منگل , 23 مئی 2017

’’آل سعود کی حقیقت‘‘حیران کن انکشافات

n00457784-b

ترجمہ:فاروق طارق
سعودی عرب دنیا کی وہ واحد مملکت ہے جس کا نام کسی خاندان کے نام پر ہے ،سعودی عرب پر فرمانروا خاندان آل سعود کا پس منظر کیا ہے؟،اس خاندان کے آباء و اجداد کون ہیں؟اس خاندان کا تعلق کیا واقعی عرب کے مشہور خاندان عنزہ سے ہے جیسا کہ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے؟،کیا آل سعود حقیقت میں عربی النسل ہیں؟ یا یہ کسی اور خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور کیا ان کے آباو اجداد مسلمان تھے یا ان کا تعلق کسی دوسرے مذہب سے تھا؟یہ وہ تمام سوالات تھے جو تحقیق طلب تھے،چنانچہ اس تحقیق کا بیڑا محمد ساخر نے اٹھایا،محمد ساخر کی یہ ریسرچ اس کے لیے موت کا پروانہ لے کر آئی اور سعودی حکام نے اپنی اصل حقیقت سامنے آنے پر اس شخص کو سزائے موت دے دی۔
محمد ساخر کی ریسرچ
851ھ میں قبیلہ عنزہ کی ایک شاخ آل مسالیخ سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نے ایک تجارتی کارواں تشکیل دیا جس کا مقصد عراق سے غذائی اجناس خرید کر انہیں نجد لانا تھا،اس قافلے کا سالار سامی بن مثلول تھا،اس قافلے کا گزر جب بصرہ کے بازار سے ہوا تو قافلے کے کچھ لوگوں نے اشیائے خوردونوش خریدنے کے لیےبصرہ کے بازار کا رخ کیا،وہاں وہ ایک تاجر کے پاس پہنچے،یہ تاجر یہودی تھا،اس کا نام مردخائی بن ابراہیم بن موسیٰ تھا،خریدو فروخت کے دوران اس تاجر نے ان لوگوں سے پوچھا کہ تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟انہوں نے جواب دیا کہ ان کا تعلق عنزہ قبیلے کی ایک شاخ ال مسالیخ سے ہے،یہ نام سننا تھا کہ یہودی کھڑا ہوا اور وہ ان میں سے ہر فرد سے بڑے تپاک کے ساتھ گلے ملا،اس نے بتایا کہ وہ خود اس قبیلے کی شاخ سے تعلق رکھتا ہے لیکن اپنے والد کے عنزہ قبیلے کے بعض افراد سے ایک خاندانی جھگڑے کی وجہ سے اس نے بصرہ میں آکر رہائش اختیار کر لی،اس نے اپنے خادموں کو حکم دیا کہ قافلے والوں کے تمام اونٹوں پر گندم ،کھجور اور چاول کی بوریاں لاد دو،یہودی تاجر کے اس رویے نے قافلے والوں کو حیران کر دیا،وہ انتہائی خوش ہوئے کہ عراق میں ان کے ایک خاندان کا فرد مل گیا ہے،جو ان کے رزق کا وسیلہ ہے،انہوں نے اس کی ہر بات پر من و عن یقین کر لیا،اگرچہ وہ تاجر یہودی تھا لیکن چونکہ مسالیخ قبیلے کے لوگوں کو اناج کی شدید ضرورت تھی لہٰذا انہوں نے اس کی مہمان نوازی کو اپنے لیے غنیمت جانا،جب قافلہ اپنا واپسی کا رخت سفر باندھ رہا تھا تو اس نے اہل قلم سے درخواست کی کہ وہ اگر اسے بھی اقپنے ہمراہ لے لیں تو یہ اس کے لیے بڑی خوش بختی ہوگی ،کیونکہ اس کی عرصہ دراز سے خواہش ہے کہ وہ اپنے آبائو اجداد کے وطن کو دیکھے ،نجد پہنچ کر اس نے لوگوں سے راہ و رسم بڑھانا شروع کر دی اور کئی افراد کو اپنی چرب زبانی کی بنا کر اپنے حلقہ اثر میں لانے میں کامیاب ہوگیا،لیکن غیر متوقع طور پر اسے وہاں القسیم سے تعلق رکھنے والے ایک مذہبی رہنماشیخ صالح السلمان العبد اللہ کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ،اس مذہبی عالم کی تبلیغ کا دائرہ نجد،یمن اور حجاز تک پھیلا ہوا تھا،یہودی کو اس شخص کی مخالفت کی وجہ سے مجبوراً یہ علاقہ چھوڑنا پڑا اور وہ القسیم سے الاحیاء آگیا،یہاں آکر اس نے اپنا نام تبدیل کر دیا اور ’’مردجائی‘‘ سے مرخان بن ابراہیم موسیٰ بن گیا،پھر وہ یہاں سے القطیف کے قریب ایک علاقہ دراعیہ میں قیام پذیر ہوگیا،یہاں اس نے مقامی باشندوں میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے لیے ایک من گھڑت کہانی کا سہارا لیا،کہانی یہ تھی کہ رسول اللہؐ کے زمانے میں مسلمانوں اور کفار کے مابین لڑی جانے والی جنگ احد میں ایک کافر کے ہاتھ رسول پاکؐ کی ڈھال لگ گئی،اس کافر نے یہ ڈھال بنو قنیقہ کے ہاتھ فروخت کر دی،بنو قنیقہ نے اسے ایک بیش بہا خزانہ سمجھتے ہوئے اپنے پاس محفوظ رکھا ،یہودی تاجر نے اس علاقے کے بدوئوں کے درمیان اس طرح کی کہانیاں پھیلانا شروع کر دیں،ان من گھڑت کہانیوں کے ذریعے وہ یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ عربوں میں یہودی قبائل کاکتنا اثر ہے اور وہ کس قدر لائق احترام ہیں،اس نے اس طریقے سے عرب دیہاتیوں ،خانہ بدوشوں،بدوئوں اور سادہ لوح افراد میں اپنا ایک مقام و مرتبہ بنا لیا،آخر اس نے ارادہ کر لیا کہ وہ مستقل طور پر القطیف کے قریب درعیہ قصبے میں قیام کرے گااور اسے اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنائے گا،اس کے خیال میں یہ علاقہ عرب میں بڑی یہودی سلطنت کے قیام کے لیے راہ ہموار کرے گا،اپنے ان مقاصد کی تکمیل کے لیے اس نے عرب کے صحرائی بدوئوں سے روابط شروع کر دیے،اس نے اپنے آپ کو ان لوگوں کا ملک یعنی بادشاہ کہلوانا شروع کر دیا،اس موقع پر دو قبائل قبیلہ عجمان اور قبیلہ بنو خالد اس یہودی کی اصلیت کو جان گئے اور فیصلہ کیا کہ اس فتنے کو یہیں ختم کر دیا جائے ،دونوں قبائل نے باہم اس کے مرکز درعیہ پر حملہ کر دیا اور اس قصبے کی اینٹ سے
اینٹ بجا دی،جبکہ مرد فائی جان بچا کر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگیااور العارض کے نزدیک المالی بید غثیبہ کے نام سے ایک فارم میں پناہ لی یہی العارض آج ریاض کے نام سے جانا جاتا ہے، جو سعودی عرب کا دارالخلافہ ہے،مرد خائی نے اس فارم کے مالک کو جو بہت بڑا زمیندار تھا سے درخواست کی کہ وہ اسے پنا ہ دے،فارم کا مالک اتنا مہمان نواز تھا کہ اس نے مرد فائی کی درخواست قبول کر لی اور اسے اپنے ہاں پناہ دے دی لیکن مردفائی کو اپنے میزبان کے پاس ٹھہرے ہوئے ایک ماہ ہی گزرا تھا کہ اس نے اپنے محسن اور اس کے اہل خانہ کو قتل کردیا اور بہانہ یہ کیا ان تمام کو چوروں کے ایک گروہ نے قتل کیا ہے،اس کے ساتھ اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس افسوس ناک واقعہ سے قبل اس نے اس زمیندار سے اس کی تمام جائیداد خرید لی تھی،لہٰذا اب اس کا حق بنتا ہے کہ اب وہ یہاں ایک بڑے زمیندار کی حیثیت رہے،مرد فائی نے اس جگہ پر قبضہ جمالینے کے بعد اس کا نام تبدیل کر کے اپنے پرانے کھوئے ہوئے علاقے کا نام پر آل درعیہ رکھااور اس غصب شدہ زمین پر فوراً ہی ایک بڑا مہمان خانہ تعمیر کروایا جس کا نام اس نے مضافہ رکھا،یہاں رہتے ہوئے اس نے آہستہ آہستہ اپنے مرید ین کا ایک حلقہ بنا لیا جنہوں نے لوگوں کے درمیان یہ غلط طور پر مشہور کرنا شروع کر دیا کہ مرد فائی ایک مشہور عرب شیخ ہے،کچھ عرصے بعد اس نے اپنے اصل دشمن شیخ صالح سلمان عبداللہ التمیمی کو ایک منصوبے کے تحت قصبہ آل زلافی کی مسجد میں قتل کرا دیا،اس اقدام کے بعد وہ ہر طرف سے مطئمن ہوگیا اور درعیہ کو اپنا مستقل ٹھکانا بنا لیا،درعیہ میں اس نے کئی شادیوں کی جن کے نتیجے میں وہ درجنوں بچوں کا باپ بنا،اس نے اپنے ان تمام بیٹے بیٹیوں کے نام خالص عرب ناموں پر رکھے،یہودی مرد فائی کی یہ اولاد ایک بڑے عرب خاندان کی شکل اختیار کر گئی،اس خاندان کے لوگوں نے مرد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے غیر قانونی طریقوں سے لوگوں کی زمینیں ہتھیانا شروع کردیں اور ان کے فارموں پر قبضہ کرنا شروع کردیا،اب یہ اس قدر طاقتور ہوگئے کہ جو کوئی بھی ان کی شر انگیزیوں کے خلاف آواز اٹھاتا اسے قتل کر وا دیتے،یہ اپنے مخالف کو زیر کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرتے،اپنے اثرورسوخ کو مزید بڑھانے کے لئے انہوں نے رابعہ عنزہ اور المسالیخ جیسے مشہور عرب قبائل کو اپنی بیٹیاں دیں، مرد فائی کے لاتعداد بیٹوں میں سے ایک بیٹے کا نام المقارن تھا،المقارن کے ہاں پہلا بیٹا پیدا ہوا جس کا نام محمد رکھا گیا تھا،محمد کے بعد القارن کے ہاں اس کے دوسرے بیٹے نے جنم لیا جس کا نام سعود رکھا گیا،یہودی مردفائی کے اسی بیٹے کی نسل بعد میں آل سعود کہلائی۔سعود کی اولاد نے اس کے بعد عرب قبائل کے چیدہ چیدہ افراد کو قتل کرنا شروع کر دیا ان پر الزام یہ لگایا کہ یہ لوگ قرآنی تعلیمات سے رو گردان ہوگئےہیں،لہٰذا اسلامی قوانین کے تحت یہ مرتد ہیں اور مرتد کی سزا موت ہے،سعودی خاندان یا آل سعود کے آپنےدرباریوں کے مطابق اور سعودیوں کے نزدیک اس وقت کے نجد کے تمام لوگ گستاخان اسلام تھے ،لہٰذا ان سب کو قتل کر دینا چاہیے،ان کی جائیدادوں کو ضبط کرلینا اور ان کی عورتوں کو لونڈیاں بنا لینا جائز ہے،ان کے نزدیک وہ شخص جو محمد بن عبدالوہاب (اس کے آبائو اجداد بھی ترکی کے یہودی تھے)
کے عقیدے سے متفق نہیں ہے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے،محمد بن عبدالوہاب کی تعلیمات کے مطابق سعودی خاندان کو اس امر کی اجازت تھی کہ وہ اپنے مخالفین کے دیہاتوں کو مسمار کریں ،ان کی عورتوں اور بچوں کا قتل عام کریں ان کی خواتین کی عصمت دری کریں ،حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کر کے ان کے بچوں کے ہاتھ کاٹ دیں اور پھر انہیں جلادیں،اس وحشی خاندان نے عملاً ہر مذہب(وہابیت) کے نام پر یہ تمام جرائم کیے،عقیدہ وہابیت جو حقیقت میں ایک یہودی کی تخلیق تھا اور جس کا مقصد مسلمانوں کے اندر انتہا پسندی اور دہشت گردی اور فرقہ واریت کے بیج بونا تھا،اس کے پیرو گاروں نے 1163 ہجری سے آج تک قتل و غارت کا ایک بازار گرم کیا ہوا ہے ،آل سعود کا اسلامی تاریخ کے ساتھ ایک اور ظلم یہ کہ اس نے حجاز کا نام بھی تبدیل کر کے اپنے خاندانی نام پر سعودی عرب رکھ دیا، گویا یہ تمام خطہ ان کی ذاتی ملکیت ہے اور اس کے باشندے ان کے ذاتی غلام ہیں ،اپنے آقائوں کی خوشنودی کے لئے شب ور وز ایک کیے ہوئے ہیں،سعودی خاندان اس ملک کے تمام قدرتی وسائل کو اپنی ذاتی جائیداد سمجھتے ہیں،اگر کوئی عام شخص اس خاندان کے کسی فرد کے خلاف آواز اٹھائے تو سر عام اس کا سر قلم کر دیا جاتا ہے،ایک دفعہ ایک سعودی شہزادی نے اپنے مصاحبوں کے ساتھ امریکہ کا دورہ کیا،جہاں فلوریڈا کے ایک ہوٹل میں اس نے 90 کمرے بک کرائے جن کا ایک رات کا کرایہ ایک ملین ڈالر تھا،کیا کوئی سعودی شہری دولت کے اس اصراف پر زبان سے ایک لفظ بھی کہہ سکتا ہے؟اگر کہے گا تو اس کا انجام ہر کوئی جانتا ہے،یعنی کسی چوراہے پر سب کے سامنے جلاد کے ہاتھوں اس کے سر کی تن سے جدائی۔

آل سعود کے یہودی النسل ہونے کے گواہان
1960 میں مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے ریڈیو اسٹیشن ’’صوت العرب‘‘ اور یمن کے دارالحکومت صنعا کے ریڈیو اسٹیشن نے اس بات کی تصدیق کی کہ آل سعود کے آبائو اجداد یہودی تھے،
سعودی بادشاہ شاہ فیصل نے 17 ستمبر 1969 کو واشنگٹن پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں تسلیم کیا کہ اس کے آبائو اجدا د یہودی تھے۔
آل سعود کے ایک قانونی مشیرحافظ واہی نے جزیرۃ العرب کے نام سے اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے کہ شاہ عبد العزیز السعود جس کا انتقال1953 میں ہوا تھا نے ایک دفعہ ایک واقعہ سنایا اور کہا کہ ہمارے تمام مخالف قبیلوں کے لئے اس واقعے میں ایک عبرت کا سامان ہے،واقعہ یہ ہے کہ میرے دادا سعود اول نے ایک دفعہ اپنے مخالف قبیلہ مثیر کے کئی افراد کو گرفتار کر لیا اور جب اسی قبیلے کے افراد کا ایک گروہ ان کے پاس ان لوگوں کی رہائی کی سفارش لے کر آیا تو اپنے جلادوں کو حکم دیا کہ وہ ان تمام قیدیوں کے سر کاٹ دے،پھر اس نے ان قیدیوں کی سفارش کےلئے آنے والے لوگوں سے کہا کہ میں نے آپ کےلیے ایک عمدہ ضیافت کا اہتمام کیا ہے،چنانچہ دستر خوان بچھایا گیا اور دستر خوان پر جو طشت رکھے گئے ان میں ان قیدیوں کے جسموں کے بھنے ہوئے اعضاء اور ان کے اوپر ان قیدیوں کے سروں کو سجا کر رکھا گیا تھا،سعود اول نے سفارش کے لئے آنے والے ان قبائلیوں کو کہا کہ کھانا تناول فرمائیں ،قبائیلیوں نے اپنے بھائیوں کا گوشت کھانے سے انکار کر دیا تو انہیں بھی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا،یہ اور اس طر ح کے کئی مظالم ہیں جو آل سعود ان لوگوں کے ساتھ کیے ہیں جنہوں نے ان کی ناجائز حکمرانی کے خلاف ذرا بھی آواز اٹھائی۔
حافظ واہی نے اس طرح کا ایک اور واقع سنایا جب اسی قبیلے کے سردار فیصل الدرویش کو گرفتار کیا گیا،قبیلے کے سرکردہ شیوخ اپنے سردار کی رہائی کی سفارش لے کر سعود اول کے پاس آئے،بادشاہ نے ان شیوخ کو انہی کی طرح پہلے آنے والے سفارشیوں کے گروہ کی داستان عبرت سنائی اور ان سے کہا کہ تمہارے ساتھ بھی یہی سلوک ہو سکتا ہے،بادشاہ نے فیصل ادرویش کو ان کی سفارش کے باوجود قتل کر دیا اور جب یہ لوگ نماز کی ادائیگی کی تیاری کرنے لگے تو انہیں وضو کے لئے فیصل درویش کا خون پیش کیا گیا۔فیصل درویش کا جرم یہ تھا کہ اس نے عبدالعزیزالسعود کے انگریزوں کے ساتھ اس معاہدے پر تنقید کی تھی جس کے تحت فلسطین کو یہودیوں کے سپرد کر دیا گیا تھا،سعود اول نے اس معاہدے کی دستاویزات پر دستخط 1922 میں AL agerمیں ہونے والی ایک کانفرنس میں کیےتھے،یہ وہ تمام تصدیق شدہ حقائق ہیں جو صفحہ تاریخ پر محفوظ ہیں،آل سعود نے وہابیت کی چھتری تلے جن جرائم کا ارتکاب کیا ہے وہ دل دہلا دینے والے ہیں،آل سعود لاکھ اپنی اصلیت کو چھپائیں لیکن ان کے یہ جرائم ان کے چہرے سے نقاب اتارنے کے لیے کافی ہیں،ایک نہ ایک دن بہرحال انہیں اس کا حساب دینا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ہم بھی وہیں موجود تھے !

وسعت اللہ خان اب تک مجھے مصر کے آمر عبدالفتح السسی کی ٹرمپ سے ریاض ...

ایک تبصرہ

  1. Behtreen article jis me Al Saud ka chehra wazeh hogya

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے