پیر , 6 جولائی 2020

ہندہ جگر خوار کی سیرت پر عمل پیرا اُوریا مقبول

تحریر: نصرت علی شہانی

قرآن و حدیث کی رُو سے آدمی جب حق کی دشمنی میں اندھا ہو جائے تو اس کا دل سیاہ اور مثبت فکری قوّتیں مسخ ہو جاتی ہیں۔ شریف لوگ بدترین دشمن کا بھی مرنے کے بعد بُرے الفاظ میں تذکرہ کرنے سے اجتناب کرتے ہیں، لیکن جن کی فطرت و سرشت میں خباثت کُوٹ کُوٹ کر بھری ہو، وہ بڑھاپے تک دل آزاری کے بدترین جرم کے ارتکاب سے باز نہیں آتے۔ تاریخ کا ایک ایسا ہی نجس و منحوس کردار ابوسفیان کی بیوی ہندہ تھی، جس نے اپنے بغض و عناد کی بنا پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا سید الشہداء حضرت حمزہؓ کا بعد از شہادت جگر چبایا تھا۔ حضور اور صحابہ کرامؓ نے اِس ملعونہ پر لعنت کی تھی۔ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی رہتی ہے۔ فکر و کردار نام بدلتے رہتے ہیں۔ بنو امیہ کے شجرہ خبیثہ کی نجس باقیات ہمیشہ سے رسول اکرم، ان کی اہلبیت ؑ اور پیروکاروں کو اذیت و آزار دے کر اپنی دنیا و آخرت کی رسوائی کو دعوت دیتی رہتی ہے۔

آج جبکہ اسلامی دنیا اور دیگر منصف مزاج لوگ انبیاءؑ کی سرزمین عراق میں امریکی دہشتگردی کی مذمت کر رہے ہیں، عراق کی سُنّی آبادیاں داعش کے نجس پنجوں سے نجات دلانے والے جنرل قاسم سلیمانی کا سوگ منا رہی ہیں، لاکھوں عراقیوں نے اس شہید مجاہد کے جنازے میں شرکت کی، 5 جنوری کو عراقی پارلیمنٹ جنرل سلیمانی کے حق میں نعروں سے گونجتی رہی، حماس کے راہنما شہید جنرل کے جنازہ میں شریک ہو کر خدمات کو خراج ِ تحسین پیش کر رہے ہیں، صد افسوس کہ وطن عزیز کے اہل قلم میں سے وحشی داعش کا اکلوتا حامی اوریا مقبول اپنی ممدوح دہشتگرد تنظیم کی قاسم سلیمانی کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست پر اِس شہید کی مظلومانہ شہادت کے بعد بھی اپنے بغض و کینہ کو چھپا نہ سکا۔

آج 6 جنوری کی مغلظات کے بارے بھی بعض احباب نے تو اِس فاتر العقل بوڑھے کے ذہنی معائنہ کی تجویز بھی دی ہے، جس نے یہ سوال کیا کہ قاسم سلیمانی کے ہاتھوں کوئی ایک اسرائیلی یا امریکی بھی مرا تھا؟ اگر اس کا حافظہ ختم ہوچکا ہے تو اپنے مغربی سرپرستوں سے ہی پوچھ لے کہ چند سال قبل لبنان، اسرائیل کی 33 روزہ جنگ میں جنرل سلیمانی نے کتنے اسرائیلیوں کو واصل ِجہنم کیا تھا؟ اپنے فکری مرشد دہشتگردوں کے سرغنہ ٹرمپ سے ہی پوچھ لے کہ فقط 3 دن قبل اس نے کیوں کہا تھا کہ جنرل سلیمانی ہزاروں امریکیوں کا قاتل تھا۔ اوریا کی طرف سے جنرل قاسم سُلیمانی پر کلمہ گو مسلمانوں کے قاتل ہونے کا الزام نیا نہیں۔ صدر ِاسلام سے اب تک منافقین، کفار، مشرکین، پیغمبر اکرم، آئمہؑ، صحابہؓ اور حقیقی مجاہدین پر یہی الزام لگاتے رہے۔

اوائل اسلام کی جنگوں اور کربلا میں بھی یزیدی لشکر بظاہر کلمہ گو مسلمان تھے، جنہیں امام حسین ؑ اور ان کے مجاہد ساتھیوں نے جہنم رسید کیا تھا۔ اوریا نے ایک بار پھر شام کے حوالے سے شر انگیزی کی ہے، جہاں قاسم سلیمانی کے ہاتھوں اس کی ممدوح وحشی داعش کا ابدی قبرستان ہے۔ اوریا کو اگر اس کے آقا و سرپرست اجازت دیں تو شام کے کیمپوں کی دیرینہ خود ساختہ مظلومیت کی داستان دہرانے کی بجائے حرمین کے جوار میں یمن کے لاکھوں مظلوم بچوں، مسلمانوں کی مظلومیت کے ذکر کی بھی جرات کرے، جس کی ان شاء اللہ اسے کبھی توفیق نہ ہوگی، کیونکہ اس کا نامہ اعمال ظالموں کی حمایت اور مظلوموں کی مخالفت سے سیاہ ہے۔

وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اس کی ممدوح، نام نہاد جہادی تنظیموں نے ہزاروں بے گناہ پاکستانیوں، عسکری تنصیبات وغیرہ کو ہدف بنایا۔ اِن مجرموں کے ہاتھوں اسرائیل یا امریکہ کے کسی کتے کو بھی تکلیف نہیں پہنچی تھی۔ اوریا جانتا ہے کہ اسرائیل، امریکہ اور داعش کو ناکوں چنے چبانے والے جنرل سلیمانی پر آج تک اُوریا یا اس کے حمایت یافتہ دہشتگردوں کے مسلک کی کسی مسجد، مدرسہ میں کسی خودکش دھماکے کا جھوٹا الزام بھی نہیں لگایا جا سکا اور نہ ہی عرب یا دیگر مسلمان ممالک حتیٰ کہ امریکہ، اسرائیل کے عام شہریوں کو بھی اُس عظیم مجاہد نے نشانہ بنایا، جبکہ امریکہ کے پالتو جن جہادی سرغنوں کی مثال اُوریا نے دی ہے، وہ تو عام شہریوں اور بے گناہوں کے ناحق خون میں ملوّث تھے۔ جنرل قاسم کی مزاحمت نہ ہوتی تو آج پاکستان بھی داعش کے ہاتھوں بے گناہوں کا مقتل بن چکا ہوتا۔ اُوریا کو اس بات کی بھی سخت تکلیف ہے کہ پاکستان سے اہلبیت ِ رسول و انبیاءؑ و صحابہ ؓ کے مزارات کے دفاع کیلئے نوجوان مجاہد شام کیوں گئے۔

باخبر حلقے بخوبی جانتے ہیں کہ ان حقیقی مجاہدین کے علاوہ یہاں سے کافی دہشتگرد بھی شام میں داعش کے یزیدی لشکر میں شامل ہوئے تھے۔ اس بارے میں اوریا کو بھی شامل ِتفتیش کیا جائے اوریا جیسے مُغرِض، متعصّب، اسلامی تعلیمات کی غلط تشریح کرنے والے، وحشی داعش کے حامی کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث مبارکہ کی غلط تشریح کا کوئی حق نہیں۔ اس منصب کے اہل جانتے ہیں کہ حضور کے فرامین کا مراد و مصداق کیا ہے۔ یہ شخص پہلے بھی دینی مقدسات کی توہین کرتا رہا ہے۔ لاکھوں شیعہ، سُنّی عراقیوں کے سفّاک قاتل صدام کی کربلا کے روشن کردار حضرت حُرؑ سے تشبیہ، داعشی درندوں کے ہاتھوں انبیاءؑ و صحابہؓ کے مزارات کی بے حرمتی کی مذمت کی بجائے دبے لفظوں حمایت کی جسارت پر کچھ دینی فورم اس شخص کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا عندیہ دے چکے ہیں۔ احادیث مبارکہ کی غلط تشریح بھی ایسا ہی سنگین جرم ہے، جس کا اہل علم حلقے نوٹس لیں۔ دعا ہے کہ اس شخص کا حشر نشر بھی اپنی ممدوح تنظیموں کے جہادیوں کے ساتھ ہو۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

اسلام آباد میں مندر

تحریر:منصور آفاق اطلاعات کے مطابق شدید مخالفت کے بعد اسلام آباد میں مندر کی تعمیر …