منگل , 28 جنوری 2020

امریکا کو جنرل سلیمانی کے قتل کا تاوان ادا کرنا ہی ہوگا، سید حسن نصراللہ

حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ امریکی فوج کو جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا تاوان ادا کرنا پڑے گا۔جنوبی بیروت میں شہید قاسم سلیمانی اور شہید ابو مہدی المہندس کی یاد میں منعقدہ مجلس ترحیم سے خطاب کرتے ہوئے سید حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ سن دوہزار میں لبنان سے اسرائیل کے انخلا میں شہید قاسم سلیمانی نے بنیادی کردار ادا کیا تھا۔سید حسن نصراللہ نے داعش کی شکست میں شہید قاسم سلیمانی کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر داعش کو شام و عراق میں شکست نہ دی جاتی تو آج اردن ، کویت اور خلیج فارس کے دیگر ملکوں کی سلامتی خطرے میں پڑجاتی۔

حزب اللہ کے سربراہ نے یہ بات زور دے کر کہی کہ خطے کی استقامت اسلامی جمہوریہ ایران اور جنرل قاسم سلیمانی کی مرہون منت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران دنیا بھر کے مستضعفین اور مظلوموں کی مدد کو اپنا فرض سمجھتا ہے اور اسی بنیاد پر وہ ہماری مدد کرتا ہے اور آج تک ہم سے کوئی تقاضا نہیں کیا  اور یہی بات مغربی ملکوں کے حلق سے نیچے نہیں اترتی اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ خطے کی استقامت ایران کی پراکسی بنی ہوئی ہے۔

عراق میں امریکہ کے فوجی اڈے پر ایران کے جوابی حملے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سید حسن نصراللہ نے کہا کہ عین الاسد چھاؤنی پر ایران کے میزائل حملے نے امریکہ کی ہیبت کو چکنا چور کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکی فوج کو آخر کار شہید سلیمانی اور شہید ابو مہدی المہندس کے قتل کا سنگین تاوان ادا کرنا ہی پڑے گا اور علاقے سے ان کا انخلا ہوکے رہے گا۔اور یہ نئی تاریخ کا آغاز ثابت ہوگا  انہوں نے کہا کہ پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ اور اس کے ساتھیوں کے چہرے پر ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں۔سید حسن نصراللہ نے کہا کہ ایران نے امریکہ کے منہ پر جو طمانچہ رسید کیا ہے اس میں ہمارے لیے ایک سبق پوشیدہ ہے کہ ہم اپنی طاقت پر بھروسہ کریں کیونکہ امریکہ غیر محدود طاقت کا مالک نہیں ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ٹرمپ کا ایردوآن سے ٹیلی فون پر رابطہ، لیبیا میں غیر ملکی مداخلت روکنے پر زور

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ روز پیر کو اپنے تُرک ہم منصب رجب …