جمعرات , 9 جولائی 2020

ایرانی کیسے انتقام لیں گے!؟

تحریر: نذر حافی
ایرانی کیسے انتقام لیں گے!؟ اس وقت ہر طرف یہی سوال گردش کر رہا ہے، کسی کے نزدیک ایران کا ایک جنرل مارا گیا ہے، لہذا انتقام میں بھی کم از کم ایک جنرل مارا جانا چاہیئے۔ ایسا سوچنے والے دراصل قاسم سلیمانی کی شخصیت کو نہیں پہچانتے۔ وہ قاسم سلیمانی کو صرف ایک جنرل کے طور پر دیکھتے ہیں اور ان کے نزدیک ایک جنرل کے قتل کا بدلہ کسی جنرل کو قتل کرکے ہی لیا جا سکتا ہے، جبکہ قاسم سلیمانی محض ایک جنرل نہیں تھے بلکہ ایران کے سپریم لیڈر کے دستِ راست اور دنیا میں امریکہ و اسرائیل کے خلاف ہر مقاومتی تحریک کے محور تھے۔ اتنی بڑی اور آفاقی شخصیت کا بدلہ ٹرمپ سمیت سارے امریکی جرنیلوں کو قتل کرکے بھی نہیں لیا جا سکتا۔ یعنی کسی بھی امریکی جنرل یا ٹرمپ جیسے احمق اور سفاک درندے کا سر قاسم سلیمانی کے سر کا بدلہ نہیں ہے۔ لہذا ایرانی اس طرح کی چھوٹی موٹی کارروائی پر اکتفا نہیں کریں گے کہ ہم نے فلاں امریکی جنرل کو قتل کر دیا ہے اور اب انتقام ختم۔

کچھ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ شیعہ علماء اور مجتہدین امریکیوں کے قتلِ عام کا حکم دیں گے اور ہر جگہ امریکی شہریوں اور خصوصاً ایران میں مقیم یہودیوں پر شب خون مارا جائے گا۔ یہ سوچ اور فکر اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے، شیعہ مجتہدین کسی بھی صورت میں عام امریکیوں اور یہودیوں کے قتل عام کا فتویٰ نہیں دیں گے، چونکہ دینِ اسلام صرف اور صرف عادلانہ قصاص کی اجازت دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی عام اور نہتے امریکی یا یہودی کو قتل کر دیتا ہے تو وہ دراصل اسلام کو بدنام کرنے میں امریکہ اور اسرائیل کی مدد کرتا ہے۔ کوئی بھی شخص خواہ کافر ہی کیوں نہ ہو، اگر وہ بے قصور ہے تو آپ اسے کسی دوسرے شخص کے قصور کی وجہ سے قتل نہیں کرسکتے۔ لہذا ایران کبھی بھی امریکی اور یہودی عوام سے اس کا بدلہ نہیں لے گا، چونکہ وہ اس ظلم میں شریک نہیں ہیں۔ ایران میں اسلامی انقلاب کا مطالعہ کرنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ ایران منصفانہ انتقام اور عادلانہ قصاص پر یقین رکھتا ہے اور ایسا ہی انتقام لے گا۔

اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ منصفانہ قصاص اور عادلانہ انتقام کیا ہے
ایران نے کوئی معمولی نوعیت کا انتقام نہیں لینا کہ ایک جنرل کے بدلے میں جنرل مار دیا جائے، بلکہ ایران نے اس نقصان کا انتقام لینا ہے، جو مشرقِ وسطیٰ میں ایران کا ہوا ہے! وہ نقصان صرف یہ نہیں ہوا کہ ایران کا ایک جنرل شہید ہوگیا، نہیں بلکہ قاسم سلیمانی کی شہادت سے ایران کی خطے میں پالیسیوں کو دھچکا لگا ہے۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ ایران کی وہ پالیسیاں کیا تھیں!؟
وہ پانچ طرح کی پالیسیاں تھیں:
1۔ اسلامی ریاستوں سے داعش اور اس طرح کی دہشت گرد تنظیموں اور شدت پسند ٹولوں کو ختم کرکے مسلمان ریاستوں کو مستحکم کرنا۔
2۔ اسلامی ممالک میں یہ شعور پیدا کرنا کہ ان شدت پسند ٹولوں کو امریکہ اور اسرائیل تشکیل دیتے ہیں اور پھر ان سے مقابلہ کرنے کے نام پر اپنی افواج مسلمان ممالک میں داخل کر دیتے ہیں اور داخل ہونے کے بعد میزبان مسلمان ریاستوں سے حفاظت کے نام پر تاوان وصول کرتے ہیں۔

3۔ مسلمانوں کو اپنی ریاستوں کے تحفظ کیلئے ہر طرح کے فرقوں، قبیلوں اور علاقوں سے بالاتر ہوکر متحد ہو جانا چاہیئے، تاکہ انہیں امریکہ اور اسرائیل سے مدد مانگنے کی ضرورت نہ پڑے۔
4۔ مسلمان ممالک کے تمام قدرتی وسائل، پانی، جنگلات، پٹرول، گیس، سونا چاندی، ہیرے جواہرات، یہ مسلمانوں کی اپنی ملکیت ہیں، یہ وسائل کسی بھی صورت میں امریکہ، یورپ اور اسرائیل کو لوٹنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے۔
5۔ افغانستان، عراق، شام، قطر، بحرین، سعودی عرب، عرب امارات سمیت ہر جگہ امریکی اڈوں کی موجودگی دراصل مسلمان ممالک کے اقتدار اعلیٰ کی خلاف ورزی ہے، ان علاقوں سے استعماری اڈوں کا خاتمہ ہونا چاہیئے۔
مذکورہ بالا اہداف کے تناظر میں یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ ایران امریکہ سے کسی ایک ملک، علاقے یا ایک جنرل تک محدود ہوکر چھوٹے پیمانے پر انتقام نہیں لے گا، بلکہ وسیع تر مقاصد کے حصول کی خاطر مختلف اور وسیع تر رقبے، طولانی وقت اور جدید مہارتوں اور پیشرفتہ ٹیکنالوجی کے ساتھ طولانی اور تھکا دینے والا انتقام لے گا۔

ایران کے وسیع تر مقاصد کو اگر خلاصہ کیا جائے تو ایک تو تمام مسلم ممالک میں فرق و مذاہب اور قبائل کے درمیان وحدت اور بھائی چارے کی فضا کو فروغ دینا ہے اور دوسرے مشرقِ وسطیٰ سے امریکہ و اسرائیل کی بساط کو لپیٹنا ہے، یہ الٹتی ہوئی بساط جہاں مشرقِ وسطیٰ سے امریکی افواج کے انخلا پر منتہج ہوگی، وہیں اسرائیل کا خاتمہ اس کا نکتہ عروج ہوگا اور یہ بھی ممکن ہے کہ مشرقِ وسطیٰ سے امریکی انخلا کے بعد امریکی ریاست کی توڑ پھوڑ اور شکست و ریخت کا مرحلہ شروع ہو جائے۔ ایک زمانہ تھا کہ جب لوگ روس کے ٹوٹنے کو محال تصور کرتے تھے، لیکن ساری دنیا نے دیکھا کہ روس ٹوٹ کر بکھر گیا، اسی طرح آج ممکن ہے ہمیں امریکہ کا ٹوٹنا محال لگے، لیکن اگر ایران نے اسی طرح معقول، منصفانہ اور عادلانہ انداز میں انتقام لینے کی جدوجہد کو جاری رکھا تو یہ بات کوئی بعید نہیں کہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ میں اس طرح ناک رگڑے کہ جس کے بعد یکے بعد دیگرے امریکہ اور اسرائیل منحل ہو جائیں۔ سمجھدار لوگوں کیلئے یہ عرض کرتا چلوں کہ قاسم سلیمانی کو قتل کرنا امریکہ کے لئے چند لمحوں کا کام تھا، لیکن اس کے انتقام کی موج کئی ممالک اور کئی سالوں پر محیط ہوگی۔

ابھی قاسم سلیمانی کا جنازہ بھی دفن نہیں ہوا، لیکن ایران کے امریکہ سے انتقام کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ اس انتقامی سلسلے کی چند جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں؛
1۔ چند ہفتوں سے امریکی پروپیگنڈہ کر رہے تھے کہ عراقی عوام ایرانیوں کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں، چنانچہ امریکی حملے میں، قاسم سلیمانی کے ساتھ عراقی آفیسرز بھی شہید ہوئے ہیں، ان سب کے جنازوں میں عراقی عوام نے پورے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا ہے، کاظمین نجف اور کربلا کے مناظر سب نے دیکھے ہیں، عراقی لوگ قاسم سلیمانی کو یاد کرکے دھاڑیں مار کر رو رہے تھے اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ قارئین کی معلومات کیلئے یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ نجف اشرف میں ان شہداء کے جنازے ایک پاکستانی مجتہد آیت اللہ بشیر نجفی نے پڑھائے ہیں۔

سمجھدار لوگ اس سے سمجھ سکتے ہیں کہ جنازے ایرانیوں اور عراقیوں کے ہیں اور نماز جنازہ پاکستانی آیت اللہ نے پڑھائی ہے، اس کے علاوہ دنیا بھر میں عراق سمیت سوگ کا سماں ہے اور یہ سوگ انتقام کی آگ کے ہمراہ ہے۔ ہندوستان، پاکستان، آزاد کشمیر، مقبوضہ کشمیر، فلسطین، شام، لبنان الغرض جگہ جگہ لوگوں نے شیعہ و سنی، کرد و بلوچ، طالبان، سلفی و صوفی اور بریلوی سے بالاتر ہو کر قاسم سلیمانی کی شخصیت کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور امریکہ و اسرائیل سے نفرت کا اظہار کیا ہے۔ مسلمانوں کے درمیان یہ وحدت کا نیا جنم ایران کا پہلا انتقام ہے، یہ ایرانی انتقام کا پہلہ مرحلہ ہے کہ امریکہ جو مسلمانوں کو تقسیم کرنے کا ڈھول پیٹ رہا تھا، اس کا پول کھل گیا ہے۔ قاسم سلیمانی کی شہادت سے دنیا بھر کی مسلمان ملتیں ایک مرتبہ پھر بیدار اور متحد ہوگئی ہیں۔

اس اتحاد اور وحدت کے بعد اگلہ مرحلہ مسلمان ریاستوں سے امریکی افواج کے انخلا کا ہے، اس کی پہلی جھلک سامنے آچکی ہے، دم تحریر یہ خبر آگئی ہے کہ عراقی پارلیمنٹ نے عراق سے امریکی فوج کے انخلاء کی متفقہ قرارداد منظور کر لی ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ حکومت غیر ملکی افواج کی عراقی سرزمین پر عدم موجودگی کو یقینی بنائے اور غیر ملکی افواج کو عراق کی زمینی، فضائی اور بحری حدود کے استعمال کی اجازت نہ دی جائے۔ ابھی یہ قاسم سلیمانی کے جنازے کے دفن سے پہلے کے انتقامی مراحل ہیں، باقی عراقی فورسز، فلسطینی مقاومت، حزب اللہ اور یمنی ملائیشیا نیز اس طرح کے دیگر مقاومتی گروہ اور سب سے بڑھ کر ایران کے پاسداران کیا کچھ کرنے جا رہے ہیں، اس کا درست اندازہ ابھی تک کسی کو نہیں، بلکہ یوں سمجھئے کہ اب امریکہ اور اسرائیل بھی یہ نہیں جانتے کہ ان پر کس وقت اور کس جگہ کونسی قیامت ٹوٹنے والی ہے۔ ایسے موقعوں پر کہتے ہیں کہ لمحوں نے خطا کی۔۔۔۔۔۔ صدیوں نے سزا پائی

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

رنگ پرستی کا بت اور ہماری بے حسی

تحریر:ندا ڈھلوں گزشتہ ماہ امریکا میں ایک سیاہ فام جارج فلائیڈ کی ہلاکت نے پوری …