جمعہ , 7 اگست 2020

10 سالہ بچہ ’سانپ‘ میں تبدیل ہوگیا، بے بس باپ کی مدد کی اپیل

نئی دہلی: بھارت میں ایک بچہ عجیب و غریب اور نایاب جینیاتی مرض کا شکار ہے جس کی وجہ سے مقامی افراد اسے انسانی سانپ کہہ کر پکارتے ہیں۔

مشرقی بھارت کے ضلع گجنام کا یہ 10 سالہ بچہ لمیلر ایکیوسس نامی نایاب جینیاتی مرض کا شکار ہے، جس کی وجہ سے اس کی جلد نہایت خشک اور کھپلی زدہ ہے۔

لمیلر ایکیوسس کیا ہے؟

لمیلر ایکیوسس ایک نایاب جینیاتی مرض ہے جس کا شکار نومولود بچے کے جسم کی جلد موم کی طرح نرم اور نہایت چمکدار ہوتی ہے، تاہم صرف 2 ہفتے کے اندر یہ جلد جھڑ جاتی ہے۔

جلد جھڑنے کے بعد اس کے نیچے موجود دوسری تہہ نہایت سرخ اور کھپلی زدہ ہوتی ہے۔ یہ مرض ایک جینیاتی خرابی کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے جس میں جلد کے خلیوں کی ٹوٹنے اور جلد کے دوبارہ مندمل ہونے کی رفتار یا تو بہت زیادہ ہوجاتی ہے یا پھر بہت سست۔

یہ مرض 2 لاکھ افراد میں سے کسی ایک شخص کو لاحق ہوسکتا ہے۔ اس کا شکار بچے مستقل پانی کی کمی کا شکار رہتے ہیں، جبکہ انہیں جلد کے مختلف اقسام کے انفیکشن، سانس کے مسائل، بال جھڑنے کی شکایت اور جوڑوں کی بدہیئتی کا مرض بھی لاحق ہوسکتا ہے۔

یہ بھارتی بچہ بھی اسی نایاب جینیاتی مرض کا شکار ہے۔ مقامی افراد کے مطابق اس بچے کو ہر گھنٹے نہانا اور ہر چند گھنٹے بعد اپنی جلد کو نمی والا محلول (موائسچرائزر) لگانا ضروری ہے تاکہ اس کی تکلیف میں کچھ کمی ہوسکے۔

بچے کی جلد خشک ہونے کی وجہ سے مستقل جھڑتی رہتی ہے، اس بیماری کی وجہ سے اس کی جلد اس قدر سخت اور خشک ہے کہ بعض اوقات اسے چلنے میں بھی دشواری ہوتی ہے اور چھڑی کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

بچے کی آنکھوں کے گرد بھی جلد بہت سخت ہے جس کی وجہ سے بعض اوقات اسے آنکھیں بند کرنے میں بھی تکلیف کا سامنا ہوتا ہے۔

بچے کے والدین نہایت غریب ہیں، اس کے والد کا کہنا ہے کہ ان کا بچہ بچپن سے اس تکلیف کا شکار ہے اور بدقسمتی سے اس کا کوئی علاج نہیں۔ ‘میرے پاس اتنے پیسے نہیں کہ اس کی ٹریٹمنٹ کروا سکوں لہٰذا میں روز اسے اس تکلیف سے تڑپتا دیکھتا ہوں‘۔

ایک بھارتی ڈرماٹولوجسٹ کے مطابق اس بیماری کا کوئی علاج نہیں اور اسے کریمز اور دواؤں سے صرف ایک حد تک کنٹرول میں رکھا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک نایاب ترین جینیاتی مرض ہے۔

 

یہ بھی دیکھیں

بھارتی وزیر اعظم نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ہے : اسد الدین اویسی

سری نگر: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا ہے …