اتوار , 29 مارچ 2020

اسرائیل گیس سمجھوتے پر اردنی پارلیمان میں تنازع

عمان: اردن اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے گیس معاہدے کے باعث اردنی پارلیمان میں تنازع کھڑا ہوگیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان 2016ء میں طے پایا گیس معاہدہ بدھ کے روز نافذ کردیا گیا، جس پر عوام کی جانب سے سخت رد عمل کا اظہار کیا گیا۔ پارلیمان میں گیس معاہدے پرہونے والی بحث میں اکثر ارکان نے اسے تباہ کن اور ملک کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ واضح رہے کہ پارلیمان کی طرف سے اس معاہدے کی توثیق نہیں کی گئی ، تاہم وزیر اعظم الرزاز نے اسے کابینہ سے منظورکرالیا ہے۔ ارکان کا کہنا تھا کہ عمان اسرائیل کی بجائے کسی دوسرے پڑوسی ملک سے گیس کا معاہدہ کرے۔

ستمبر 2016 ء میں کیے گئے گیس معاہدے میں اردن کو جنوری 2020 ء سے 15 سال کے لیے 45 ارب مکعب میٹر گیس مہیا کی جائے گی۔ اردن کی قومی بجلی کمپنی کا کہنا تھا کہ معاہدے سے بین الاقوامی منڈیوں سے خریداری کے مقابلے میں اسرائیلی گیس کی خریداری کے ذریعے سالانہ 30کروڑ ڈالر کی بچت ہوگی۔ اسرائیل نے نئے سال کا آغاز ہونے پر اردن اور مصرکو بحیرئہ روم سے نکالی جانے والی گیس لیویتھن فیلڈ کے راستے فراہم کرنا شروع کردی ہے۔ اسرائیلی وزیر توانائی یووال اسٹینز نیکل کا کہنا تھا کہ اردن، مصر اور امریکی نوبیل انرجی کمپنی کے درمیان گیس معاہدے کے تحت اردن کو گیس کی برآمد کا آغاز کردیا گیا ہے، جب کہ مصر کو چند روز کے اندر گیس کی فراہمی شروع کردی جائے گی۔ اسٹینز نے عبرانی اخباریدیعوت احروت سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ساحل کے قریب لیویتھن گیس فیلڈ سے گیس کی ترسیل کے کامیاب تجربے کے بعد گیس کی فراہمی شروع کی گئی اور اس طرح اسرائیل اپنی تاریخ میں پہلی بار توانائی برآمد کرنے والا ملک بن گیا ۔

یہ بھی دیکھیں

بھارت میں لاک ڈاؤن: روزگار کے خاتمے، بھوک کے باعث لوگوں کی بڑی تعداد میں نقل مکانی

بھارت میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرے کو روکنے کے لیے حکومت کی جانب …