پیر , 6 جولائی 2020

امریکہ اور یونی پولر عالمی نظام (2)

تحریر: ڈاکٹر راشد عباس

گذشتہ سے پیوستہ
امریکہ نے ڈونالڈ ٹرامپ کی قیادت میں ایران اور پانچ جمع ایک جیسے عالمی ایٹمی معاہدہ سے مئی 2018ء میں نکل کر عالمی معاہدوں سے نکلنے کا عمل جاری رکھا۔ یورپی ٹرائیکا اور اس معاہدہ میں شریک دیگر ممالک امریکہ کے اس اقدام پر ہرگز راضی نہ تھے، لیکن صدر ٹرامپ نے تمام سفارتی اور عالمی اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس عالمی معاہدے سے نکلنے کا اعلان کر دیا۔ فرانس کے وزیر اقتصاد کے بقول امریکہ دنیا کے گرینڈ اقتصادی نظام کو پولیس مین بنانا چاہتا ہے، جو ہرگز قابل قبول نہیں۔ تجارتی میدان میں صرف یورپ کو امریکہ سے شکوے شکایات نہیں بلکہ روس اور چین جیسے ممالک بھی امریکی کی تجارتی پالیسیوں سے سخت نالاں ہیں۔ روسی صدر ولادیمیر پوتین نے تو کھلم کھلا کہا ہے کہ امریکہ دنیا میں یونی پولر نظام کے نفاذ کا خواہشمند ہے، جو روس کے لیے ہرگز قابل قبول نہیں، دنیا کا کوئی دوسرا ملک بھی اس کو تسلیم نہیں کرے گا۔ امریکہ نے اس کے علاوہ بھی جن عالمی معاہدوں سے خود کو الگ کیا ہے، اس پر عالمی برادری سخت تنقید کر رہی ہے، جس سے امریکہ کے خلاف باقاعدہ صف بندی ہو رہی ہے۔

امریکہ کے زوال اور اس کی ساکھ کے خاتمے کے حوالے سے ایک اور اہم موضوع امریکہ کی دوسرے ممالک کے حوالے سے جارحانہ پالیسیاں اور دوسرے ممالک میں مداخلت کرکے وہاں بدامنی اور عدم استحکام کو رواج دینا ہے۔ اسی طرح ڈونالڈ ٹرامپ نے عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی روک تھام اور اس میں اضافے کو روکنے کے معاہدے سے بھی نکل کر اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیرے میں اضافہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ امریکہ نے درمیانی اور زیادہ فاصلے کے میزائلوں کو اپ گریڈ کرنے کا عمل شروع کر رکھا ہے، جس پر روس سمیت دیگر ممالک کی تشویش قابل فہم ہے۔ امریکہ مشرقی ایشیاء میں چین کے ایٹمی ہتھیاروں کے مقابلے میں بھی اپنی ایٹمی طاقت کے اظہار کے لیے مختلف اقدامات کرتا رہتا ہے۔ عالمی سیاست پر نظر رکھنے والے سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ نے سافٹ اور ہارڈ پاور میں خاطر خواہ اضافہ کیا، لیکن گذشتہ دو عشروں میں امریکہ نرم اور سخت جنگ طاقت یعنی سافٹ اور ہارڈ پاور میں بہت کمزور ہوچکا ہے اور اس کے زوال میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

نرم طاقت سے مراد امریکی اثر و رسوخ ہے، جو تیزی سے زوال کا شکار ہے اور اس اثر و رسوخ کو بڑھانے کے جو عوامل تھے، متلاً عوامی سفارتی کاری، میڈیا تشہیراتی ادارے اور امریکہ کے تعلیمی ادارے ان سب میں کمزوری واقع ہوئی ہے اور ان شعبہ جات میں امریکہ کے رقیب امریکہ سے آگے نکل گئے ہیں۔ آج امریکہ کی ساکھ وہ نہیں رہی جو دو عشرے پہلے تھی، کبھی ہالی وڈ کے ثقافتی اثر، امریکی یونیورسٹیوں کے نظام تعلیم اور اس سے فارغ التحصیل اسٹوڈنٹس کا عالمی رینکنگ مین بہت بلند معیار تھا، لیکن آج اس کی سطح دوسرے ممالک کے اہم پلہ و ہم سطح محسوس کی جا رہی ہے۔ امریکہ بہت سے شعبہ جات میں زوال کا شکار ہے اور یورپ کے کئی ممالک میں امریکی اثر و رسوخ اور اس کی سوفٹ پاور تنزلی کا شکار ہے۔

ہالی وڈ اور امریکی میڈیا جس امریکی معاشرے کو پیش کرتا تھا اور امریکہ کی حقیقی زندگی کو منفرد انداز میں پیش کرکے دنیا پر اپنی برتری ثابت کرتا تھا، اب صورت حال تبدیل ہوچکی ہے۔ یورپ کے ساتھ ساتھ دوسرے ممالک تک امریکہ کی حقیقت آشکار ہو رہی ہے اور امریکہ کی داخلی مشکلات اور تلخ و دشوار طرز زندگی کسی سے پوشیدہ نہیں رہی ہے۔ بہرحال امریکی حکومت اور سماج کی بہت سی خامیاں اور کمیاں جو گذشتہ حکومتوں میں آشکار نہ تھیں، وہ ٹرامپ کے برسراقتدار آنے سے برملا ہوگئی ہیں اور کئی پردے ہٹ گئے ہیں، جن سے امریکہ دنیا کے سامنے آشکار ہو رہا ہے۔ عالمی تجزیہ نگاروں کی یہ رائے پختہ سے پختہ تر ہو رہی ہے کہ امریکہ عالمی تنہائی اور زوال کا شکار ہے اور ممکن ہے کہ وہ آئندہ کی عالمی سیاست میں ماضی کی طرح اثر انداز ہونے کی صلاحیت سے محروم ہو جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمام شد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

اسلام آباد میں مندر

تحریر:منصور آفاق اطلاعات کے مطابق شدید مخالفت کے بعد اسلام آباد میں مندر کی تعمیر …