ہفتہ , 29 فروری 2020
تازہ ترین

عالمی ادارہ صحت نے خیبرپختونخوا میں ‘لشمانیاس’ کے پھیلنے کا خدشہ ظاہر کردیا

پشاور: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے رواں سال فروری میں صوبہ خیبرپختونخوا میں جلد کی بیماری لشمانیاس کے پھیلنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر کے حوالے سے آگاہی پھیلانے اور متاثرہ افراد کے مکمل علاج کی یقین دہانی کرانے کا مطالبہ کردیا۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے حکام نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘رواں سال اس مرض کے دوبارہ پھیلنے کے خدشات کے پیش نظر ہم نے صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر اس پر کنٹرول رکھنے کی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘عالمی صحت ایجنسی وزارت صحت سے رابطے میں ہے کیونکہ جلد کی یہ بیماری پورے ملک میں پھیل سکتی ہے اور اس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے حکمت عملی ضروری ہے’۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال خیبرپختونخوا میں لشمانیاس کے 40 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے تاہم مقامی مارکیٹوں میں انجیکشنز کے دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے مریض ڈبلیو ایچ او اور ایم ایس ایف کا رخ کرتے ہیں جن کی جانب سے پشاور کے نصیر اللہ خان بابر میموریل ہسپتال میں مئی 2018 میں قائم کیے گئے سی ایل سینٹر میں 5 ہزار مریضوں کا علاج کیا گیا تھا۔ایم ایس ایف کی جانب سے بنوں میں ایک اور سینٹر قائم کیا جارہا ہے جہاں قبائلی اضلاع کے مریضوں کا علاج کیا جائے گا۔ڈبلیو ایچ او کے ایمرجنسی یونٹس اور ڈیزیز کنٹرول یونٹ میں نگراں سیل نے بیماری کو پاکستان میں پھیلنے سے روکنے کے لیے اقدامات کا آغاز کردیا ہے۔

حکام کا ماننا ہے کہ صوبے میں گزشتہ سال ستمبر سے نومبر کے مہینے تک لشمانیاس کے پھیلاؤ کی صورتحال کا سامنا رہا تھا اور اب خدشہ ہے کہ فروری اور مارچ اور اس کے بعد جولائی میں اس بیماری کے دوبارہ پھیلنے کا خدشہ موجود ہے، جس کے لیے حفاظتی اقدامات ابھی نہیں کیے گئے تو مریضوں کی تعداد میں اضافی ہوگا۔عالمی ادارہ صحت کے حکام کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے چند انجیکشنز کا انتظام کرلیا ہے جسے حکومت کو ہنگامی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دیا جائے گا، عالمی سطح پر اس انجیکشنز کی کمی ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ تھرمو تھیرامی اور کرائیو تھیراپی مشینوں کا استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جسے گزشتہ سال خیبر پختونخوا حکومت اور قبائلی اضلاع کو فراہم کیا گیا تھا۔

حکام کا کہنا تھا کہ ‘ڈبلیو ایچ او نے خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت کو 4 مشینیں دی تھیں تاہم اس کے استعمال اور اس کے موثر ہونے کے حوالے سے معلومات کو عام نہیں کیا گیا، انہیں لشمانیاس کے مخصوص کیسز میں استعمال کیا جاتا ہے جس سے انجیکشنز کے استعمال کی ضرورت کم ہوجاتی ہے’۔گزشتہ سال ڈبلیو ایچ او نے محکمہ صحت کو 57 ہزار انجیکشنز دیے تھے، یہ انجیکشنز پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں جس کی وجہ سے انہیں درآمد کیا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ انجیکشن بہت کم پیمانے پر بنائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے یہ فوری طور پر بین الاقوامی مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہوتے۔انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے حکومت سے متعدد مرتبہ انجیکشنز کو رجسٹر کرنے کا کہا ہے کیونکہ یہ مرض ہر ضلع تک پھیل سکتا ہے اور اس کی دوا دستیاب نہیں، حکومت ڈبلیو ایچ او اور ایم ایس ایف پر لشمانیاس کے مریضوں کے علاج پر انحصار کرتی ہے’۔

یہ بھی دیکھیں

شامی فوج کے حملے میں ترکی کا ایک اور فوجی ہلاک

شام کے ادلیب علاقے میں ملکی انتظامیہ کی اشتعال انگیز کاروائیاں جاری ہیں۔علاقے میں اسد …