جمعہ , 22 مارچ 2019

برطانیہ میں ریفرنڈم کے نتائج کے بعد غیر ملکیوں پر حملوں میں شدت

eureffinal

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) یورپی یونین میں رہنے یا نکلنے کے بارے میں ہونے والے ریفرینڈم کے نتائج کے بعد برطانیہ میں غیرملکیوں پر حملوں میں پانچ گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ذرائع کے مطابق جب سے برطانیہ میں یورپی یونین سے نکلنے کے بارے میں ریفرینڈم کے نتائج کا اعلان ہوا ہے تب سے اب تک اس ملک میں مقیم اقلیتوں کے خلاف نسل پرستانہ اور نفرت پر مبنی اقدامات میں پانچ گنا اضافہ ہو گیا ہے۔اخبار انڈیپنڈنٹ نے اس بارے میں لکھا ہے کہ یورپی یونین سے برطانیہ کے نکلنے کے فیصلے کے صرف ایک ہفتے کے بعد برطانیہ میں نسل پرستانہ اقدامات پانچ گنا بڑھ گئے ہیں۔اس رپورٹ کے مطابق لندن میں نسل پرستانہ اقدامات کا دائرہ اتنا پھیل گیا ہے کہ پولیس کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔اقوام متحدہ کے ایک عہدیدار نے بھی اس بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ میں لوگوں کو یورپی یونین سے نکلنے کے فیصلے کو اس ملک میں مقیم اقلیتوں پر حملے کے لیے جواز نہیں سمجھنا چاہیے اور ہمیں امید ہے کہ یہ نسل پرستانہ اقدامات جلد ہی رک جائیں گے۔اسی سلسلے میں برطانیہ میں رہنے والی پولینڈ کی کمیونٹی نے اپنے افراد پر ہونے والے حملوں اور نسل پرستانہ اقدامات پر تنقید کی ہے۔ اس صورت حال کی وجہ سے برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے پولینڈ کے حکام کو اپنی تشویش سے بھی آگاہ کیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

سمجھوتا ایکسپریس کیس پر سابق بھارتی جج کا رد عمل

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) سانحہ سمجھوتا ایکسپریس پر سابق بھارتی جج مرکنڈے کاٹجو نے بھی رد ...