منگل , 31 مارچ 2020

امتِ مسلمہ ہوشیار باش

ایک بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ مذاکرات کی میز کے گرد بیٹھنے والے قاتل جینٹل مینز حاج قاسم سلیمانی کو انکی شھادت سے پہلے اچھی طرح نہیں پہچانتے تھے دشمن کو انکی طاقت کا صحیح معنوں میں ادراک اسوقت ہوا جب تین جنوری کی صبح حاجی کی لاش کے بکھرے اعضاء نے امتِ مسلمہ کو ایک لڑی میں پرو دیا دنیا کے کونے کونے سے امریکہ کے خلاف نفرت کا لاوا ابل پڑا۔

اگرچہ جواری ٹرمپ نے اپنے حواریوں کے ساتھ ملکر کوشش کی کہ کسی طرح حاج قاسم شھید کو دنیا کے سامنے دہشت گرد بنا کر پیش کیا جا سکے اس سلسلے میں وطن عزیز پاکستان میں بیٹھے استعماری ایجنٹوں نے بھی اپنی سی کوششیں کیں لیکن سات جنوری کو شھداء کی نماز جنازہ کے موقع پر حماس کے اسماعیل ھنیہ نے شھید قاسم کو ” شھید القدس،شھید القدس،شھیدالقدس” پکار کر استعماری ایجنٹوں کو منہ توڑ جواب دیا ابھی دشمن اس تھپڑ سے سنبھلنے نہ پایا تھا کہ محترم لیاقت بلوچ کی سربراہی میں پاکستان سے ایران کے دورے پہ آئے ملی یکجہتی کونسل کے وفد نے امریکی مزدوروں کے اس کھوکھلے دعوے کو طشت ازبام کر دیا وفد کو اسلامی جمہوریہ ایران میں بھرپور پذیرائی ملی مشھد سے تہران اور تہران سے قم پاکستان سے آئے معزز مہمانوں نے ایران اعلی حکام اور ایران ملت کو پاکستانی غیور قوم کی جانب سے تعزیتی پیغام پہنچایا۔

دشمن کی تلملاہٹ کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس دورے کے بعد علامہ عارف حسین واحدی اور سید ثاقب اکبر کے اکاونٹس بلاک کر دیئے گئے۔لیکن اسوقت تک شھید سلیمانی ایک فرد سے نکل کرایک فکر بن چکا تھا شھید کو سنی عوام کاقاتل قرار دینے والے لگڑ بگڑ واپس اپنے اپنے بلوں میں گھس چکے تھے اور دنیا پر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی تھی کہ سردار سلیمانی نہ صرف شیعوں اور سنیوں کا بلکہ وہ تو ہر مظلوم کا حامی تھا حتی عراق اور شام کے عیسائی اسکے شکر گزار ہیں۔مقتول دینا پہ چھا چکے ہیں اور قاتل کو اپنا نجس چہرہ چھپانے کی جگہ نہیں مل رہی

گذشتہ جمعہ کو غیور عراقیوں نے دھشت گرد امریکیوں کوواپسی کا رستہ دکھا دیا اور نہ نکلنے کی صورت میں اگلے اقدام کا اعلان بھی کر دیا بلا شبہ عراق میں اتنا بڑا اجتماع امریکہ کے منہ پہ طمانچہ تھا اتنا طولانی عرصہ عراق میں رہنے کے باوجود امریکی عراقیوں کے دل میں ذرا برابر جگہ نہیں بنا سکے حاج قاسم کی شھادت کے بعد (Iraqis are dancing because Soleimani is no more)کا ٹوئیٹ کرنے والے پومپیو کو یہ لشکر کیوں نظر نہیں آیا جو امریکہ پہ تھو تھو کرنے نکلا تھا۔حالت یہ ہے کہ اب شامی آرمی بھی امریکیوں کو آنکھیں دکھا رہی ہے یمن میں امریکی شرکت سے تشکیل پانے والا سعودی اتحاد بھی آئے روز غریب لیکن شجاع اور جنگجو یمنیوں کے ہاتھوں زخم پہ زخم کھا رہا ہے۔

عین الاسد کے زخم ابھی بھرے نہیں تھے کہ افغانستان میں امریکی وائی فائی اِن اسکائی نامی طیار ہ تباہ ہوا جسکی تصدیق امریکی وزارتِ دفاع نے کی ہے اس حادثے میں شھید عماد مغنیہ اور شھید سلیمانی سمیت ہزاروں بے گناہوں کا قاتل آیت اللہ مائیک بھی جہنم واصل ہو گیا لیکن امریکی اسکی تصدیق نہیں کر رہے کیوں اسکی وجہ شاید یہ ہے کہ یہ شخص ہمیشہ انڈر کور رہا 1989 میں سی آئی اے میں شامل ہونے والے مائیک کا کسی حد تک تعارف 2017 میں ہوا جب ٹرمپ انتظامیہ نے اسے ایران کے خلاف آپریشنز کا چارج دیا وہ ڈرون ٹیکنالوجی کا ماہر سمجھا جاتا تھا۔دوسری طرف ٹرمپ نے صیہونی وزیراعظم کے ساتھ ملکر شیطانی سینچری ڈیل بھی پیش کر دی جو کہ سراسر فلسطینی ریاست پہ ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ فلسطینیوں کے مستقبل کا فیصلہ انکی مشورت کے بغیر انجام پائے

ایسی صورتحال میں بعض معتبر ذرائع کے مطابق امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ ملکر اس پورے خطے میں اور خصوصا عراق میں امتِ مسلمہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے یہی وہ ہتھیار ہے جسے استعمال کر کے امریکہ ہمیشہ اپنے شیطانی منصوبوں کو آگے بڑھاتا رہا اس سلسلے میں امتِ مسلمہ کو ہوشیار اور بیدار رہنے کی ضرورت ہے اپنے درمیان محبتوں کو فروغ دینا ہوگا کیونکہ آج امت کے تمام مسائل کا حل انکے اتحاد میں پوشیدہ ہے مسلمان ایک قوم ہیں جو حبل اللہ سے وابستہ ہیں۔

اگر مسلمان متحد ہوجائیں اور اللہ کے بھیجے ہوئے نظام کے پابند ہوجائیں تو ملّت اسلامی کا شیرازہ خود بہ خود منظم ہوجائے گا اور مسلم قوم کی اجتماعی قوت بھی غیر متزلزل اور ناقابل تسخیر ہوجائے گی مسلم امہ کو ایک دوسرے سے دور رکھنے، ان میں اختلافات پیدا کرنے اور ان کے خلاف مسلسل فتنوں کے طوفان اٹھ رہے ہیں۔ ہمارے وطن عزیز سمیت شام ، عراق، یمن، فلسطین، کشمیر اور افغانستان میں زبردستی کی جنگ مسلط کی گئی۔ مسلم ممالک کو باری باری تباہ و برباد کیا جارہا ہے۔ مسلمانوں کی نسل کشی اور قتل عام جاری ہےمسلم امہ کا اتحاد آج کی معاشی، شرعی، سماجی اور سیاسی ضرورت ہے۔ لہٰذا اتحاد امّت کو ہمیں اپنا نصب العین سمجھنا چاہیے اور چھوٹے چھوٹے اختلافات اور غلط فہمیوں کو پس پشت ڈال کر متّحد ہوجانا چاہیے امتِ مسلمہ کا اتحاد انکی شان و شوکت کو مزید بلند و بالا کر دے گا ۔اگر ہم اب بھی متّحد نہیں ہوئے تو باطل اور استعماری قوتیں پھر سے اس خطے میں حاکم ہو جائیں گی۔اللہ تعالیٰ مسلمانانِ عالم کو توفیق دے کہ تمام اختلافات اور رنجشوں کو بھلا کر متّحد ہوجائیں اور ایسی قوّت بن کر ابھریں جو ناقابل تسخیر ہو۔

بقولِ علامہ اقبال۔۔۔۔۔

ایک ہو مسلم حرم کی پاسبانی کے لیئے

نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر

تحریر: ثقلین واحدی

یہ بھی دیکھیں

عمل

تحریر؛ راو مظفر حیات آج کل قدرے فراغت ہے۔باہر آناجانا موقوف ہے۔وباء ہرایک کے سامنے …