ہفتہ , 29 فروری 2020
تازہ ترین

بدامن مغربی ایشیا کی آڑ میں صدی کی ڈیل آگے بڑھانے کی کوشش

تحریر: احمد کاظم زادہ

موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جب سے صہیونی لابی کی مدد اور حمایت سے اقتدار سنبھالا ہے اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کی پشت پناہی کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ حتی ڈونلڈ ٹرمپ نے خارجہ پالیسی سے متعلق امریکہ کے دیرینہ اصولوں اور پالیسیوں سے بھی عدول کرتے ہوئے اسرائیل کی حمایت کی ہے۔ مثال کے طور پر مسئلہ فلسطین اور مقبوضہ فلسطینی سرزمینوں کے بارے میں قدیم ایام سے رائج دو ریاستی راہ حل سے کنارہ کشی اختیار کی اور اسرائیلی حکمرانوں کے موقف کی تائید کرتے ہوئے صرف یہودی ریاست کی تشکیل پر زور دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے فورا بعد مسئلہ فسلطین سے متعلق صدی کی ڈیل نامی راہ حل متعارف کروایا گیا جو مظلوم فلسطینی عوام پر سراسر ظلم اور ان کے بنیادی ترین حقوق کی پامالی پر مشتمل ہے۔ جلاوطن فلسطینی شہریوں کا وطن واپسی کا حق ایسا مسلمہ حق ہے جس پر دنیا کے تمام ممالک کے علاوہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے بھی زور دیتے آئے ہیں لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ صدی کی ڈیل نامی منصوبے میں حتی فلسطینیوں کے اس حق سے بھی چشم پوشی اختیار کی گئی ہے۔

اگرچہ صدی کی ڈیل نامی منصوبے کی تمام تر تفصیلات سامنے نہیں آئیں لیکن ابھی تک جو معلومات شائع ہو چکی ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ منصوبہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زبانی پیش کئے جانے کے باوجود اس کے پیچھے اصل محرک قوتیں صہیونی حکمران اور صہیونی لابی ہے۔ کیونکہ اس منصوبے میں اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کے تمام تر مطالبات کی مکمل ترجمانی کی گئی ہے۔ اس منصوبے میں ماضی میں اسرائیلی حکام اور فلسطینی حکام کے درمیان انجام پانے والے تمام مذاکرات اور معاہدوں کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے۔ مزید برآں مسئلہ فلسطین سے متعلق تمام انتہائی اہم درجہ کے ایشوز جیسے جلاوطن فلسطینیوں کی وطن واپسی، قدس شریف، یہودی بستیاں، اسرائیل کی حدود، پانی سے متعلق تنازعات وغیرہ میں اسرائیل کی مکمل جانبداری کی گئی ہے۔ درحقیقت اس منصوبے میں تمام تنازعات کا حل اسرائیل کو مکمل برتری دے کر پیش کیا گیا ہے۔ دوسری طرف منصوبے کو عملی جامہ پہنائے جانے کی راہ میں تمام تر مالی اخراجات عرب ممالک خاص طور پر سعودی عرب کے کاندھوں پر ڈال دیے گئے ہیں۔

صدی کی ڈیل نامی منصوبے کا ایک اہم اور بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اس تصور کے برخلاف جو ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ منصوبہ صرف مقبوضہ فلسطین تک محدود ہے، درحقیقت یہ منصوبہ مقبوضہ فلسطینی سرزمین سے کہیں زیادہ وسیع سرزمینوں پر محیط ہے۔ ایک طرف جدید مشرق وسطی نامی پراجیکٹ اور صدی کی ڈیل میں گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔ یاد رہے جدید یا گریٹر مڈل ایسٹ نامی منصوبہ اس وقت منظر عام پر آیا تھا جب امریکہ کی سابقہ وزیر خارجہ کینڈولیزا رائس نے 2006ء میں اس وقت کے امریکی صدر جارج بش کی جانب سے مشرق وسطی پر فوجی جارحیت کو گریٹر مڈل ایسٹ کیلئے درد زہ قرار دیا تھا۔ گریٹر مڈل ایسٹ نامی منصوبے کے آغاز سے چودہ برس گزر جانے کے بعد جب ہم مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کا جائزہ لیتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ اس خطے میں امریکہ تمام تر سیاسی اور فوجی اقدامات اسی منصوبے کو عملی شکل دینے کے مقصد سے انجام پائے ہیں۔ اب بھی امریکی صدر کی جانب سے جو صدی کی ڈیل نامی منصوبہ پیش کیا گیا ہے اس کا مقصد صہیونی حکمرانوں اور صہیونی لابی کے مدنظر اور مطلوبہ صورت کے مطابق خطے کو ڈھالنا ہے۔

گریٹر مڈل ایسٹ منصوبہ اور اس کے بعد صدی کی ڈیل نامی منصوبہ دو ایسے منصوبے ہیں جن کا انحصار حکومتوں پر نہیں بلکہ برعکس اس میں علاقائی حکومتوں کا خاتمہ اور انارکی پیدا کرنے پر زور دیا گیا ہے تاکہ بحران زدہ خطے میں اپنی مرضی کا سیاسی نظم حکمفرما کرنے میں آسانی ہو۔ لہذا اس تناظر میں گذشتہ چند ماہ کے دوران خطے کے اہم ممالک جیسے لبنان، شام، عراق اور ایران میں شروع ہونے والی بدامنی اور سیاسی و سکیورٹی بحران کے پس پردہ عوامل کو سمجھا جا سکتا ہے۔ لبنان اور عراق میں شدت پسند گروہ اور عناصر مکمل طور پر امریکی اور اسرائیلی حکام کے اشاروں پر چل رہے ہیں۔ جیسے ہی ملک میں سیاسی بحران پر قابو پانے کیلئے انجام پانے والی کاوشیں ثمر بخش واقع ہونے لگتی ہیں فورا ہی شدت پسندی کی ایک نئی لہر کا آغاز کر دیا جاتا ہے۔ ان امور سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ عراق سمیت خطے کے ممالک میں پائی جانے والی اندرونی مشکلات سے چشم پوشی نہیں برتنی چاہئے لیکن ساتھ ہی ساتھ ان ممالک میں موجود سیاسی و سکیورٹی بحرانوں کے حقیقی اسباب اور محرکات کو بھی مدنظر قرار دینا چاہئے۔ صرف ایسی صورت میں خطے سے متعلق امریکہ کے شیطانی منصوبوں اور سازشوں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

بھارت کی موذی حکومت، انجام کیا ہوگا

تحریر: ثاقب اکبر مختلف نیوز ایجنسیوں کی رپورٹس کے مطابق گذشتہ اتوار(23 فروری 2020ء) سے …