منگل , 14 جولائی 2020

میگھن کے امریکی ٹی وی کو متنازع انٹرویو کی تیاریوں نے شاہی خاندان کی نیندیں اڑا دیں

برطانوی شہزادے ہیری کی اہلیہ میگھن مارکل کے امریکی ٹی وی کو متنازع انٹرویو کی تیاریوں کی خبروں نے برطانوی شاہی خاندان کی نیندیں اڑا دیں ہیں۔برطانوی میڈیا کے مطابق شاہی خاندان کو تشویش ہےکہ انٹرویو میں میگھن شاہی محل پر نسلی اور صنفی تعصب کے الزامات لگائیں گی جب کہ دونوں بھائیوں کی مبینہ رنجش کا معاملہ بھی عوامی بحث کا حصہ بنے گا، جس سے شاہی خاندان کے وقار کو ٹھیس پہنچے گی۔خیال رہے کہ برطانوی شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل نے گذشتہ دنوں شاہی خاندان کے سینیئر فرد کی حیثیت سے دستبرداری کا اعلان تھا۔

شاہی جوڑے کے مطابق انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب وہ معاشی طورپر بھی خود مختار زندگی گزاریں گے اور برطانیہ کے ساتھ ساتھ شمالی امریکا میں زندگی بسر کریں گے۔اس اعلان کے بعد سے شاہی جوڑا اور برطانوی شاہی خاندان دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کی نظروں میں ہے۔برطانوی میڈیا نے اس حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن نے اس اہم بیان سے قبل شاہی خاندان کے کسی بھی بڑے سے مشورہ نہیں کیا اور  اس معاملے پر برطانوی شاہی محل بکنگھم پیلس مکمل طور پر لاعلم تھا۔شہزادے کو منانے اور معاملات طے کرنے کے لیے ملکہ برطانیہ نے شاہی محل میں ہنگامی اجلاس طلب کیا  جس میں شہزادہ ہیری اور ان کے بھائی ولیم اور والد کے علاوہ  شاہی خاندان کے دیگر افراد شریک  ہوئے جب کہ  ہیری کی اہلیہ میگھن مارکل بھی کینیڈا سے فون کے ذریعے شامل ہوئیں۔

برطانوی شاہی محل سے جاری بیان کے مطابق ملکہ برطانیہ کا کہنا ہے کہ  آج ان کے خاندان نے ان کے پوتے اور اس کی فیملی کے مستقبل کے حوالے سے تعمیری گفتگو کی۔ملکہ کا کہنا ہے کہ ہم نے دونوں کو کہا ہے کہ وہ شاہی خاندان کے ساتھ ہی اپنا سفر جاری رکھیں تاہم وہ اور ان کا خاندان ہیری اور میگھن کی شاہی خاندان سے علیحدہ نئی زندگی کی خواہش  کو سمجھتے اور اس کا احترام کرتے ہیں۔ملکہ برطانیہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہیری اور میگھن کے نئی زندگی شروع کرنےکےفیصلےکی حمایت کرتےہیں البتہ ہماری خواہش ہے کہ ہیری اور میگھن شاہی خاندان کے فعال ممبر رہیں، ہیری اور میگھن کے آزاد زندگی گزارنے کی خواہش کا احترام کرتے ہیں۔

برطانوی ملکہ کے مطابق ہیری اور میگھن نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ عوامی فنڈز پر انحصار نہیں چاہتے اور فی الحال یہ طے پایا ہے کہ عبوری مدت کے دوران ہیری اور ان کی اہلیہ کینیڈا اور برطانیہ میں وقت گزاریں گے۔انہوں نے کہا کہ میری فیملی کیلئے یہ بہت پیچیدہ حل طلب معاملات ہیں، ابھی کچھ مزید کام کرنا باقی ہیں، میں نے کہا ہے آئندہ آنے والے دنوں میں حتمی فیصلے تک پہنچ جایا جائے۔دوسری جانب  شاہی محل ذرائع کے مطابق کینیڈا میں موجود میگھن کی پبک ریلشنز کی ٹیم امریکی ٹی وی کی معروف میزبان اوپرا ونفری سمیت امریکا کے دیگر  بڑے ٹی وی نیٹ ورکس اے بی سی ، این بی سی سمیت دیگر  کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

یری اور میگھن کو شاہی محل کی روایات سے اختلافات

شہزادہ ہیری اور میگھن کے قریبی دوست اور برطانوی صحافی ٹام براڈبے کے مطابق ہیری اور میگھن دونوں کو شاہی محل کی روایات سے اختلافات ہیں۔ میگھن کو شکایت ہے کہ انہیں زبردستی خاموش کرادیا گیا اور وہ مزید چپ رہنےکو تیار نہیں جب کہ  انہیں اکثر حسد اور سرد مہر رویوں کا سامنابھی کرنا پڑا۔برطانوی میڈیا میں یہ خبریں بھی ہیں کہ  شہزادہ ہیری اپنے بھائی شہزادہ ولیم کے حاکمانہ رویے کی وجہ سے محل چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔بی بی سی کے مطابق برطانوی شاہی محل  سے جاری ایک مشترکہ  بیان میں دونوں بھائیوں نے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے اسے افسوس ناک اور نقصان دہ قرار دیا ہے۔

شہزادہ ولیم کو بھی چھوٹے بھائی سے شکایات

دوسری جانب برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ شہزادہ ولیم کو بھی چھوٹے بھائی سے شکایات ہیں،انہیں شکوہ ہے کہ ہیری نے ان کا خیال کیے بغیر اتنا بڑا قدم اٹھا لیا اور اپنے بھتیجے اور بھتیجی کا بھی خیال نہیں کیا۔رپورٹ کے مطابق میگھن مارکل شوبز کی دنیا میں واپس آنےکا ارادہ رکھتی ہیں اور گذشتہ روز  شہزادی ہیری کی ہالی وڈ پروڈیوسر سے میگھن مارکل کے لیے کام مانگنے کی ویڈیو بھی منظرِ عام پر آ ئی ہے۔اس کے علاوہ میگھن مارکل نے چیریٹی کے لیے امداد کے بدلے میں ڈزنی کے ساتھ وائس اوور کی ڈیل  بھی کر لی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان سرحدی جھڑپیں؛ دنوں ملکوں کے متعدد فوجی ہلاک

اسلام آباد: پیر کو سرحدی جھڑپوں میں متعدد آذری اور آرمینیائی فوجی ہلاک اور زخمی …