ہفتہ , 8 اگست 2020

اسلامک یونیورسٹی میں پڑی مقدس لاش پہ جاری سیاست

تحریر: عمران خان

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں طلبہ تنظیمیوں کے درمیان ہونے والے مسلح تصادم کے بعد پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پہ موقف اور آراء کی یکطرفہ ٹرین چل رہی ہے۔ باوجود اس کے کہ اسلامی جمعیت طلبہ کا ایک رکن جاں بحق جبکہ 8 کارکن شدید زخمی ہیں، پھر بھی جمعیت کے کارکنوں کو ہی مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔ کیوں۔؟ اس کیوں کا کوئی مدلل جواب نہیں۔ کوئی اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنوں کو خدائی فوجدار کا نام دیکر یہ ثابت کرنے پہ کمر بستہ ہے کہ ’’شرارت‘‘ ضرور جمعیت کے لڑکوں کی ہوگی۔ کوئی پنجاب یونیورسٹی میں ہونے والی متشدد کارروائیوں کا حوالہ دیکر واقعہ کو عمل کا ردعمل قرار دے رہا ہے۔ کسی کے خیال میں مذکورہ متشدد واقعہ دو تنظیموں کے درمیان تصادم نہیں بلکہ جمعیت اور دیگر تنظیموں کے درمیان اختلاف کا نتیجہ تھا۔ ایک سینیئر تجزیہ کار نے سوشل میڈیا پہ سوال اٹھایا کہ ’’اسلامک یونیورسٹی میں پیش آنیوالا واقعہ قابل مذمت، مگر سوال یہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں متحارب گروہوں میں ایک نام ہمیشہ اسلامی جمعیت طلبہ کا ہی کیوں ہوتا ہے۔؟‘‘

الغرض جتنی بھی آراء میڈیا میں جگہ پا رہی ہیں، وہ جمعیت کی حمایت یا مخالفت میں ہیں، ایک تنظیم یعنی ’’اسلامی جمعیت طلبہ‘‘ ہی موضوع ہے، اس کی مخالفت میں تنظیمی شناخت کے ساتھ کوئی موقف سامنے نہیں آرہا، جس سے اس امر کو تقویت ملتی ہے کہ مسلح تصادم میں ایک فریق تو جمعیت ہے، مگر دوسرا فریق کوئی مخصوص لسانی، مذہبی یا سیاسی تنظیم نہیں ہے۔ پرنٹ اور سوشل میڈیا کی متعدد خبروں میں یہ بتایا گیا ہے کہ سرائیکی کونسل کے طالب علموں نے جمعیت کے کنونشن پہ حملہ کیا، مگر اس کی تصدیق نہ ہی جمعیت کے ذمہ داران نے کی اور نہ ہی سرائیکی کونسل سے تعلق رکھنے والے طالب علموں نے خود کو جھگڑے کا فریق قرار دیا۔ اسلامی یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے جنرل سیکرٹری نے اپنے ابتدائی ردعمل میں کہا کہ ’’فائرنگ کے باعث ہمارے 20 کارکن زخمی ہوئے ہیں جبکہ بی ایس تھرڈ سمسٹر کا طالب علم طفیل الرحمان شہید ہوگیا ہے۔ جمعیت کے چار کارکن انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں ہیں، جن کی حالت تشویشناک ہے، ایکسپو پہ حملے کی اصل ذمہ دار یونیورسٹی کی انتظامیہ ہے۔‘‘ فریق مخالف اگر سرائیکی کونسل یا کوئی بھی تنظیم ہوتی تو اس کا نام لیا جاتا۔

موقع پہ موجود طالب علموں کا بیان ہے کہ یونیورسٹی میں ایکسپو کا انعقاد کیا گیا تھا۔ میلے کے دو دن لڑکوں جبکہ آخری دن خواتین طلبہ کو بھی شرکت کی اجازت تھی۔ میلے کے آخری روز خواتین طالبات نے بھی میلے میں شرکت کی، جو بظاہر لڑائی کی وجہ بنی۔ بعض طالب علموں نے اس بات پہ اعتراض کیا کہ لڑکیاں اس میلے میں کیوں شریک ہیں۔ اسلامک یونائیٹڈ سٹوڈنٹ فیڈریشن جس میں تمام صوبائی کونسلز کی نمائندگی ہے، نے موقعے پر جا کر اس مسئلے کو اٹھایا کہ یونیورسٹی قواعد و ضوابط کے تحت ایسی تنظیمی سرگرمیوں پہ پابندی ہے، اگر باقی تنظیموں کیلئے جن امور پہ پابندی ہے تو اس کام کی جمعیت کو اجازت کیونکر دی گئی ہے۔
اُسی وقت ہنگامہ برپا ہوا، ہاتھا پائی کے بعد بظاہر معاملہ ٹھنڈا ہوگیا، مگر پھر اچانک ہنگامہ شروع ہوگیا، جس میں فائرنگ ہوئی۔ فائرنگ کے وقت جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ خطاب کر رہے تھے۔

ایک سینیئر صحافی نے اس ہنگامے پہ بات کرتے ہوئے پولیس اور انتظامیہ کو مورد الزام ٹھہرایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ابتدائی ہنگامے کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی تھی، مگر وہ نہیں آئی جبکہ مسلح افراد یونیورسٹی میں خواتین کے گیٹ سے داخل ہوئے اور ان کے داخلے اور ہنگامے سے لیکر فائرنگ کے درمیان بہرحال اتنا وقفہ ضرور موجود تھا کہ پرامن طریقے سے درپیش مسئلہ کو سلجھا لیا جاتا، مگر یونیورسٹی انتظامیہ اور پولیس دونوں کی غفلت سے معاملہ فائرنگ تک پہنچا اور اس کے نتیجے میں ایک قیمتی جان گئی۔ سینیئر صحافی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ خواتین گیٹ سے داخل ہونے والے مسلح افراد کسی اور تنظیم کے نہیں بلکہ جمعیت سے ہی تعلق رکھتے تھے۔

واقعہ کے ایک عینی شاہد طالب علم کے مطابق کہ جمعیت اور سرائیکی کونسل کے طالب علموں کے درمیان کوئی جھگڑا نہیں تھا، بلکہ یونائیٹڈ فرنٹ اور جمعیت کے مابین تلخی تھی۔ یونائیٹڈ فرنٹ میں تمام صوبوں سے تعلق رکھنے والے طالب علم شامل ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے رولز کے مطابق یونیورسٹی میں کسی بھی قسم کا پروگرام کرنے کی ممانعت ہے۔ یونائیٹڈ فرنٹ جس میں پاکستان کے تقریباً صوبوں کی شناخت شامل ہے، انہوں نے جب یونیورسٹی میں پروگرام کا انعقاد کرنا چاہا تو اسی قانون کے تحت انہیں اجازت نہیں دی گئی۔ چند روز بعد جمعیت کے لڑکوں کو پروگرام کی اجازت دی گئی، جس کے خلاف یونائیٹڈ فرنٹ کے ذمہ داران نے یونیورسٹی انتظامیہ سے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ اسی احتجاج کو بنیاد بنا کر جمعیت سے تعلق رکھنے والے طالب علموں نے یونائیٹڈ فرنٹ کے ذمہ داران کو زود و کوب کیا۔

فائرنگ کے واقعہ سے کافی دیر قبل یعنی کوئی سوا پانچ بجے کے قریب جمعیت کے کارکنوں نے یونائیٹڈ فرنٹ کے رہنماء اور سرائیکی کونسل کے چیئرمین عمار علی پہ ڈنڈوں اور راڈوں سے حملہ کیا۔ اس حملے کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے، جس پہ انہیں ایمرجنسی میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ یہ ابتدائی ہنگامہ تھا، چیئرمین سرائیکی کونسل ہسپتال منتقل ہوگئے جبکہ ان کے چند ساتھی لڑکے جو حملہ آوروں کے ساتھ الجھے، انہیں جمیعت کے لڑکوں نے پکڑ کر ایک کمرے میں بند کر دیا۔ بند کئے گئے سرائیکی کونسل کے جن لڑکوں کی تصاویر جمعیت کے سوشل میڈیا اکاونٹس سے جاری کی گئی، وہ تصویر فائرنگ اور ہنگامے سے قبل کی ہے اور فائرنگ کے واقعہ کے وقت چیئرمین سرائیکی کونسل ہسپتال میں جبکہ ان کے ساتھی یونیورسٹی کے ہال میں بند تھے۔

سرائیکی اسٹوڈنٹس کونسل کے چیئرمین عمار علی نے ہسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ساڑھے پانچ بجے کے قریب جمعیت کے کارکنوں نے مجھ پہ حملہ کیا، آہنی راڈ لگنے سے میرا سر اور چہرہ زخمی ہوا، میرے دو ساتھی مجھے لیکر پمز ہسپتال پہنچے، ابتدائی علاج کی فائل میں وقت کا اندراج موجود ہے کہ میں کس وقت ہسپتال پہنچا۔ مجھے نہیں معلوم کہ مجھ پہ حملے کے بعد یونیورسٹی میں کیا ہوا ہے۔؟ لازمی طور پر اس بات کی تحقیقات کی جائیں کہ یونیورسٹی میں مسلح حملہ آور کون تھے اور مرنے والے طالب علم کے قتل کی تحقیقات ہونی چاہیئے۔ سرائیکی وسیب سے تعلق رکھنے والے دانشور نے واقعہ پہ اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمعیت طلبہ اور سرائیکی کونسل کے درمیان بظاہر ایسا کوئی مسلکی، نظریاتی یا سیاسی اختلاف موجود نہیں کہ جس کی بنیاد پہ معاملہ قتل، اقدام قتل تک پہنچے، جبکہ اختلاف اور شور شرابا تو طلباء تنظیموں کے درمیان چلتے ہی رہتے ہیں، مگر اسلامک یونیورسٹی میں ہونے والے ہنگامے کا نتیجہ بھی باقی تعلیمی اداروں کی صورت میں برآمد ہوا ہے۔

ملک کی دیگر درسگاہوں کی طرح اسلامک یونیورسٹی میں بھی اسلامی جمعیت طلبہ کی مخالف تنظیموں پہ متشدد، اسلحہ بردار اور قانون شکن ہونے کا لیبل لگ چکا ہے، ملک بھر کی جن یونیورسٹیوں میں جمعیت موجود ہے، وہاں اپنی مخالف تنظیموں کے بارے میں مسلح اور متشدد کا تاثر قائم کرانے میں کامیاب رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چند روز قبل جب طلبہ یونینز پہ عائد پابندی کے خاتمے پہ بات ہوئی تو پابندی کے حق میں جتنے بھی کالم اخبارات میں شائع ہوئے، ان تمام نے ملک کی مختلف یونیورسٹیز میں اب تک ہونے والے ہنگاموں کا حوالہ دیکر حکومت کو اس پابندی کے برقرار رکھنے کا مشورہ دیا۔ جن ہنگاموں کے حوالے دیئے گئے ان کے متحارب گروہوں میں ایک نام جمعیت اور دوسری کہیں سیاسی، کہیں مسلکی، کہیں لسانی تو کہیں قومی شناخت رکھنے والی تنظیمیں۔ یعنی اسلحہ اگر جمعیت کے پاس ہے تو باقی سب کے پاس بھی ہے، مار دھاڑ اگر جمعیت کرتی ہے تو باقی تنظیمیں بھی کرتی ہیں، قتل، اقدام قتل، اغوا، ناجائز اسلحہ سے متعلق ایف آئی آرز اگر جمعیت کے لڑکوں پہ درج ہیں تو باقی تنظیموں کے لڑکوں پہ بھی درج ہیں۔ یعنی تاثر یہ قائم ہے کہ سبھی ایک جیسے ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

اسلامک یونیورسٹی کے سانحہ کے نتائج پہ غور کریں تو سرائیکی کونسل کے تنظیمی صحن میں بھی ان کے امن پسند چہرے کی ایک لاوارث لاش پڑی ہے، بڑی قلیل مدت میں ملک کی متعدد بڑی جامعات میں اپنی خوشنما ثقافتی سرگرمیوں کے ساتھ نمایاں مقام بنانے والی سرائیکی کونسل کو جارحیت، قتل، اقدام قتل جیسے الزامات کے ذریعے کئی قدم پیچھے دھکیل دیا گیا ہے، جبکہ دوسری جانب یونیورسٹی کے صحن میں محمد طفیل سید کی وہ مقدس لاش موجود ہے کہ جس پہ جمعیت طویل المدت سیاسی حکمت عملی ترتیب دینے میں مصروف ہے۔ یہ سیاسی منصوبہ بندی ہی تو ہے کہ آپ نہایت کمزور اور حقائق کے برعکس ایف آئی آر درج کرائیں، تاکہ قاتل بھی نہ پکڑے جائیں، مخالف تنظیموں کو ملامتی کٹہرے میں بھی کھڑا کر دیا جائے اور قاتلوں کی گرفتاری کے مطالبے کا کارڈ بھی ہمیشہ ہاتھ میں رکھ کر انتظامیہ کو بھی دباؤ میں رکھا جائے۔ ایف آئی آر کی ضمنی میں بیان درج کرایا جا رہا ہے کہ فلاں نے فائرنگ کی اور طفیل کی شہادت ہوئی، پوسٹمارٹم رپورٹ بتا رہی ہے کہ سر میں لگنے والا پتھر جان لیوا ثابت ہوا۔

ایف آئی آر میں درج کرا رہے ہیں کہ جلیل بلوچ، علی عمار اور اصغر لاشاری و دیگر نے مسلح حملہ کیا۔ تینوں بندے موقع پہ موجود ہی نہیں، ایک ہسپتال میں پڑا ہے، دوسرا ڈیرہ غازی خان میں اپنے آبائی گھر اور تیسرا اسلام آباد ائیرپورٹ پہ موجود ہے۔ ایف آئی آر میں طفیل کے زخمی اور جاں بحق ہونے کا وقت ساڑھے آٹھ بتایا جا رہا ہے جبکہ علی عمار چھ بجے پمز ہسپتال کے اندر ابتدائی طبی امداد لے رہا تھا۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ جماعت نے جھوٹ پہ مبنی اتنی کمزور ایف آئی آر کا اندراج کیوں کیا کہ جس سے محمد طفیل قتل کیس خراب ہو۔ پولیس کو چاہیئے کہ پورے معاملے کی شفاف تحقیقات کرنے کرکے حقیقی مجرموں کو قرار واقعی سزا دلوائے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی تنظیم سے ہو۔ اسلامی جمعیت طلبہ ایبٹ آباد نے اپنے پیج پہ محمد طفیل سید کے قتل پہ شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعہ کا ذمہ دار جمعیت کے ذمہ داران کو ٹھہرایا ہے۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

پنجاب اسمبلی میں تکفیری سوچ کا راج اور ہماری ذمہ داری!

تحریر: غلام مرتضی جعفری پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے …