ہفتہ , 29 فروری 2020
تازہ ترین

مکتب سلیمانی

تحریر: سید میثم ہمدانی

دل زندہ و بیدار اگر ہو تو بتدریج
بندے کو عطا کرتے ہیں چشمِ نِگَراں اور
احوال و مقامات پہ موقوف ہے سب کچھ
ہر لحظہ ہے سالک کا زماں اور مکاں اور
الفاظ و معانی میں تفاوت نہیں لیکن
مُلّا کی اذاں اور، مجاہد کی اذاں اور
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے، شاہیں کا جہاں اور
شہید قاسم سلیمانی اور ان کے رفیق ہمراہ شہید ابو مہدی المہندس کی شہادت ایسا تاریخ ساز واقعہ تھا کہ جس نے پوری دنیا کے آزاد اندیشوں اور حریت پسندوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ دشمن نے جس خون کو بغداد کے ائیرپورٹ پر فاسفورس ہتھیاروں کے دھوئیں میں ختم کرنا چاہا، وہ سر کوچہ و بازار آنکلا۔ یہ مجاہد خون جس طرح اپنی زندگی میں اس شیطانی دشمن کو راتوں کو جاگنے پر مجبور کرتا رہا، اب اپنی شہادت کے بعد پہلے سے بڑھ کر دشمن کی آنکھوں سے نیند اور زندگی سے سکون کو چھین کر لے گیا۔

سری لنکا سے امریکہ تک، پاکستان سے افریقا تک، ہندوستان سے ویتنام تک ہر ایک نے اپنے اپنے انداز میں شہداء کی جرائت و شجاعت کو داد دی اور دشمن کی بزدلی کی مذمت کی۔ سب سے زیادہ بڑھ کر جس قوم نے ان شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا، وہ خود عراق اور ایران کے عوام تھے۔ عراق کے بڑے بڑے شہروں بغداد، کربلا، نجف وغیرہ میں عظیم الشان جلوس منعقد ہوئے اور پھر اس کے بعد ایران کی سرزمین پر اہواز، مشہد، تہران، قم اور کرمان کے لوگوں نے جس شاندار انداز میں شہداء کے مقطوع اجساد کا استقبال کیا، وہ بے نظیر تھا جبکہ دیگر مختلف شہروں میں لاکھوں لوگوں نے شہداء کی یاد میں اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ اس واقعے کے بعد رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے اپنے عظیم الشان خطبہ جمعہ میں شہید کے بارے میں مفصل گفتگو کی اور اس موضوع کے مختلف پہلووں پر بات کی۔ رہبر انقلاب اسلامی نے شہید کے بارے میں بات کرتے ہوئے فرمایا کہ "اگر ہم ان واقعات کی اہمیت کو سمجھنا چاہیں تو ہمیں شہید حاج قاسم سلیمانی اور شہید ابومہدی کو ایک شخص کے حوالے سے نہیں بلکہ ایک مکتب، ایک راہ اور ایک سبق آموز مدرسہ کے حوالے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔”

یہ "مکتب” کیا ہے، اس "مدرسہ” کی خصوصیات کیا ہیں، جس سے سلیمانی اور ابومہدی مہندس جیسے عظیم مجاہد پیدا ہوتے ہیں، جن کا مقابلہ کرنے کیلئے دنیا کی سپر طاقتیں اس حد تک عاجز آجاتی ہیں کہ ان کے پاس ان کے خون کے بہانے کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں بچتا۔ ان عظیم مردان مجاہد کو جو کبھی عباس موسوی کی شکل میں لبنان میں تو کبھی عارف حسینی اور محمد علی نقوی کی شکل میں پاکستان کی سرزمین پر اور کبھی باقر الصدر اور بنت الہدیٰ کی صورت میں عراق کی سرزمین پر اور کبھی سلیمانی جیسے مجاہدوں کے روپ میں ایران کی سرزمین پر ظاہر ہوتے ہیں، نہ خریدا جا سکتا ہے، نہ جھکایا جا سکتا ہے اور بالآخر دشمن مجبور ہو جاتا ہے کہ ان کو اپنے پیشوا و مقتدا حسین بن علی علیہ السلام کی مانند ان کے مقدس لہو میں غرق کر دے اور جہاں یہ ان کی اپنی عاجزی اور شکست کا اعتراف ہے، وہیں ان ہستیوں کے لئے لقاء اللہ کی منزل تک پہنچنے اور فزت برب الکعبہ کے درجہ پر فائز ہونے کا وسیلہ ہے۔ اس مکتب کی دو بنیادی خصوصیات کی طرف مختصر اشارہ کرتے ہیں:

1۔ خدا محوری
اس مکتب کی سب سے بڑی خاصیت خدا کو اپنی زندگی کا مرکز و محور قرار دینا ہے۔ ہر کام کو خدا کی خاطر انجام دینا اور خدا کو اپنی مکمل زندگی کے اندر حقیقی موثر جاننا و ماننا ہے۔ یہ خدا محوری ہی ہے، جو انسان کو توکل الی اللہ کی منزل کی جانب لے جاتی ہے اور اس کا عمل خالص ہو جاتا ہے۔ خلوص کا مقام اس کو شہادت کے مرتبہ پر فائز ہونے کے قابل بناتا ہے۔ خدا محوری اس مکتب کی سب سے اہم خاصیت ہے، یہی وجہ ہے کہ اس مکتب کے شاگردان بھی اسی طرح فکر کرتے ہیں اور ان کا کردار بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ زینبیون بریگیڈ کے ایک شہید کہ جو اسی مکتب سلیمانی کے شاگردوں میں سے ایک مصداق ہے کہ کے حوالے سے مشہور ہے کہ وہ دشمن کے سامنے مورچہ میں بھی خدا کی یاد میں رہتا تھا، اس سے جب پوچھا گیا کہ تم خدا کے بارے میں کیسے سوچتے ہو تو اس نے برجستہ جواب دیا کہ جہاں خدا کے بارے میں سوچا نہیں جاتا بلکہ خدا کو دیکھا جاتا ہے۔

بہت سی احادیث اور روایات بھی اس باب میں اسی قسم کی تعلیمات دیتی ہیں۔ بعض روایات کا مضمون یوں ہے کہ جو شخص لوگوں کو خوش کرنے کیلئے خدا کو ناراض کر دے تو وہ نہ اس دنیا میں اور نہ ہی آخرت میں کامیاب و کامران نہیں ہوسکتا اور حتیٰ وہ لوگ بھی اس سے راضی نہیں ہوتے، لیکن جو خدا کی رضا کے حصول میں کامیاب ہو جائے تو وہ اس دنیا میں بھی کامیاب بلکہ آخرت میں بھی اعلیٰ درجات کا مالک ہوتا ہے اور یہ بات تو کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ ان شہداء کی تکوینی ولایت جو انسانوں کے دلوں کو اسیر کر لیتی ہے اور ان کو اپنے عشق میں مبتلا کرکے اس طرح جوق در جوق اظہار حق پر مبعوث کر دیتی ہے اور وہ عنداللہ ہونے کی نعمت کی بدولت ہے، جو خداوند تبارک و تعالیٰ ان مجاہدین کی زندگی میں خدا محوری پر ان کو عطا فرماتا ہے۔

2۔ مقاومت اور جہاد فی سبیل اللہ
اس مکتب کی دوسری اہم خاصیت خدا کے راستے میں مزاحمت کے راستہ کا انتخاب ہے۔ اس مکتب کے پیروکار دشمن کے مقابلے میں سرتسلیم خم کرنے یا اس کے جھوٹے وعد و وعید کو قبول کرنے کی بجائے راہ جہاد فی سبیل اللہ کا انتخاب کرتے ہیں۔ اس مکتب کی "شجاعت” اور اس کی "حمیت” اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ دشمن کی مادی طاقت کے سامنے "سرنڈر” کر دیا جائے اور اس مکتب کی”بصیرت” اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ دشمن کے سازشوں کا شکار ہو کر "بے مہارے شتر” اور "بے آسرا گوسفند” کی مانند دشمن کے پیچھے چل پڑے یا اس کے بنائے ہوئے جال میں پھنس کر اسی کے میدان میں کھیلنا شروع کر دے۔ یہ مکتب مزاحمت اور جہاد فی سبیل اللہ کا مکتب ہے، جو اپنے سرخ خون کی لکیر کھینج کر اپنی عظمت اور شجاعت کی گواہی دیتا ہے، لیکن دشمن کے مقابلے میں شکست، ذلت اور مایوسی کو قبول نہیں کرتا۔ اس مکتب میں مایوسی اور اپنے ہدف سے عقب نشینی کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔

جس وقت پوری دنیا کے انجاس مل کر حرم حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا کا محاصرہ کر لیتے ہیں تو اس وقت رہبر انقلاب اس حرم آل اللہ کے دفاع کا حکم دیتے ہیں اور خط مقاومت کو جاری رکھنے کا فرمان جاری کرتے ہیں تو اس کے باوجود کہ دنیا کے تمام ماہرین اس بات پر اتفاق نظر رکھتے تھے کہ اب بس چند دنوں کی بات ہے کہ جس انداز میں شام اور عراق میں ان مسلح گروہوں کو منظم کیا گیا ہے، ان کو روکنا کسی کے بس کی بات نہیں ہے تو وہاں اس مکتب سلیمانی کے شاگر اپنے پیر و مرشد کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے "آتش نمرود” میں کود پڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب عراق کے ایک شہر میں داعش نے مکمل طور پر مومنین کے ایک علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور چاروں طرف سے محاصرہ کو تنگ کرتے ہوئے ان بے گناہ شہریوں کی جانوں کا ارادہ کرنے لگے تو شہید قاسم سلیمانی دشمن کے سر کے اوپر سے ہیلی کاپٹر میں سوار اس محاصرہ شدہ علاقے میں داخل ہو جاتے ہیں، سب روکنے والے ہیں، سب منع کر رہے ہیں کہ ایسا کام انتہائی خطرناک ہے، لیکن یہ مزاحمت و مقاومت اور جہاد فی سبیل اللہ کا مکتب ہے۔ اس علاقے میں داخل ہونے کے بعد وہاں کے نوجوانوں کو دشمن کے مقابلے میں منظم کرتے ہیں اور دشمن کے یقینی حملے سے پورے علاقے کو نجات دلاتے ہیں۔

لبنان میں اسرائیل کی جانب سے چھیڑی گئی جنگ ہو تو مزاحمت و جہاد کا علمدار تینتیس دن تک مسلسل سید حسن نصر اللہ کے شانہ بشانہ یہودی دشمن کے مقابلے میں ڈٹا رہتا ہے اور یہی مقاومت اور صبر کا نتیجہ ہے کہ بالآخر نصرانی دشمن کے پاس اس مرد مجاہد کو شہید کرنے کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں بچتا اور امریکہ جیسی سپر پاور مجبور ہو جاتی ہے کہ انتہائی بزدلانہ انداز میں میدان رزم کو چھوڑتے ہوئے ایک سویلین ائیرپورٹ پر سویلین گاڑی کے اندر مرد مجاہد کو نشانہ بنائے، چونکہ مکتب مزاحمت و جہاد کے میدان میں مقابلہ کرنا آسان نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ ایسے مکتب کے پیروکاروں کا ہدف و آرزو شہادت ہے، دشمن جس چیز سے مردان مجاہد کو ڈراتا ہے، وہ ان مجاہدوں کی آرزو اور تمنا ہوتی ہے۔ ایسے مجاہدوں کی تجلیل و تقدیر ان کے راستے کو زندہ رکھنا، ان کے راہ کے راہی بننا اور ان کے ہاتھوں سے علم کو تھام کر آگے بڑھنا ہے، کیونکہ نہ تو وہ ہماری نیازوں کے محتاج ہیں اور نہ ہی ہماری ترحیم کے، یہ وہ ہستیاں ہیں، جو عند اللہ ماجور و مرزوق ہیں اور عند ربھم یرزقون ہیں۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

بھارت کی موذی حکومت، انجام کیا ہوگا

تحریر: ثاقب اکبر مختلف نیوز ایجنسیوں کی رپورٹس کے مطابق گذشتہ اتوار(23 فروری 2020ء) سے …