جمعرات , 9 جولائی 2020

امریکی حملوں میں شہید پاک فوج کے 72 فوجی

تحریر: محمد سلمان مہدی

پاکستان میں اہم مواقع پر کج بحثی یہاں کے خواص کے مختلف طبقات کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ امریکی زایونسٹ بلاک کو حق بجانب سمجھنے والے دانشور نما جاہل بھی حساس مواقع پر ظاہر ہو جاتے ہیں۔ اور اس پر مستزاد بعض خلیجی شاہ و شیوخ کے تنخواہ دار و نمک خوار، ان کے تو کیا ہی کہنے۔ حاج قاسم سلیمانی اور مہندس ابو مہدی کی شہادت کے بعد سے مذکورہ طبقات فعال دکھائی دیئے اور ایک طبقہ خود کو پاکستانی ظاہر کرتے ہوئے پاکستان کی فکر کریں کے نعرے لگاتا دکھائی دیا۔ اس مخصوص ماحول کے پیش نظر اس حقیر کو یہ مناسب لگتا ہے کہ ایک تحریر پاکستان پر ہی لکھ لی جائے۔ کیونکہ گھما پھرا کر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ امریکا نے بغداد میں جو فضائی حملہ کیا ہے، یہ ایران کے خلاف ہے، پاکستان کا کیا تعلق!؟ بات میں بظاہر وزن بھی ہے، کیونکہ جو شہید ہوئے، وہ فوجی جرنیل حاج قاسم ایران کے ریاستی عسکری ادارے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس فورس کے سربراہ تھے اور دیگر شہداء میں عراق کی عوامی رضاکار فورس کے کمانڈر، ان کے اور قاسم سلیمانی کے رفقاء شامل تھے۔

یہی وجہ ہے کہ ہم اس تحریر میں پاکستانی قوم سمیت پوری دنیا کو پاکستان کے ان 72 شہداء کے بارے میں بتانا چاہتے ہیں، جو امریکی حملوں میں شہید ہوئے۔ سانحہ سلالہ تو یاد ہی ہوگا۔ 25 اور 26 نومبر 2011ء کی درمیانی شب پاکستان کے اندر افغانستان کی سرحد کے قریب دو فوجی چوکیوں وولکانو اور باؤلدر پر امریکی افواج نے مسلح فضائی حملے کئے۔ پاکستان کے قبائلی علاقے مھمند ایجنسی میں واقع یہ مقامات افغان صوبے کنر کے سرحدی علاقے کے سامنے واقع تھے۔ امریکی افواج نے بلاوقفہ دو گھنٹوں تک حملے جاری رکھے۔ کم از کم 24 فوجی افسران و سپاہی شہید ہوئے۔ لیکن کبھی پاکستانی قوم کو یہ بھی بتایا گیا کہ سانحہ سلالہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس نوعیت کا آٹھواں حملہ تھا، جو امریکی افواج نے پاکستانی افواج پر کیا تھا۔

یاد رہے کہ یہ بھی نائن الیون کے بعد سانحہ سلالہ تک کے اعداد و شمار ہیں اور ان آٹھ حملوں میں پاکستان کے 72 فوجی امریکا نے شہید کر ڈالے اور افسوس صد افسوس کہ ان میں سے محض پانچ حملوں کی تحقیقات کروائی گئیں، لیکن یہ تحقیقات بھی امریکی افواج کے پاکستانی افواج پر حملوں کو نہ روک سکیں۔ 17جون 2011ء کو سلالہ کے قریب زیارت پوسٹ پر بھی امریکی افواج نے حملہ کیا تھا۔ یاد رہے کہ یہ سرحدی فوجی چوکیاں پاکستانی فوج نے تحریک طالبان اور سوات کے باغی گروہوں کی کراس بارڈر حرکت اور حملوں سے نمٹنے کے لئے بنائیں تھیں۔ اس نوعیت کا پہلا حملہ جس کا ریکارڈ موجود ہے، وہ 10 جون 2008ء کو کیا گیا تھا۔ تب پاکستان کے صدر پرویز مشرف تھے، جو ایک طویل عرصہ آرمی چیف رہنے کے بعد 2007ء میں اس عہدے کو چھوڑنے پر مجبور کئے گئے تھے۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی ان کے جانشین تھے۔ یعنی پہلے امریکی حملے کے وقت صدر ریٹائرڈ جرنیل تھے اور حاضر سروس فور اسٹار جرنیل کیانی آرمی چیف تھے۔ سویلین حکومت پاکستان پیپلز پارٹی کی تھی اور یوسف رضا گیلانی وزیراعظم تھے۔

یہ امریکی افواج کے حملوں میں شہید پاکستانی فوج کے 72 عظیم شہداء کا تذکرہ ہے۔ یہ اعداد و شمار حال ہی میں شائع شدہ ایک کتاب میں شامل ہیں۔ پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل آصف نواز کے بھائی شجاع نواز نے اعلیٰ فوجی عہدیداروں سے گفتگو کرکے یہ روداد لکھی ہے۔ ”دی بیٹل فار پاکستان“ سانحہ سلالہ کے حوالے سے کافی معلوماتی کتاب ہے۔ یہاں یہ تفصیلات بیان کرنے کا مقصد پاکستانی قوم کے غیرت مند فرزندوں کی معلومات میں اضافہ ہے اور ساتھ ہی ایک سوال بھی کہ پاکستان کی قومی تاریخ میں سانحہ سلالہ کی یاد میں 26 نومبر 2011ء ایک قومی دن کے طور پر کیوں نہیں منایا جاتا!؟ اسکے علاوہ کیا جواب ہوسکتا ہے کہ اگر پاکستانی قوم ہر سال ان شہداء کی یاد منائے، جو امریکی افواج کی غیر قانونی مسلح جارحیت کے نتیجے میں شہید ہوئے تو پھر امریکا کو بھی ریاستی سطح پر رسمی طور پر دشمن ریاست قرار دینا پڑے گا اور امریکی بلاک میں تو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں۔ نہ صرف امریکا دشمن قرار پائے گا بلکہ امریکا کے اتحادی مذکورہ ملک بھی بے نقاب ہوں گے۔ صرف یہی سوچ کر ان 72 عظیم شہیدوں کو فراموش کر دیا گیا ہے۔

حاج قاسم سلیمانی اور ابو مھدی مھندس کی امریکی حملوں میں شہادتوں پر ریاست پاکستان کی خاموشی، عدم تعزیت، عدم مذمت پر پاکستان کے غیرت مند فرزند حیران، پریشان ہیں۔ آپ نے تاریخ کا درست مطالعہ کیا ہوتا تو مایوس نہ ہوتے۔ ایمل کاسی پر مقدمہ کی سماعت کے دوران امریکی عدالت میں سرکاری وکیل نے کہا تھا کہ پاکستانی وہ قوم ہیں، جو پیسوں کی خاطر ماں کا سودا کرلیں!۔ یہ نائن الیون سے پہلے کی ہرزہ سرائی تھی۔ باوجود این، پرویز مشرف کی جرنیلی حکومت نائن الیون کے بعد امریکی جنگ میں سہولت کار بن گئی۔ یمن جنگ میں غیر جانبداری پر پاکستان کو دھمکیاں دی گئیں۔ ایران کو خارجہ پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کے لئے پاکستان کو سعودی ڈکٹیشن اور دھمکی 2018ء میں عمران خان کو دی گئی۔ اس کے بعد بھارت کو شہہ دی گئی۔ امارات اور بحرین نے بھارت کی مودی سرکار کو اعلیٰ ترین اعزازات دیئے۔ او آئی سی میں سعودیہ اور امارات نے مدعو کیا۔

ریاست پاکستان کی موجودہ پالیسی ایک خوفزدہ ریاست کی پالیسی ہے اور یہ کسی طور ایک بڑے اسلامی ملک یا نیوکلیئر ریاست کے شایان شان نہیں۔ ذرائع ابلاغ یا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جھوٹا پروپیگنڈا کرکے زمینی حقیقت تبدیل نہیں کی جاسکتی۔ عراق میں عین الاسد اور الحریر فوجی اڈوں میں امریکی فوجی و جاسوسی تنصیبات اور اسلحے پر ایران کے میزائل حملوں کی کامیابی اس سے چھپ نہیں سکتی۔ ایران نے اپنے شہداء کے قاتلوں کو کبھی دوست نہیں کہا۔ ایران نے اپنے شہداء کے قاتلوں کو کبھی معاف بھی نہیں کیا۔ ریاست پاکستان سے تو عراق کی نوزائیدہ عرب جمہوریت ہی اچھی کہ امریکی افواج سے مکمل انخلاء کا رسمی مطالبہ تو کر دیا۔ ریاست پاکستان حاج قاسم سلیمانی کی شہادت پر ایران کا ساتھ کیا دے گی، پہلے اپنے 72 شہیدوں کے قاتل امریکی سعودی بلاک کے حملوں، دھمکیوں اور بلیک میلنگ کا جواب تو دے کر دکھائے! یہ 72 تو صرف امریکا کی ریکارڈڈ دراندازی کے نتیجے کی شہادتیں ہیں۔ ورنہ نائن الیون کے بعد سے پاکستان کے اسی ہزار شہید اور زخمی بھی تو اسی امریکی سعودی پراکسی وار کا ہی فال آؤٹ ہے۔ حاج قاسم سلیمانی تو عراق حکومت کی دعوت پر عراق جاکر شہید ہوا ہے۔ فوجی اڈے تو عراق میں ہیں، مگر اتنا خوف زدہ تو عراق بھی نہیں، جتنا نیوکلیئر ریاست پاکستان ہے۔!

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

رنگ پرستی کا بت اور ہماری بے حسی

تحریر:ندا ڈھلوں گزشتہ ماہ امریکا میں ایک سیاہ فام جارج فلائیڈ کی ہلاکت نے پوری …