ہفتہ , 29 فروری 2020
تازہ ترین

این آر سی، خواتین کی تحریک کیخلاف سازشیں

رپورٹ: جے اے رضوی

بھارت کی مرکزی حکومت بھارتیہ جنتا پارٹی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی کے شاہین باغ سے شروع ہوئے خواتین کے احتجاج نے بھارت بھر میں اپنے مضبوط قافلے بنا لئے ہیں۔ حکومت حامی کچھ لوگ ان احتجاجوں سے بے چین ہو اٹھے ہیں اور اس تحریک کو بدنام کرنے کے لئے مذموم حربے و سازشیں اپنا رہے ہیں۔ شاہین باغ احتجاج کو بدنام کرنے کے لئے نہ صرف سوشل میڈیا کا سہارا لیا جا رہا ہے بلکہ کچھ میڈیا چینلوں کی احمقانہ حرکتوں نے ان پر پاکستان سے فنڈنگ کا الزام بھی عائد کرنا شروع کر دیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے تحت موجودہ این ڈی اے حکومت کے دوران ہر چیز کو پاکستان سے جوڑنے یا پاکستان کی عینک سے دیکھنے کی وباء پھیلی ہوئی ہے۔ ہر بات کو پاکستان سے جوڑنے اور عوام کو منفی کردار سے باور کرانے کی مہم نے وبائی شکل اختیار کر لی ہے۔ دہلی کے شاہین باغ احتجاج میں کچھ کانگریس لیڈر کیا پہنچے, اس پر کانگریس اسپانسیرڈ کا بھی الزام عائد کر دیا گیا۔ ایک پریس کانفرنس کے دوران کانگریس لیڈر پی ایل پونیا اور طارق انور نے اسے مسترد کرتے ہوئے بی جے پی کو جھوٹ پھیلانے والی پارٹی قرار دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بی جے پی کا بس نہیں چلتا تو وہ دروغ گوئی پر اتر آتی ہے۔

شاہین باغ احتجاج کے بارے میں ہر ایک جانتا ہے کہ خواتین خلوصِ دل سے کڑاکے کی سردی میں احتجاج پر بیٹھی ہیں اور تقریباً دو ماہ سے تسلسل کے ساتھ احتجاج پورے زور و شور سے جاری ہے۔ اب ایسے میں حکومت کا بے چین ہونا طے ہے۔ اسی لئے احتجاج حامی افراد اور کانگریس کے ذریعے بی جے پی پر احتجاج مخالف ہوا دینے کا الزام معقول وجوہات رکھتا ہے۔ احتجاج کو بدنام کرنے کے پس پردہ کئی طرح کے عزائم ہوسکتے ہیں، مگر اتنی بات تو طے ہے کہ بھارتی حکومت تلملا اٹھی ہے۔ یو پی اور دہلی جہاں بی جے پی کی حکومتیں ہیں، احتجاج کو دبانے کے لئے پولیس کی بربریت نے پولیس کی کارروائی کے تمام پرانے ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں۔ دہلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ کو پندرہ دسمبر 2019ء کے احتجاج میں جس طرح پولیس مظالم کا شکار بنایا گیا، وہ سبھی جانتے ہیں۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طلبہ پر پولیس کی نگرانی میں ہندو انتہا پسندوں کے یلغار کو بھی نہیں بھلایا جاسکتا ہے۔ یو پی میں مختلف احتجاجوں پر کس طرح پولیس نے کریک ڈاؤن کیا، وہ ہماری نظروں کے سامنے ہے۔ 16 دسمبر سے شاہین باغ میں خواتین نے احتجاجی دھرنا سنبھال لیا تو حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور مطالبات پر کان دھرنے کے بجائے احتجاجی دھرنے کو بدنام کرنے کے حربے اپنائے جا رہے ہیں۔

شہریت ترمیمی قانون دراصل پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش میں مذہبی بنیادوں پر مظلوم اقلیتوں کو شہریت دینے کے لئے تدوین کیا گیا ہے، جس میں مسلمانوں کے علاوہ تمام مظلوموں کے لئے کشادہ دلی کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ بھارتی آئین میں مذہبی بنیادوں پر قانون کو نہ تو جگہ دی گئی ہے اور نہ آج تک عدالتوں قانون کی تشریح مذہبی بنیادوں پر کی ہے، ایسے میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج اور مظاہرے تو فطری بات ہے۔ شاہین باغ نہ صرف ملک بلکہ بیرون ملک بھی سنی جا رہی ہے اور دنیا تنقید کر رہی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو بھارتی حکومت کے لئے پریشان کن ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے بھی احتجاجوں کو دیکھتے ہوئے ملک کی بے چینی تشویش کا اظہار کر دیا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ شہریت ترمیمی قانون کے بعد این آر سی اور این پی آر کی پیش بندی نے حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔ احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ مسلم طبقہ ترجیحی بنیادوں پر قانون کی زد میں ہے جبکہ تمام پسماندہ ذات اور برادریاں بھی اس قانون سے بری طرح متاثر ہوگی۔ تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ شہریت ترمیمی قانون مسلم مخالف کم اور غریب مخالف زیادہ ہے۔ ایسے طبقوں کے پاس اپنے موقف کی توجیہات بھی ہیں، کیونکہ آسام این آر سی میں رشوت ستائی سے لیکر تمام افسر شاہی دیکھی جاچکی ہے۔

شاہین باغ میں بیٹھی خواتین سے جب صحافیوں نے پانچ سو روپے کے بدلے احتجاج کرنے، کانگریس کے ذریعے احتجاج کی سرپرستی اور پاکستان سے اس کی فنڈنگ پر سوال کیا تو کانگریس لیڈر طارق انور اور پی ایل پونیا کا کہنا تھا کہ جھوٹ کی تبلیغ کرنے کا ہنر بی جے پی کو بہت اچھی طرح سے آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر بات کو پاکستان سے جوڑنا اور کانگریس کو بدنام کرنے میں بھاجپا کوئی کسر نہیں چھوڑتی ہے۔ طارق انور نے کہا کہ شاہین باغ کے احتجاج سے خواتین کو ایسی ترکیب ملی ہے کہ اب ممبئی، کولکتہ، پٹنہ، خاص طور پر لکھنؤ اور ملک بھر میں خواتین کے احتجاج شروع ہوگئے ہیں، تو کیا ان تمام مظاہرین کو پیسے ملتے ہیں۔ طارق انور نے کہا کہ دراصل جو لوگ سیکولرزم آئین اور بھارت کی مشترکہ تہذیب کی بات کرتے ہیں اور اس کی بقاء کے جس سوال کا جواب نہیں ہوتا، وہاں پاکستان آجاتا ہے۔

شاہین باغ کے احتجاج میں بیٹھی خواتین نے اپنے بارے میں ہونے والے پروپیگنڈے کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ پانچ سو روپے کے بدلے کوئی احتجاج تو کرسکتا ہے، لیکن پانچ سو کے بدلے کوئی گولی کھانے احتجاج میں نہیں آتا۔ غرض آج بھارت میں کئی دیگر مسائل ہیں، غربت و افلاس، مہنگائی اور بے روزگاری نے لوگوں کی کمر توڑ دی ہے۔ بھارت کی معیشت بحرانی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ ایسے میں بھارتی حکومت کو ملک کے مذکورہ مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کسی بھی پارٹی کی ہو، اس کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اگر ملک کا ایک بڑا طبقہ اس کے کسی اقدام سے بے چین ہو تو اس کی پریشانی دور کی جائے۔ اس پر سخت و پُرتشدد رویہ یا ہٹ دھرمی نہ تو بھارت آئین کا سبق ہے اور نہ ہی سیکولرزم و جمہوریت کے دعوے داروں کو یہ تفریق زیب دیتی ہے۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

بھارت کی موذی حکومت، انجام کیا ہوگا

تحریر: ثاقب اکبر مختلف نیوز ایجنسیوں کی رپورٹس کے مطابق گذشتہ اتوار(23 فروری 2020ء) سے …