جمعہ , 23 اپریل 2021

حزب اللہ کی طاقت جرمنی کے لیے پریشانی کا باعث بن گئی

برلن؛ جرمن پارلیمنٹ مشرق وسطیٰ سمیت دنیا میں حزب اللہ کی مقبولیت سے پریشان ہونے لگی ہے۔ جمعرات کو جرمن پارلیمنٹ میں ملسمانوں کی دفاعی تنظیم حزب اللہ پر پابندیاں عاید کرنے سے متعلق ایک بل پر رائے شماری کی گئی جس میں یہ بل بھاری اکثریت سے منظور کرلیا گیا ہے۔جرمنی کی دونوں حکمراں جماعتوں نے لبنانی حزب اللہ پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے یورپی یونین پر بھی زور دیا ہے کہ وہ حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرے۔

پارلیمنٹ میں قدامت پسند جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی پارٹی کے ترجمان میتھیاس مڈلبرگ نے کہا ہے کہ سوشل ڈیموکریٹس پارٹی کے ساتھ مل کر حزب اللہ کے خلاف مشترکہ فیصلہ کیا جائے گا۔اُنہوں نے ایک بیان میں مسلمانوں کی دفاعی تنظیم حزب اللہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کے لیے پوری دنیا میں فنڈز جمع کیے جاتےہے ہم حکومت سے جرمنی میں حزب اللہ کی تمام سرگرمیوں پر پابندی عاید کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

یورپی یونین مسلمانوں کی دفاعی تظیم حزب اللہ کے فوجی ونگ کو کالعدم دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل کر چکی ہے لیکن ان پابندیوں کا اطلاق حزب اللہ کے سیاسی ونگ پرنہیں ہوتا۔ حزب اللہ حالیہ برسوں کے دوران لبنانی حکومتوں کا حصہ رہی ہے اور اس کا سیاسی ونگ لبنان میں موثر سمجھا جاتا ہے۔

مڈل برگ نے کہا کہ حزب اللہ کے سیاسی اور ملٹری بازو کی علاحدگی ترک کردی جانی چاہیے اور حزب اللہ کو مجموعی طور پر یورپی یونین کی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ جرمنی میں حزب اللہ پر پابندیوں کے نفاذ سے اس تنظیم کے اثاثے اور رقوم منجمد ہوجائیں گی۔یہ واضح نہیں ہوا کہ آیا جرمن پارلیمنٹ کی طرف سے منظور کردہ بل کے نفاذ سے حزب اللہ کی تمام سرگرمیوں پر پابندی عاید کی جائے گی یا نہیں، تاہم حکمراں اتحاد اور دیگر سیاسی جماعتیں حزب اللہ پرپابندیوں کے معاملے میں متفق دکھائی دیتی ہیں۔

جرمن وزیر خارجہ ہائکو ماس نے تسلیم کیا کہ لبنانی حکومت کے ساتھ حزب اللہ کے تعلقات نے لبنان میں سیاسی صورت حال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ یہ سب اپنی جگہ مگرجرمنی میں ہمیں حزب اللہ کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کی روک تھام میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ حزب اللہ اپنے اسلحہ کے ذخیرے میں میزائلوں اور بھاری ہتھیاروں کا اضافہ کررہی ہے۔خیال رہے کہ حزب اللہ گذشتہ کئی سال سے لبنان کی سرحدوں سے باہر نکل کر اپنے خفیہ سیل تشکیل دینے میں مصروف ہے۔ بیرون ملک حزب اللہ کی سرگرمیوں کا ہدف امریکا اوراسرائیل کے مفادات کو نشانہ بنانا ۔گذشتہ برس حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ نے دھمکی دی تھی کہ اگر امریکا نے ایران پرحملے کی حماقت کی تو پوری دنیا میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا جائے گا۔

یہ بھی دیکھیں

میانمار مظاہرین کے جلوس جنازہ پر فوج کی فائرنگ

میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف مظاہروں اور مظاہرین پر فوج کی فائرنگ کا سلسلہ …