پیر , 24 فروری 2020

شام میں امریکا کے سابق سفیر کا بیان، ٹرمپ ایران سے محدود جنگ کی کوشش میں ہے !

شام اور الجزائر میں امریکا کے سابق سفیر رابرٹ فورڈ کا کہنا ہے کہ امریکی معاشرہ اور حکومت، تہران-واشنگٹن کشیدگی کے بارے میں دو حصوں میں تقسیم ہوگئے ہے، کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ محدود جنگ کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے الشرق الاوسط میں شائع اپنے ایک مقالے میں لکھا کہ امریکی صدر ایران کے ساتھ محدود جھڑپ کے درپے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ سبھی نے صدر ٹرمپ کے جلدبازی اور بغیر سوچے سمجھے فیصلے کی وجہ سے ان کی مذمت کی۔

رابرٹ فورڈ نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ اور ان کی پارٹی کو ایران کے ساتھ کشیدگی سے کوئی مسئلہ نہیں ہے اور پولیٹیکو روزنامے میں آٹھ جنوری کو شائع ایک سروے کے مطابق ریپبلکن پارٹی کے 85 فیصد حامیوں نے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کی حمایت کی، پارٹی کے سربراہوں نے بھی ٹرمپ کا دفاع کیا اور کہا کہ ایران نے تقریبا چھ سو امریکی فوجیوں کو ہلاک کیا ہے اور سلیمانی کو جب بھی موقع ملتا امریکیوں کو قتل کرتے۔

ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر امریکی مشرق وسطی میں ایک اور بڑی جنگ کے خواہشمند نہیں ہیں۔ شام اور الجزائر میں امریکا کے سابق سفیر نے کہا کہ جب امریکی وزیر خارجہ مائک پومپئو نے کہا کہ سلیمانی کے قتل سے امریکیوں کی  سیکورٹی بڑھ گئی ہے، پولیٹیکو کے سروے سے پتا چلا کہ صرف 32 فیصد امریکیوں نے ان کی بات پر یقین کیا جبکہ اکثر امریکی یہ سوچ رہے تھے کہ سلیمانی کے قتل سے امریکا کی سیکورٹی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریبا 69 فیصد امریکی، ایران سے جنگ کے حوالے سے پریشان ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

امریکی پابندیاں کسی کورونا وائرس سے کم نہیں : ایرانی صدر

ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکہ کی نئی پابندیوں کو کورونا وائرس کی نئی قسم …