منگل , 28 جنوری 2020

شہید قاسم سلیمانی سے متعلق اٹھنے والے سوالات اور انکے جوابات

تحریر: نادر بلوچ

القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی ملیشیا کے نائب کمانڈر ابو مہدی مہندس کی المناک شہادت کے بعد پاکستان کے بعض صحافی حضرات اور کچھ فرقہ پرست عناصر طرح طرح کے سوالات اٹھا رہے ہیں، جو ناصرف تعصب پر مبنی ہیں بلکہ غیر منطقی اور غیر عقلانہ بھی ہیں، جن سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی ہمدردیاں شہداء کے اہل خانہ کے ساتھ نہیں بلکہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی امریکیوں کے حامی دکھائی دیتے ہیں۔ قرآن مجید کی تعلیمات کی روشنی میں ہمیں مظلوم کا ساتھ دینے اور ظالم کا مخالف بننے کا کہا گیا ہے، ہم یہاں ان تمام سوالات کے عقلی اور منطقی انداز میں جواب دینے کی کوشش کریں گے، تاکہ سادہ لوح انسان اس غلیظ پروپیگنڈے سے بچ اور اصل حقیقت جان سکیں۔

پہلا سوال یہ اٹھایا گیا ہے کہ قاسم سلیمانی عراق میں کیا کر رہے تھے۔؟ اب ان کو کون سمجھائے کہ وہ ایک ملک کی آفیشل فورس کے سربراہ تھے، جو عراق و شام کے آفیشل وزٹ پر تھے اور یہ اُن کا پہلا وزٹ بھی نہیں تھا۔ وہ اپنے پاسپورٹ پر سفر کر رہے تھے اور اب تو عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کا بیان بھی سامنے آگیا ہے، جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ان کی جنرل قاسم سلیمانی سے شہادت والے دن بغداد میں ملاقات طے تھی اور وہ ان کی دعوت پر آرہے تھے، لیکن امریکہ نے ایک غیر قانونی حملہ کرکے انہیں شہید کر دیا۔ عراقی پارلیمنٹ نے گذشتہ روز قرارداد منظور کی، جس میں جارح امریکی افواج کو عراق سے نکل جانے کا کہا گیا ہے اور قاسم سلیمانی اور ابو مہدی مہندس سمیت دیگر شہداء کو عراق میں امن قائم کرنے اور داعش کو شکست دینے پر بھرپور انداز میں خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ دوسرا ایران اور عراق کے درمیان حکومتی سطح پر دہشتگردی کے خاتمے کا معاہدہ ہے، جس کے تحت دونوں ملکوں کی فورسز مشترکہ آپریشنز کے ذریعے دہشتگردوں کا صفایا کرتی رہتی ہیں تو جنرل قاسم سلیمانی کے عراق میں ہونے سے متعلق اس بےمعنی سوال کا مقصد کیا ہے۔؟

سوشل میڈیا پر دوسرا سوال یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی افغان طالبان کا قاتل ہے اور انہوں نے اندرون خانہ امریکا کا ساتھ دیا ہے، یہ سوال سن کر ان عقل کے اندھوں پر ترس آتا ہے، سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا یہ والی بات افغان طالبان کو بھی معلوم ہے یا نہیں؟، اگر معلوم ہے تو وہ یہ بات کیوں نہیں کرتے اور ان کا تہران میں آفس کیوں ہے؟، کیوں افغان طالبان نے اپنے مذمتی بیان میں قاسم سلیمانی کو اپنا جہادی بھائی قرار دیا ہے اور کیوں ان کی المناک شہادت پر تعزیتی بیان جاری کرتے ہوئے امریکی اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔؟ اب ان تجزیہ کاروں سے کوئی یہ سوال بھی پوچھے کہ تم اندرون خانہ امریکہ کی حمایت کی بات تو کر رہے ہو، لیکن پاکستان جس نے افغان طالبان کی حکومت کے خاتمے میں اعلانیہ کندھے پیش کیے اور اپنی بیسز تک امریکہ کے حوالے کیں، اس پر کیا موقف رکھتے ہو۔؟ پانچ جنوری کے امت اخبار میں پاک فوج کے سابق سربراہ مرزا اسلم بیگ نے اپنے انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ جب پاکستان نے افغان طالبان کا ہاتھ چھوڑ دیا تو اس وقت قاسم سلیمانی شہید ہی تھے، جنہوں نے ان کا ہاتھ تھام لیا۔ کیا آپ سابق فوجی سربراہ مرزا اسلم بیگ سے زیادہ باخبر ہیں۔؟

کچھ افراد نے یہ کہا ہے کہ قاسم سلیمانی نے شام و عراق میں لاکھوں سنی مسلمانوں کو قتل کرایا ہے، اب یہ سوال اپنی جگہ پر موجود ہے کہ ان کی سنی سے مراد داعش ہے، جس کے خلاف شیعہ سنی نے ملکر جنگ لڑی یا کچھ اور ہے۔؟ حشد الشعبی عوامی رضاکار فورس میں تو سنی بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں، جنہوں نے داعش سے اپنے علاقے آزاد کرائے، ورنہ داعش تو بغداد سے 37 کلومیٹر دور تک پہنچ گئی تھی، کیا یہ بات ترک صدر رجب طیب اردوغان کو نہیں معلوم، جنہوں نے قاسم سلیمانی کے قتل کی ناصرف مذمت کی ہے بلکہ انہیں شہید بھی قرار دے دیا ہے۔؟ دوسرا جب عراق و شام کی حکومتیں اور وہاں کے تمام مذہبی رہنما (شیعہ و سنی) سب قاسم سلیمانی کو خراج تحیسین پیش کر رہے ہیں تو پھر تمہاری یہ دور کی کوڑی کس کھاتے کی ہے۔؟

ایک صاحب جن کا راقم نام لینا بھی پسند نہیں کرتا، اس نے وی لاگ میں انکشاف کیا ہے کہ بلوچستان میں قاسم سلیمانی نے سینکڑوں افراد شہید کرائے ہیں، یہ سن کر تو میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور سوچنے لگا کہ اس صاحب کی مراد علمدار روڈ کوئٹہ پر ہونے والے پے در پے واقعات ہیں یا زائرین کی بسوں کو نشانہ بنانے والے لشکر جھنگوی کے دہشتگرد، جن کو سی آئی اے اور سعودی عرب کی کھلی معاونت رہی ہے۔ جیش العدل اور جند اللہ نامی تنظیمیں تو پاک سرزمین سے آپریٹ ہوتی رہی ہیں، جنہوں نے ہمیشہ ایران کے اندر کارروائیاں کی ہیں تو اس صاحب کی مراد کیا ہے۔؟ ایک اور نام نہاد صحافی نے تو حد ہی کر دی، کہنے لگے کہ قاسم سلیمانی پاکستان مخالف تھے، انہوں نے کچھ ماہ پہلے پاکستان کے خلاف بیان دیا تھا، حالانکہ قاسم سلیمانی نے پاکستان کی مخالفت میں آج تک کوئی بیان نہیں دیا۔

ہاں سپاہ پاسدارن کے سربراہ نے اس وقت بیان ضرور دیا تھا، جب جیش العدل نامی تنظیم نے زاہدان میں سپاہ کی بس کو نشانہ بنایا تھا، جس میں اہم کمانڈر سمیت کم و بیش 27 افراد شہید ہوگئے تھے۔ ان کا بیان بھی پاکستان مخالف نہیں تھا بلکہ پاکستانی قیادت سے کہا تھا کہ اگر پاکستان جیش العدل نامی تنظیم کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر ہیں تو وہ سرحد پار اس تنظیم کے خلاف کارروائی کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے، جب جیش العدل نامی تنظیم ایرانی سرحدی محافظوں کو بھی اغوا کرکے پاکستان لے آئی تھی اور بعد میں پاکستان نے کردار ادا کرکے ان محافظوں کی بازیابی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ یاد رہے کہ قاسم سلیمانی نے ہماری نیشنل سکیورٹی کے ادارے کے سربراہ کو کہا تھا کہ اگر خدا نہ کرے پاکستان میں امریکہ یا کوئی اور حملہ کرے، اگر ایسا ہوا تو ان کی خوش بختی ہوگی کہ پاکستان میں امریکہ کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے شہید ہو جائیں۔

آخر میں وزیراعظم عمران خان سے کہوں گا کہ آپ سے تو افغان صدر اشرف غنی بھی زیادہ طاقتور ثابت ہوئے، جنہوں نے ایرانی قیادت اور عوام سے قاسم سلیمانی کی المناک شہادت پر تعزیت کی ہے۔ خان صاحب آپ مذمتی بیان تو دور کی بات، ایرانی قوم سے تعزیت کے دو بول تک نہیں بول سکے، آپ تو کہتے تھے کہ لیڈر اپنی عوام کی امنگوں کا ترجمان ہوتا ہے، آج آپ خاموش کیوں ہیں۔؟ یاد رکھیں کہ کوئی لیڈر یا رہنماء چھوٹا بڑا نہیں ہوتا، بلکہ لیڈر کے اسٹینڈز اور موقف اسے بڑا چھوٹا بناتے ہیں۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

فرعون وقت کے آشیانے میں صدائے موسیٰ

تحریر: سید اسد عباس ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے …