ہفتہ , 29 فروری 2020
تازہ ترین

’مودی کے انتہا پسند عزائم بے نقاب ہو چکے، پاکستان خطے میں صرف امن کا پارٹنر ہو گا‘

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں افراد انسانی حقوق کی پامالیوں کا شکار ہیں۔واشنگٹن میں مرکز برائے اسٹریٹجک اور بین الاقوامی مطالعات میں خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا بھارت کے ہندو انتہا پسند چہرے سے سیکیولرازم کا ماسک گر چکا ہے اور مودی کے انتہاپسند عزائم بے نقاب ہو چکے ہیں۔مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورت حال پر بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں لامتناہی انسانی بحران ہے، 80 لاکھ کشمیری 5 ماہ سے غیر انسانی لاک ڈاون کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کر کے عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی، بھارت نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کو دبانے کے لیے سخت پابندیاں نافذ کیں، مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن گزشتہ 5 ماہ سے جاری ہے، ہزاروں کشمیریوں کو قید رکھا گیا ہے، رابطوں کے ذرائع بند ہیں۔

بھارت کے انتہاپسندانہ اقدامات خطے میں امن کے لیے شدید خطرہ
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا مقبوضہ کشمیر کی صورت حال بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں ہے بلکہ مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے، کشمیر کے بحران پر توجہ نہیں دی گئی تو یہ اسٹریٹجک صلاحیت کے حامل دو ممالک کے درمیان فلیش پوائنٹ بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں طویل انٹرنیٹ بندش کی مثال کسی جمہوری ملک میں نہیں ملتی اور شہریت ترمیمی بل بھارت کے سیکولر تشخص پر سوالیہ نشان ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشتگری اور انتہاپسندانہ اقدامات خطے میں امن کے لیے شدید خطرہ ہیں۔ان کا کہنا تھا بھارت میں روز کوئی نہ کوئی سیاستدان یا فوجی افسر پاکستان کے خلاف زہر اگلتا رہتا ہے لیکن دہشتگردی کی منصوبہ بندی اور الزام پاکستان پر ڈالنے کی سازشیں بے نقاب ہو چکی ہیں۔ہندوتوا اور اکھنڈ بھارت نظریات کے تباہ کن اثرات دنیا دیکھ رہی ہےشاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم پُر امن ہمسایہ چاہتے ہیں لیکن امن کے لیے بھارت کو اپنی سالمیت یا کشمیر کی قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں اور بھارت نے ہماری پیشکش کو کمزوری سمجھا۔

وزیر خارجہ نے بتایا کہ وزیراعظم نے وعدہ کیا تھا کہ امن کے لیے بھارت ایک قدم اٹھائے گا تو پاکستان دو قدم آگے بڑھےگا لیکن بھارت نے روایتی تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خیرسگالی کے جذبے کا مثبت جواب نہیں دیا، بھارتی رویے کے باعث گزشتہ سال دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امید تھی کہ الیکشن کے بعد بی جے پی حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گی لیکن آر ایس ایس کے نظریات سے متاثر بی جے پی حکومت نے بھارت کو ہندو راشٹر بنانا شروع کیا، ہندوتوا اور اکھنڈ بھارت نظریات کے تباہ کن اثرات دنیا دیکھ رہی ہے۔ان کا کہنا تھا صدر ٹرمپ کو مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر تشویش ہے، ہم نے صدرٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کا خیرمقدم کیا، امریکا جنوبی ایشیاء میں اثر و رسوخ رکھتا ہے، مسئلہ کشمیر کے حل کے لیےکردار ادا کر سکتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

شامی فوج کے حملے میں ترکی کا ایک اور فوجی ہلاک

شام کے ادلیب علاقے میں ملکی انتظامیہ کی اشتعال انگیز کاروائیاں جاری ہیں۔علاقے میں اسد …