پیر , 6 جولائی 2020

سب سے پہلے پاکستان!

محمد اکرم چودہری

پاکستان ایک مرتبہ پھر ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں اس کے اردگرد جنگ ہو گی، آگ اور خون کا کھیل ہو گا۔ یہ کہنا بہت آسان ہے کہ ہم کسی جنگ کا حصہ بن رہے ہیں یا ہم کسی کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے لیکن ان دونوں باتوں کو نبھانا اور نسلوں کو ان کے اثرات سے بچانا نہایت مشکل ہے۔ پاکستان ایسے ہی دور سے گذر رہا ہے جہاں اسے نسلوں کو بچانے جیسے چیلنج کا سامنا ہے۔

ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ افغانستان جنگ کے وقت اور اس کے بعد سے ہر کوئی یہی کہتا تھا کہ اب پاکستان کی باری ہے اور حقیقی معنوں میں ایسا ہی ہوا ہے پاکستان بہتر حکمت عملی سے جنگ کی تباہ کاریوں سے بچنا ہی حکمت عملی کی کامیابی ہے۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے یا کوئی شک نہیں ہے کہ امریکہ اور بھارت کا حقیقی ہدف پاکستان ہے اور بالخصوص گذشتہ دو برس میں پاکستان پر جس شدت کے ساتھ حملے ہوئے ہیں ان سے بچنا آسان کام نہیں تھا۔ گذشتہ برس فروری سے لے کر اب تک بھارت نے جو بھی اقدامات اٹھائے ہیں وہ صرف بھارتی اقدامات نہیں ہیں انہیں امریکہ کی مکمل تائید حاصل ہے۔ یہ خالصتاً جنگی فیصلے تھے اور جنگ کے ذریعے تھے۔ بھارت کا مختلف راستوں سے پاکستان پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی، اس کوشش کو پاکستان فضائیہ نے ناکام بنایا، ابھینندن کے طیارے کو گرایا اور زمینی اور سمندری راستوں سے بھی بھارتی حملوں کو مکمل طور پر ناکام بنایا یہ سب حملے بھارت نے امریکی پشت پناہی سے ہی کیے تھے۔ پھر پانچ اگست سے آج تک کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ سب پاکستان کو جنگ میں جھونکنے کے لیے ہی کیا گیا ہے۔ پاکستان نے ہر موقع پر تحمل کا ثبوت دیتے ہوئے جنگ کے بجائے امن کا راستہ اختیار کیا ہے۔ اسی طرح ایران کے معاملے میں بھی پاکستان کو گھسیٹنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ہے لیکن سفارتی اور فوجی محا ذپر بہتر حکمت عملی کی بدولت ہم محفوظ رہے ہیں۔

آج ہر ظرف سے افواج پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ گذشتہ چند برسوں میں افواجِ پاکستان نے جس انداز میں ملک کی سرحدوں کی حفاظت کا فریضہ انجام دیتے ہوئے ہمیں جنگ سے بچایا ہے آج ہم محفوظ ہیں تو اسکی سب سے بڑی وجہ ہماری افواج ہیں۔ باجوہ ڈاکٹرائن سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن اس ڈاکٹرائن کی بدولت ہماری حفاظت بہتر انداز میں ہوئی ہے اس کا بھی اعتراف کرنا چاہیے۔ افواج پاکستان نے مشکل ترین حالات میں بہترین انداز میں پیشہ وارانہ انداز میں ملکی دفاع کا فریضہ انجام دیا ہے۔

امریکہ اور بھارت گٹھ جوڑ سے بچنا آسان نہیں ہے دونوں مل کر پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں یہی ان کا ہدف اور مقصد ہے۔ ہمارے وسائل محدود ہو سکتے ہیں، یہ ہمارے مشکل بھی ہے لیکن ہمیں اپنی بہادر افواج پر پورا یقین ہے کہ وہ ملکی دفاع میں کسی قسم کی کوتاہی کے بغیر ہمارے دفاع اور تحفظ کا فریضہ انجام دیں گے۔ موجودہ صورتحال میں ہنری کسنجر کا انٹرویو انتہائی اہمیت رکھتا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ تیسری عالمی جنگ کا نقطہ آغاز ایران ہو گا، امریکہ مشرق وسطی کے سات ممالک پر قبضہ کرے گا، اسرائیل کی طاقت میں اضافہ ہو گا اور مسلمانوں کی راکھ بنا دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ مسلم ممالک میں ان کے خریدے ہوئے لوگ امریکہ کے لیے کام کر رہے ہیں اور ان کی کارکردگی توقع سے بڑھ کر ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ ہو اور پاکستان اس کے اثرات سے محفوظ رہے لیکن یہ درست ہے کہ ہم اپنی حیثیت کے مطابق اپنے جغرافیائی اہمیت کو سمجھتے ہوئے نا صرف اپنا دفاع کر سکتے ہیں بلکہ مسلم ممالک کے کام بھی آ سکتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ سے قبل قادیانیوں کا ڈونلڈ ٹرمپ تک پہنچنا کیا معمولی بات ہے اس کی ٹائمنگ کو سمجھا جائے تو اس کے پیچھے چھپے کھیل کی اصلیت سامنے آ جاتی ہے۔

ان حالات میں افواجِ پاکستان کے کردار کی تعریف کرنا ہو گی کہ انہوں نے ملک کی دفاعی ضروریات کے پیش نظر بہترین پیشہ ورانہ انداز میں خدمات انجام دی ہیں یہاں تک کہ بھارت کے اندر سے بھی ہماری افواج کی پیشہ وارانہ مہارت اور موثر حکمت عملی کی تعریف ہوئی ہے۔ بھارت کے عسکری حلقوں نے اعتراف کیا کہ جب افواجِ پاکستان کے ڈی جی آئی ایس پی آر بولتے ہیں تو دنیا میں ان کی بات کو اہمیت دی جاتی ہے۔ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان نے اپنا موقف امن کی خواہش کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود تحمل مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کو جنگ سے بچایا ہے۔ یہ سب اسی ڈاکٹرائن کی بدولت ہے جس پر ہمارے دانشور تنقید کرتے ہوئے تھکتے نہیں ہیں۔ ہنری کسنجر کے انٹرویوز بتاتے ہیں کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے مسلم ممالک کو ہدف بنا رکھا ہے اور ایک ایک کر کے سب پر جنگ نافذ کی جائے گی۔ پاکستان یہ بخوبی جانتا ہے کہ وہ امریکہ اور بھارت کا سب سے بڑا ہدف ہے اور ان کی آنکھوں میں چبھتا ہے۔ آج یا کل ہر صورت میں پاکستان کو جنگ کرنا ہی ہو گی کیونکہ یہ جنگ مذاہب کی بنیاد پر شروع ہو رہی ہے ان حالات میں ہمیں اندرونی طور پر زیادہ متحد ہونے، اپنی افواج کا ساتھ دینے، ملک میں سیاسی استحکام پیدا کرنے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جلد یا بدیر جنگ کی طرف تو جانا ہے ہمیں اس حتمی معرکے کے لیے خود کو تیار کرنا ہی ہو گا۔ امن کی خواہش کو لے کر آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ امن کو تباہ کرنے والی طاقتوں کا مقابلہ کرنے کی تیاری بھی کرنا ہو گی۔ پارلیمنٹ میں آرمی ایکٹ بارے ہونے والی ترامیم سے اتحاد کا پیغام دنیا کو گیا ہے۔ ہمیں اپنے دفاع کے معاملات میں سیاسی مخالفتوں کو چھوڑتے ہوئے قومی اتفاق رائے کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا۔ اسی اتحاد اور اتفاق میں پاکستان کی بقا ہے۔ یہ ملک ہم سب کا ہے، یہ فوج ہماری اپنی ہے۔ آرمی ایکٹ کے معاملے پر چند روز قبل ہم نے لکھا تھا کہ فوج ہم سب کی ہے پارلیمنٹ میں تمام بڑی سیاسی جماعتوں کا اتفاق یہ ثابت کرتا ہے کہ

فوج کے معاملے میں تمام سیاسی جماعتیں بھی اپنی فوج کے ساتھ کھڑی ہیں اللہ پاکستان کے دشمنوں کو نیست و نابود کرے اور ہمیں اپنے ملک اور اسکے عوام کی حفاظت کی طاقت و توفیق عطا فرمائے۔ آمین پاکستان زندہ باد

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

اسلام آباد میں مندر

تحریر:منصور آفاق اطلاعات کے مطابق شدید مخالفت کے بعد اسلام آباد میں مندر کی تعمیر …