ہفتہ , 6 مارچ 2021

دنیا بھر کے یہودیوں کی اسرائیل کی طرف نقل مکانی میں تیزی

دنیا میں یہودیوں کی واحد ریاست ‘اسرائیل میں یہودیوں کی نقل مکانی کا سلسلہ تیز ہوتا جا رہا ہے۔اسرائیل کے اخبار یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق 2015 کے مقابلے میں 2014 میں یہودیوں کی نقل مکانی میں 13 فیصد اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2015 میں دنیا بھر سے 30 ہزار کے قریب یہودی اسرائیل منتقل ہوئے جبکہ 2014 میں اسرائیل نقل مکانی کرنے والے یہودیوں کی تعداد 26 ہزار 500 تھی۔اسرائیل نقل مکانی کرنے والے افراد کو یہودی مذہب کی مقدس زبان عبرانی میں ‘علیا’ کہا جاتا ہے۔فرانس اور یوکرائن سے سب سے زیادہ تعداد میں یہودیوں نے نقل مکانی کی، دونوں ممالک سے یہودیوں کی نقل مکانی 32 فیصد اضافہ ہوا۔یہودیوں کی اسرائیل آمد کا ریکارڈ رکھنے والی ایک ایجنسی ‘جیویش ایجنسی’ کے سربراہ چارمین ناتھن نے ان دو ممالک سے 2015 میں یہودیوں کی اتنی بڑی تعداد میں آمد کو ‘علیا کا ریکارڈ بنانے والا سال قرار دیا۔جیویش ایجنسی کے ترجمان یگال پلامور نے بتایا کہ 2015 میں گزشتہ 15 سال میں سب زیادہ نقل مکانی کرنے والا سال بن رہا۔
یگال پلامور نے اس حوالے سے مزید اعداد وشمار کا کہنا تھا کہ یوکرائن میں خانہ جنگی سے 2015 میں 6953 یہودیوں نے نقل مکانی کی جبکہ 2014 میں یہ تعداد 5921 تھی، یوں رواں برس یوکرائن سے اسرائیل نقل مکانی کرنے والے یہودیوں کی تعداد میں 15 فیصد اضافہ ہوا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یوکرائن میں موجود یہودیوں کی مجموعی تعداد کے 2 فیصد نے اسرائیل نقل مکانی کی ہے۔فرانس سے 2013 میں 3500 کے قریب یہودیوں نے نقل مکانی کی تھی 2014 میں یہ تعداد 7000 ہو گئی جبکہ رواں برس اس میں مزید اضافہ ہوا اور 7900 یہودیوں نے فرانس سے اسرائیل کا رخ کیا۔اس حوالے سے جیویش ایجنسی کے ترجمان یگال پلامور نے بتایا کہ معاشی پریشانی، ذاتی عدم تحفظ کا احساس، دہشت گردوں کے حملوں کے ساتھ ساتھ بعض اوقات یہودیوں کی مخالفت بھی وجوہات میں شامل ہے۔
واضح رہے کہ جیویش ایجنسی کے سربراہ چارمین ناتھن پہلے ہی یہ پیش گوئی کی تھی کہ فرانس سے یہودیوں کی اسرائیل نقل مکانی میں مزید اضافہ ہوگا اور یہ تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر جائے گی۔فرانس سے اندازے سے کم یہودیوں کی آمد پر یروشلم کے جیویش پیوپل پالیسی انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر ڈوو مائمون کا کہنا تھا کہ اندازے سے کم لوگوں کی آمد کی وجہ ‘سفید فام یہودیوں کے لیے نوکریوں کے حصول میں مشکلات ہو سکتی ہے۔اسرائیل کے ادارہ شماریات کے پاس موجود اعداد و شمار کے مطابق 2013 میں وہاں ایک سال یا اس سے زائد وقت کیلئے 16200 یہودی اسرائیل سے دیگر ممالک گئے ، ان میں سے 8900 یہودی واپس اسرائیل آئے۔اسرائیل کی ایک تنظیم انٹرنیشنل فیلوشپ آف کرسچنز اینڈ جیوز نے یہودیوں کی نقل مکانی کے لیے ایک پروگرام کا اعلان دسمبر 2014 میں کیا تھا، اس حوالے سے اس تنظیم کا کہنا تھا کہ ایک سال کے 2000 افراد کو یوکرائن، فرانس، مولدوا، ترکی، یوروگوائے، وینزویلا، عرب ممالک، اسپین اور اسپین کے زیر انتظام افریقی شہر ملیلا کو اسرائیل منتقل کیا گیا۔اس تنظیم نے 2016 میں یہودیوں کو اسرائیل منتقل کرنے کے پروگرام کو مزید وسعت دینے کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

شام پر حملہ کرنے والے اسرائیلی میزائل تباہ

شامی فوج نے صوبہ حماہ کی فضا میں اسرائیل کے میزائلی حملوں کو ناکام بنا …