پیر , 6 جولائی 2020

ایران کا عہد وفا اور بے خطا نشانے

محمد اسلم خان

ایرانیوں نے حلف وفا نباہ کر دکھا دیا شہیدجنرل قاسم سلیمانی کا جسد خاکی لحد میں اترا اور چند لمحوں میں بیک وقت درجنوں ایرانی میزائل قہرالٰہی بن کر عراق میں دو امریکی فوجی اڈوں پر نازل ہوئے۔ ایران نے چھپ کر نہیں کھل کر، سینہ تان کر اور اپنے اور حماس کے ’زندہ شہید القدس‘ اور اس کے ساتھیوں کی شہادت پر بدلہ لیا۔ سپاہ پاسداران نے اعلان کیا ہے کہ یہ انتقامی حملہ نہیں ہے ابتدائی اور علامتی کارروائی ہے۔ روسی ذرائع ابلاغ کی جاری کردہ تصاویر اور ویڈیو کلپس کیمطابق ایرانی حملے کے بعدامریکی چھاؤنیوں میں جہنم کے الاؤ دہک رہے ہیں آسمان کو چھوتے، بھڑکتے شعلے ہر ذی روح کو خاکستر کر رہے تھے۔ 86 امریکی کمانڈوز کے ہلاک ہونے کا سراغ مل رہا ہے۔ انتقام کے سرخ علم صدیوں بعد مشہد مبارک اور قْم شریف میں کیا لہرائے کہ امن کے داعی فلاسفر تیسری عالمی جنگ کا ڈراوا لے کر آن پہنچے۔ حکمت احتیاط اور صبر کے راگ الاپنے لگے لیکن رہبر معظم جناب آیت اللہ خامنہ ای کو آیت اللہ خمینی کا قول بخوبی یاد تھا کہ ’’بنا نیست کہ ایران بماند، بنا این است کہ اسلام بماند‘‘

’’ہمارا ہدف یہ نہیں ہے کہ ایران بچائیں اور اسلام قربان کر دیں بلکہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ اگر ایران قربان ہوتا ہے تو ہو جائے کوئی پروا نہیں۔ 52 ثقافتی مقامات پر حملوں کا خواب تو پینٹاگون کے اعلان نے تار تار کردیا تھا اب حیفہ اور دبئی کا برج الخلیفہ کی متوقع تباہی کے مناظر ٹرمپ کو ڈراؤنا خواب بنْکر ڈرائیں گے۔ حزب اللہ کے حسن نصراللہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر ایران پر کسی ملک نے بھی حملہ کرنے کی کوشش کی تو حزب اللہ کے 70,000 میزائل اسرائیل کو نشانے پر لئے ہوئے ہیں۔ ایک بات تو ثابت ہوگئی ہے کہ امریکی دفاعی نظام ایرانی حملے روکنے میں بری طرح ناکام ہوگیا ہے ۔وہ مہنگا ترین پٹریاٹ دفاعی نظام بچوں کاکھلونا ثابت ہوا ہے۔ یہ پیغام بھی دوٹوک انداز میں دے دیا کہ ایران پر جوابی حملہ ہوا تو دوسرا ہدف اسرائیل کا تیسرا بڑا شہر حیفہ اور سب سے بڑا عالمی بالا خانہ دبئی ہوگا۔ پاسداران انقلاب کے مطابق دونوں امریکی فوجی اڈوں پر داغے گئے کسی بھی میزائل کو امریکہ روک نہیں پایا۔ امریکی ٹیکنالوجی کے سارے دعوے زمین بوس ہوگئے۔ عراقی صوبہ انبار میں عین الاسد فوجی اڈے اور اربیل میں دوسرے امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایاگیا۔ عین الاسد عراق میں سب سے بڑا امریکی فوجی اڈا ہے۔ اربیل کردستان کا صدر مقام ہے اور عراقی کردستان میں سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے۔ ایرانی وقت کے مطابق جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے جواب میں یہ حملہ صبح ایک بجکر بیس منٹ پرکیاگیا۔ یہ عین وہی ایرانی وقت تھا جب امریکیوں نے جمعہ کو جنرل قاسم سلیمانی پرڈرون حملہ کیا تھا۔حملے کے بعد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے براہ راست خطاب میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کو صرف ’ایک تھپڑ‘ قرار دیتے کہاکہ ایرانی قوم آج دنیا کے غنڈوں کے خلاف متحد ہوگئی ہے۔ جنرل قاسم سلیمانی ایران کا بہادر سپوت تھا۔ آج کا ایرانی نوجوان ماضی کی نسبت انقلاب پر زیادہ اور کامل یقین رکھتا ہے۔ جنرل قاسم سلیمانی میں منافقت نہیں تھی۔ قاسم سلیمانی کو خطرات کا سامنا تھا لیکن انہوں نے ہمیشہ دوسروں کی جان کی پرواہ کی۔قاسم سلیمانی مغربی ایشیا میں امریکی سازشوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار تھے۔ امریکہ کو خطے سے جانا ہوگا۔ امریکی سازش ہے کہ فلسطین کاز کہیں پیچھے رہ جائے۔ غزہ کے لوگوں کی جدوجہد کا ثمر ہے کہ اسرائیل غزہ میں جنگ بندی پر آمادہ ہوا۔ رہبر معظم نے جنرل قاسم سلیمانی کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہاکہ قاسم سلیمانی صرف فوجی نہیں سیاسی میدان میں بھی جرأت و کردار کا مظاہرہ کرتے تھے۔ امریکہ اور اسکے غلام جس کے نام سے تھر تھر کانپتے تھے، اس کے گھر کا واجبی سامان دیکھ کر ساری دنیا حیران ہے۔ زمین پر بیٹھ کر روٹی کھانے والے جرنیل کی سادگی، عاجزی کا ذکرکرنے والے علی خامنہ ای آبدیدہ تھے۔ انہوں نے کہاکہ قاسم سلیمانی نے عراق، شام، یمن اور افغانستان میں امریکی سازشوں کو ناکام بنایا۔ آیت اللہ علی خامنہ ای نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ان کا دشمن کون ہے؟ اس کی سازش کیا ہے؟ اور اس کا مقابلہ کیسے کرنا ہے؟انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کو بنیاد بنا کر ایران میں گڑبڑ کرنے کی کوشش کی گئی۔ صہیونی اور امریکہ دشمن ہیں۔ ایران سیاسی، معاشی اور دیگر شعبہ جات میں ان کا مقابلہ کررہا ہے۔ قومی وحدت کا ہر قیمت پر تحفظ کیاجائے گا۔ ایران کے سپریم لیڈر جس جگہ خطاب کررہے تھے، وہاں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا فرمان مبارک خوبصورت خطاطی میں ایران کے یقین کو دکھارہا تھا۔ ’’جہاد جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔‘‘ ایک موقع پر آیت اللہ علی خامنہ ای نے جب کہاکہ ’’مجھے محسوس ہوتا ہے کہ آپ لوگ تھک گئے ہیں۔‘‘ تو مجمع نے والہانہ انداز میں پرجوش نعرے بلند کرنے شروع کردئیے۔ لبوں پر پھیلی مسکراہٹ کے ساتھ آیت اللہ نے مجمع کے جذبے کی داد دی اور دعا کی کہ ان کا جذبہ اسی قوت کے ساتھ ہمیشہ قائم رہے اور وہ متحد ہوکر دشمنوں کی چالوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوں۔ انہوں نے دشمن پر فتح کی دعا بھی کی۔

ایرانی حملوں کے بعد میڈیا پر ’’جنگ‘‘ بھی شروع ہوچکی ہے۔ جنگی حالات سے متعلق خبریں دینے کے حوالے سے مغربی میڈیا کا کردار ماضی میں یک طرفہ رہا ہے۔ 1992ء کی خلیج کی جنگ میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح امریکی اور شہرہ آفاق برطانوی میڈیا امریکی جرنیل کی سنسرشدہ خبریں دیا کرتے تھے۔ برطانوی میڈیا نے خبردی کہ ایران نے 22 میزائل امریکی اڈوں پر داغے ہیں جن میں عین الاسد اڈے پر 17 میزائل پہنچ پائے۔ ایرانی میزائل کے اھداف تک نشانہ بنانے کی صلاحیت کچھ یوں ہے۔ شہاب اول تین سو کلومیٹر تک اہداف کو نشانہ بناسکتا ہے۔ شہاب دوم پانچ سوکلومیٹر، قاسم اول ساڑھے سات سو، فاتح110 تین سو سے پانچ سو کلومیٹر، ذوالفقار سات سو اور شہاب سوئم دوہزار کلومیٹر اپنے ہدف کو ملیامیٹ کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔ ان میں سب سے خطرناک شہاب سوئم کو ہی قرار دیاجاتا ہے۔ پینٹاگون نے عراق میں ایرانی حملے کی تصدیق کی اور دعوی کیا کہ امریکی راڈار نے ان میزائلوں کو پتہ لگالیاتھا۔ امریکی فوجی محفوظ ہیں۔ امریکی صدر نے کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق ایک ٹویٹ جاری کیا کہ ’’اب تک سب کچھ ٹھیک ہے۔‘‘ جس پر ایران نے امریکی صدر کے بیان کو ’’نقصانات چھپانے کی کوشش‘‘ قرار دیا۔ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی خبریں آرہی ہیں۔ مغربی دنیا کو انسانوں کے بجائے زیادہ فکر تیل کی فراہمی اور تجارت کی ہے۔ سٹریٹس آف ہورمز یا ہورمز کا تاریخی بحری راستہ بند ہونے سے مغرب میں جو قیامت ٹوٹے گی، اس پر گریہ زاری جاری ہے۔ مغربی دنیا کو ڈرایا جارہا ہے کہ ہورمز کا راستہ بند ہوگیا تو فی بیرل200ڈالر ہونے سے مغربی معیشت غرقاب ہوجائے گی۔

ایران نے امریکہ پر واضح کیا ہے کہ اگر جوابی حملہ ہوا تو ان کا تیسرا ہدف ’’حیفا‘‘ ہوگا جو یروشلم اور تل ابیب کے بعد ناجائز صہیونی ریاست کا تیسرا بڑا شہر ہے۔ اس کی آبادی تقریبا تین لاکھ کے قریب ہے۔ اس کے ساتھ ہی ’دبئی‘ کو نشانہ بنانے کا بھی اعلان کیاگیا ہے۔ یہ اعلان بہت معنی خیز اور سٹرٹیجک نکتہ نگاہ سے بہت ہی اہم ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کا ٹویٹر پر اکاونٹ معطل ہونے کی بھی اطلاعات گردش کررہی ہیں۔ یہ وہ رویہ ہے کہ مغرب مسلمانوں کے خلاف ہر ہرزہ سرائی کو ’’آزادی اظہاررائے‘‘ کے ریشمی اور خوبصورت پیراہن میں ملبوس کرکے پیش کرتا ہے لیکن جب جواب آتا ہے تو اکاؤنٹ معطل کردیا جاتا ہے۔ یہ قطعی واضح کرتا ہے کہ ہم کس ’’آزاد دنیا‘‘ کے باسی ہیں؟ ہمارے ’’غلط فہمی‘‘ کے شکار ’دانشوروں‘ کی آنکھ نجانے کب کھلے لیکن حقیقت یہی ہے کہ باہمی تقسیم کے بجائے مشترک دشمن کو پہنچاننا ہوگا۔ دشمن نے صدام کو معاف کیا اور نہ ہی وہ جنرل قاسم سلیمانی اور ان جیسے ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کو معاف کرے گا۔ وہ صرف ایک ایک کرکے مسلمان گھرانے کے ہر اس فرد کو تہہ تیغ کرنے کی مصمم منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہے جس کے نتیجے میں اسلام اور مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانا اور ان کے علاقوں پر قبضہ کرنا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہاکہ امریکی صدر نے دنیا کو دکھادیا کہ انہیں عالمی قانون کا کوئی احترام نہیں۔ ثقافتی مقامات کو نشانہ بنانا جنگی جرم ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا امریکی صدر کے اقدامات سے امریکہ کو انہوں نے زیادہ محفوظ بنایا ہے؟ کیا امریکی آج خود کو زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں؟ کیا امریکیوں کو آج اس خطے میں کوئی خوش آمدید کہتا ہے؟ امریکہ نے تین اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے عراق کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی۔عراق کے ساتھ امریکہ نے جو معاہدہ کیاتھا، اس کی خلاف ورزی کی گئی۔ عراق کی پارلیمان کا اقدام اس معاملے میں واضح ہے۔ امریکہ نے خطے کے لوگوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ امریکہ کو عوام کا جواب ملے گا۔ امریکہ نے ریاستی دہشت گردی کی ہے۔ ایران کے خلاف جارحیت کی ہے۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

امریکیوں ہماری نہیں اپنی فکر کرو

تحریر: تصور حسین شہزاد امریکہ اپنا 244واں یوم آزادی منا رہا ہے۔ اس دن کی …