بدھ , 12 اگست 2020

شور اور شعور

 

( ایک نو مسلم کے قلم سے )

ایک دن استاد جی فرمانے لگے او پتر یہ کچھ دنوں سے سڑکوں، ہسپتالوں اور کوٹ کچہریوں میں ہنگامہ آرائی ہے آخر ماجرا کیا ہے –
میں نے عرض کی کہ استاد جی ایک گروہ وہ ہے جو مظلوم کو انصاف دلاتا ہے یعنی وکلاء دوسرا گروہ وہ ہے جو مریض کو بیماری سے نجات دلاتا ہے  یہ تنازعہ انہیں دونوں کے مابین ہوا ہے میں نے مزید عرض کی کہ استاد جی یہ تو ہماری قوم کے ہیرو، مسیحا و نجات دہندہ بڑی بڑی ڈگریوں والے اعلیٰ تعلیم یافتہ، با شعور لوگ ہیں جو آپس میں مار پیٹ اور شور کررہے ہیں.
استاد جی نے ایک سرد آہ بھری اور فرمانے لگے او پتر یہ
شور اور شعور میں صرف ایک "ع” کا ہی فرق ہے جب”ع” سے علم آتا ہے تو شور شعور میں بدل جاتا ہے اور سارا ماحول پرسکون ہوجاتا ہے اور جب شعور سے علم والا "ع” نکل جاتا ہے تو پھر صرف شور ہی شور رہ جاتا ہے باقی رہی بات بڑی بڑی ڈگریوں کی تو ڈگری دراصل اخراجات کی رسید ہوتی ہے علم اور تربیت کا پتہ تو لوگوں کی سیرت و کردار اور گفتار سے چلتا ہے

یہ بھی دیکھیں

پچیس ذیقعدہ کا دن نزول رحمت اور فرش زمین بچھنے کا دن ہے

حضرت امام رضا علیہ السلام جب خراسان کے سفرکے دوران 25 ذیقعدہ کو مرو پہنچے …