منگل , 7 اپریل 2020

صیہونی فوج کا مسجد اقصیٰ پر دھاوا نمازیوں پر تشدد

مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی حملے کے باوجود ہزاروں فلسطینی مسلمان مسجداقصیٰ میں نمازِ جمعہ ادا کررہے ہیںمقبوضہ بیت المقدس قابض اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول کر نمازیوں کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ فلسطینی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ واقعہ جمعہ کے روز نمازِ فجر کے بعد پیش آیا۔ فلسطینی مسلمانوں نے ’’فجر عظیم‘‘ کے عنوان سے بڑے پیمانے پر مسجد اقصیٰ میں جمع ہونے کی مہم چلائی تھی، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد حرم قدسی میں جمع ہوئے۔ نمازیوں کی اتنی بڑی تعداد دیکھ کر قابض صہیونی فوج اور پولیس حواس باختہ ہوگئی، اور ا نہوں نے نمازیوں پر گولیاں، آنسوگیس اور لاٹھیاں برسا دیں۔ اس کے نتیجے میں کئی نمازی زخمی ہوئے۔ اس دوران قابض فوج نے مسجد اقصیٰ کے اطراف سے 4فلسطینیوں کو حراست میں بھی لے لیا۔

نمازِ فجر سے قبل باب حطہ یحییٰ جبارین نامی نوجوان کو گرفتار کیا گیا، جب کہ نماز کے بعد میں باب حطہ اور باب اسباط سے منیر باسطی اور محمد ابوشوشہ کو حراست میں لیا گیا۔ چوتھی گرفتاری باب اسباط سے عمل میں آئی، جہاں 70 سالہ فلسطینی علی عجاج کو حراست میں لے کر مسکوبیہ کے حراستی مرکز منتقل کردیا گیا۔ خیال رہے کہ بیت المقدس المقدس میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کی گرفتاریوں کے واقعات میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا گیا۔ گزشتہ برس اسرائیلی فوج نے بیت المقدس سے 2037 فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا۔ ان میں 498 بچے اور 77 خواتین شامل تھیں۔ دوسری جانب اسرائیل کی ایک فوجداری عدالت نے کم عمر فلسطینی بچے کو عمر قید کی سزا سنا دی۔ بچے کا نام ایہم صباح ہے، جسے2016ء میں اسرائیلی فوجی کو چاقو حملے میں ہلاک کرنے کے الزام میں سزا سنائی گئی ہے۔ کم عمر ہونے کے باوجود صہیونی عدالت کی طرف سے فلسطینی بچے کو عمر قید کی سزا اس بات کا ثبوت ہے کہ صہیونی ریاست کسی بین الاقوامی انسانی حقوق اورعالمی قانون کی پاسداری نہیں کرتی۔ خیال رہے کہ اسرائیل میں عمر قید کی سزا کم سے کم 40 سال ہے۔

یہ بھی دیکھیں

اقوام متحدہ کا بھارت سے کشمیری رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ

نیویارک: اقوام متحدہ کے چیف نے بھارت سے کشمیری رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کر …