بدھ , 3 مارچ 2021

کیا مسلم حکمراں جمہوریت سے خوفزدہ؟

کرسمس کے موقع پر پاپائے روم نے ویٹیکن سے اپنے خطاب میں اس بات پر تشویش ظاہرکی کہ مشرق وسطی کے جس خطے میں یسوع مسیح پیدا ہوئے اور جس خطے میں مسیحی مذہب ظہور میں آیا اور پوری دنیا میں پھیلا آج عیسائیت اسی خطے میں خاتمے کی دہلیز پر ہے۔ ابھی چند عشرے قبل تک اس خطے میں صرف عیسائی ہی نہیں یہودی، پارسی اور دوسری مذہبی اقلیتیں بڑی تعداد میں آباد تھیں۔سنہ 2015 کیکرسمس کے موقعے پرجنگ زدہ دمشق کا ایک منظر کل ٹی وی چینلوں پرپوری دنیا میں نشر کیا گیا۔ تاریکی میں ڈوبیہوئے اس حسین تاریخی شہر میں کچھ سہمے ہوئے بچے اور ان کے والدین اپنے روایتی لباسوں میں ملبوس کرسمس منا رہے تھے۔ جب سے امریکہ اور دوسرے مغربی ملکوں نے شام میں خانہ جنگی کوفروغ دیا ہے تب سے وہاں مذہبی اقلیتوں کو انتہائی غیر انسانی حالات کا سامنا ہے۔
دولت اسلامیہ کی شکل میں شام اور عراق کے ایک بڑے حصے پر ایسے سنی مذہبی جنونیوں کا قبضہ ہے جنھوں نے اپنے مخالفین اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف جبر، ظلم، تشدد اور غارت گری کی ایسی تاریخ رقم کی ہے کہ جس کی ماضی میں بہت کم مثالیں ملتی ہیں۔ دولت اسلامیہ نے مذہبی منافرت اور تشدد کو ایک ایسی غیر انسانی سطح پر پہنچا دیا ہے کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔
دولت اسلامیہ کا مقصد سیاسی ہے لیکن اس کی بنیاد مذہبی جنون اور نفرت پر قائم ہے۔کرسمس سے چند روز قبل برونائی کے مسلم حکمراں نے ایک نیا قانون نافذ کیا جس کیتحت ان کی سلطنت میں اگر کوئی بھی شخص کرسمس منائے گا یا کسی کے پاس ایسی کوئی شے پائی جاتی ہے جو کرسمس منانے میں استعمال ہوتی ہو تو اسے پانچ برس قید کی سزا ہو سکتی ہے ۔کرسمس پر کسی کو مبارکباد کے پیغام پر بھی سزا کا اہتمام ہے۔
ایک وقت تھا جب سعودی عرب، شام، عراق، ایران، مصر، مراکش، اردن، یمن اور فلسطینی خطے میں مسلمانوں کیساتھ ساتھ بڑی تعداد میں عیسائی، یہودی، پارسی، یزیدی، دروز اور کئی دوسرے مذاہب کیلوگ مل جل کر رہا کرتے تھے۔ لیکن مذہبی جبر، تفریق اور منافرت کے سبب رفتہ رفتہ مذہبی اقلیتیں ان ملکوں سے یا تو کہیں اور چلی گئیں یا پھر ختم ہو گئیں۔ مذہبی اقلتیں ہی نہیں مسلمانوں کے مختلف اقلیتی فرقے بھی اکثریتی فرقے کے ظلم اور جبر کا ہدف بنتے رہے ہیں۔محض ایک دو ملکوں کو چھوڑکر دنیا میں مسلمانوں کی اکثریت والے کسی بھی ملک میں اقلیتوں کو مذہبی آزادی حاصل نہیں ہے۔ یہی نہیں بہت سے ملکوں نے اسلام کے بھی دروازے بند کر دیے ہیں۔ سعودی عرب نے تو مکہ اور مدینہ شہر میں ہی غیر مسلموں کے داخلے پر ہی پابندی لگا رکھی ہے۔مسلم اکثریت والے بیشتر ممالک سعودی عرب کویت، اردن اور متحدہ عرب امارات کی طرح کسی بادشاہ کی ذاتی ملکیت ہیں۔ ایران جیسیکئی ممالک سخت گیرملاوں کی گرفت میں ہیں۔ مصر اور شام جیسیکچھ ممالک الگ الگ قسم کے آمروں کے تحت آتے ہیں۔ ترکی، ملیشیا اور انڈونیشیا جیسے ممالک جمہوریت آمریت اور مذہبیت کیدرمیان کنفیوژڈ رہے ہیں، پاکستان اور بنگلہ دیش جیسی مذہبی جمہوریتیں سختگیریت سے لڑتے لڑتے اب لاغر ہوتی جا رہی ہیں۔مشرق وسطی کی ہی طرح بھارت کا شمالی خطہ بھی دنیا کے کئی بڑے مذاہب کے ظہور کا مخزن تھا۔ یہیں پر ہندوازم، بودھ مت، جین اور سکھ مذاہب نے جنم لیا۔ ان میں سے بیشتر ایک دوسرے کو چیلنج کرتے ہوئے وجود میں آئے۔ لیکن ہندو اکثریت والی بھارتی جمہوریت میں یہ سبھی مذاہب پھل پھول رہے ہیں۔ یہاں ہر مذہب کو برابر کا درجہ ہی حاصل نہیں ہے بلکہ انھیں اپنے مذہب کی تبلیغ اور تبدیلی مذہب کا بنیادی حق بھی حاصل ہے۔ ان میں سے کوئی بھی مذہب ختم نہیں ہوا۔ یہی نہیں یہاں صدیوں سے ہر اس مذہب کے لوگ آباد ہیں جو اپنے ملکوں میں ستائے گئے۔تو پھر کیا مسلم حکمراں آزادی، برابری اور آزادی اظہار کیجمہوری تصور سے خوفزدہ ہیں؟ کیا ان حکمرانوں نے اپنے سیاسی اور ذاتی مفاد کیحصول کیلیے مذہب کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ اس کا جواب اس حقیت میں پنہاں ہے کہ یہ حکمراں ہر طرح کی آزادی اور مذہبی مساوات کی مزاحمت کر رہے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

شام پر حملہ کرنے والے اسرائیلی میزائل تباہ

شامی فوج نے صوبہ حماہ کی فضا میں اسرائیل کے میزائلی حملوں کو ناکام بنا …