے ہندووں کو یہاں کی شہریت دیدی جاتی ہے تو آسام کے اصل باشندے اقلیت میں آ جائیں گے۔ آسامی نہیں چاہتے کہ بنگلہ دیش کے بنگالی بولنے والوں کو یہاں آباد کیا جائے۔ آسام میں یو این آر سی لایا گیا وہ 1985 میں راجیو گاندھی اور آل آسام طلبہ تنظیم کے درمیان معاہدے کا نتیجہ تھا۔ جس کے اب غیر متوقع نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ان میں مسلم تارکین وطن سے زیادہ غیر قانونی ہندو تارکین وطن نکلے تو اب یہ ان کیلئے پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔ اب آسامی مذہب کی بنیاد پر احتجاج نہیں کر رہے بلکہ ان کا مطالبہ یہ ہے کہ جو بھی غیر قانونی تارکین وطن ہیں اسے بلا تفریق مذہب و ملت آسام سے نکالا جائے۔ آسام میں دو مرکزی جماعتیں "آل آسام سٹوڈنٹس یونین” اور "کرشک سماج مکتی سنگھ” مظاہروں کی قیادت کر رہی ہیں۔ کرشک سماج مکتی سنگھ کے رہنما اکمل گوگوئی کو تو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ آل آسام سٹوڈنٹس یونین کی قیادت ایک 60 سالہ بزرگ سموجل بھٹہ چاریہ  کر رہے ہیں جنہیں پولیس گرفتار نہیں کر رہی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی قیادت میں مظاہروں میں شدت آتی جا رہی ہے۔

اس متنازع بل کیخلاف جہاں خود بھارت کے اندر احتجاج ہو رہے ہیں وہیں عالمی سطح پر بھی اس کی مذمت کی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس بل کو فرقہ وارانہ اور مسلم مخالف قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی تنظیم یو این ایچ آر نے بھی اپنے ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ہمیں تشویش ہے کہ انڈیا کا نیا شہریت کا ترمیمی قانون بنیادی طور پر امتیازی سلوک پر مبنی ہے۔ یو این ایچ آر نے مزید کہا ہے کہ یہ نیا قانون افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کو جبر سے بچانے کیلئے شہریت دینے کی تو بات کرتا ہے لیکن یہ سہولت مسلمانوں کو نہیں دیتا۔ متنازع بل کی منظوری پیر کی رات گئے لوک سبھا نے دی۔ اس بل کے حق میں 311 اور مخالفت میں صرف 80 ووٹ پڑے۔  مسلمانوں کے معروف رہنما اور حیدرآباد سے رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے بل کی بھرپور مخالفت کرتے ہوئے اسے ہٹلر کے قوانین سے بھی زیادہ بُرا قرار دیا۔ اسد الدین اویسی نے بل کی کاپی پھارتے ہوئے کہا کہ بل میں مسلمانوں کو شامل نہ کرنے سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا مگر یہ بتایا جائے کہ مسلمانوں کیخلاف اتنی نفرت کیوں ہے؟ انہوں نے کہا کہ حکمران جماعت بی جے پی کی جانب سے اس بل کا لانے کا مقصد بنگالی ہندووں کے ووٹ حاصل کرنے کے سوا کچھ نہیں۔

کانگریس کے رہنما ادھیر رنجن چودھری نے بل کو انڈین آئین کے منافی قرار دیا ہے۔ ادھیر رنجن چودھری کا کہنا تھا کہ یہ متنازع بل بھارتی معاشرے کو پیچھے لے جائے گا اور اس کا مقصد ایک خاص مذہب کے لوگوں کو نشانہ بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل آئین کی روح کے منافی ہے۔ جس میں سیکولرازم، مساوات اور سوشلزم کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مودی حکومت جن لاکھوں ہندو غیر قانونی تارکین وطن کو شہریت دینے کیلئے ترمیم کر رہی ہے، آسام  اور شمال مشرقی ریاستوں میں خود ان کی اپنی جماعت بی جے پی  بھی اس کی مخالفت کر رہی ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مودی کا مقصد جہاں اپنا ووٹ بینک بڑھانا ہے وہیں مسلمانوں کیلئے بھی انڈیا میں عرصہ حیات تنگ کرنا ہے۔  اس حوالے سے انڈیا میں اگر مسلمان اپنی بقا چاہتے ہیں تو انہیں متحد ہوکر فرقہ اور گروپوں سے بالا تر ہو کر اس بل کی مخالفت کرنا ہوگی، بصورت دیگر انڈیا میں مسلمانوں پر عرصہ حیات مزید تنگ کرکے ان کا جینا حرام کر دیا جائے گا۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

پنجاب اسمبلی میں تکفیری سوچ کا راج اور ہماری ذمہ داری!

تحریر: غلام مرتضی جعفری پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے …