بدھ , 15 جولائی 2020

ایک نئے انقلاب کا آغاز

تحریر:ثاقب اکبر

ہمارا ایک اجتماعی احساس تھا کہ ایرانی قوم جس جذبے، لگن اور یکسوئی سے تمام میدانوں میں پیشرفت کر رہی ہے، وہ تمام عالم اسلام کیلئے نمونے اور مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔ پس ماندہ قومیں آج کے ایران سے بہت کچھ سیکھ سکتی ہیں۔ اگر چند اسلامی ممالک ملکر فیصلہ کر لیں کہ ہم نے آزاد خارجہ پالیسی اور باہمی تعاون و اشتراک کیساتھ استعماری قرضوں اور پابندیوں سے نجات حاصل کرنا ہے تو ایسا کامیابی سے کیا جاسکتا ہے۔ اگر اکیلا ایران یہ سب کچھ کرسکتا ہے تو چند ممالک ملکر تو تیز رفتار معجزے برپا کرسکتے ہیں۔ شاید کوالالمپور کے اجلاس میں شرکت نہ کرکے پاکستان نے ایک ایسی ہی پیشرفت کا موقع ضائع کر دیا ہے۔

ملی یکجہتی کونسل کا وفد جو 14 جنوری 2020ء کو لاہور سے مشہد پہنچا تھا، 22 جنوری کو تہران سے لاہور کے لیے روانہ ہوگیا۔ آخری ملاقات شہید اسلام جنرل قاسم سلیمانی کے خاندان سے تہران میں ان کے گھر میں ہوئی۔ پاکستانی وفد کی طرف سے جناب لیاقت بلوچ نے گفتگو کی اور شہید کی شہادت کو عالم اسلام کا نقصان قرار دیا۔ شہید کے خاندان کی طرف سے ان کی بڑی صاحبزادی فاطمہ نے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ شہید کے خون کا انتقام لینے کے لیے جو سب سے بڑا زخم ہم اپنے دشمنوں کو لگا سکتے ہیں، وہ اتحاد امت ہے۔ اس لیے کہ ہمارے دشمنوں کے لیے سب سے بڑا ضربہ ہمارا اتحاد ہی ہے۔ جب ہم شہید کے گھر میں داخل ہوئے تو محترمہ فاطمہ پر راقم کی نظر پڑی تو میں نے سمجھا کہ یہی شہید کی وہ بیٹی زینب ہیں، جن کی مختلف ویڈیوز ہم پاکستان میں دیکھ چکے ہیں۔ شہید سلیمانی کی تہران میں نماز جنازہ کے موقع پر انہوں نے ہی اجتماع سے خطاب کیا تھا۔ شہادت کے فوری بعد کی ایک ویڈیو بھی نظر پڑی تھی، جس میں وہ کہہ رہی ہیں کہ میرے عمّو حسن نصراللہ میرے بابا کا انتقام لیں گے۔ جب میں نے فاطمہ سے کہا کہ ہم آپ کی ویڈیوز دیکھ چکے ہیں اور آپ کی گفتگو سن چکے ہیں تو انہوں نے وضاحت کی کہ وہ میری چھوٹی بہن زینب کی ویڈیوز ہیں۔ مجھے دونوں بہنوں کی اتنی شباہت و مماثلت پر بڑی حیرت ہوئی۔

جب دونوں طرف بات ختم ہوچکی تو وہ تیزی سے اٹھیں، گھر کے اندر گئیں، پھر واپس آئیں اور اس صوفے پر چڑھ گئیں، جس پر وہ بیٹھی ہوئی تھیں اور بڑا سا فریم جو دیوار پر آویزاں تھا اتار لیا۔ اس میں موجود تصویر میں ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای اپنے انتہائی عزیز جرنیل قاسم سلیمانی کا بوسہ لے رہے ہیں۔ ایسے لگا جیسے فاطمہ یہ سوچ رہی تھیں کہ پاکستان سے آئے ہوئے اتنے اہم وفد کو کیا ہدیہ پیش کریں اور آخر وہ اس نتیجے پر پہنچیں کہ اس فریم اور تصویر سے اہم تر ہدیہ اس وفد کے لیے ان کے گھر میں نہیں ہے۔ پھر انہوں نے یہ ہدیہ پیش کرتے ہوئے تصاویر بنوائیں۔ ہمارے وفد کے سارے ساتھی اس تاریخی اور یادگار تصویر میں موجود ہیں۔ ایسے ایمان افروز لمحے گزر جاتے ہیں، دل و دماغ میں نقش ہو جاتے ہیں، تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں، لیکن باطن کی آنکھ رکھنے والے ہی اس نقش کو دیکھ پاتے ہیں۔ سب ساتھیوں کی عجیب کیفیت تھی۔ عجیب ناگفتنی کیفیات اور ایمانی جذبات چہروں پر نمایاں اور آنکھوں میں چمکتے آنسو۔

یہ ہمارے دورے کے آخری لمحات تھے۔ یہاں سے احباب کو امام خمینی بین الاقوامی ایئرپورٹ پر الوداع کہہ کر میں قم کی طرف روانہ ہوگیا۔ مجھے چند روز ابھی قم میں رہنا تھا۔ علمائے کرام سے ملاقاتوں اور علمی اداروں میں پیش رفت کو قریب سے دیکھنے کے لیے کچھ وقت چاہیئے تھا، لہٰذا میں قم پہنچ گیا۔ اس دورے میں ہم کسی ایسی شخصیت سے نہیں ملے، جس نے اتحاد امت پر بات نہ کی ہو۔ تقریباً تمام راہنمائوں نے ایران و پاکستان کے مابین روابط کو مزید مضبوط اور گہرا کرنے پر زور دیا۔ عالم اسلام میں پاکستان کی اہمیت کا سب کو احساس تھا۔ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت میں ہر جگہ بات ہوئی۔ پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے جناب لیاقت بلوچ نے اس موضوع کو اچھے انداز سے پیش کیا اور دوسری طرف ایرانی مذہبی و سیاسی راہنمائوں نے بھی مسئلہ کشمیر کو عالم اسلام کا ایک اہم مسئلہ قرار دیا۔ ایران سے باہر ایران کے بارے میں مغربی ذرائع ابلاغ ایسی تصویر پیش کرتے رہتے ہیں، جس میں وہاں خوف چھایا ہو، جنگ کا سماں ہو، جیسے ہر طرف پس ماندگی ہو، لیکن جو شخص بھی ایران میں داخل ہوتا ہے، وہ یکسر مختلف صورت حال کا سامنا کرتا ہے۔

پورا معاشرہ منظم ہے، ہر کام معمول کے مطابق ہو رہا ہے۔ چالیس سالہ وحشت ناک امریکی پابندیوں کے باوجود ہر شعبے میں پیش رفت محسوس و مشہود ہے۔  پاکستان نے امریکی دوستی سے ذلت و نامرادی اور قرضوں کی بھرمار کے سوا کچھ حاصل نہیں کیا اور ایرانیوں نے امریکا کے سامنے سینہ سپر ہو کر ہر میدان میں ترقی کی ہے اور عزت و افتخار بھی حاصل کیا ہے۔ گذشتہ ستر برس کی تاریخ میں ایران پہلا ملک ہے، جس نے امریکا سے بدلہ لینے کا اعلان کیا اور پھر بدلہ لے کر دکھایا۔ ایک جذبہ اور ولولہ جو ساری قوم میں رواں دواں نظر آتا ہے۔ ہماری کئی ایک ایرانی سائنسدانوں سے ملاقات ہوئی، یونیورسٹیوں کے اساتذہ سے بھی ہم ملے، علمائے کرام سے بھی نشست و برخاست رہی، اہل بیتؑ کے حرموں میں عقیدت مندوں کے امنڈتے ہجوم بھی ہم نے دیکھے، بازاروں اور مارکیٹوں میں رونق بھی دیکھی، ہر طرف اور ہر جگہ جوش و خروش کے ساتھ اطمینان بھی تھا اور اعتماد و افتخار بھی۔ یہ قوم آگے بڑھنے اور اپنی داخلی خود مختاری کے تحفظ کے لیے ہر شعبے میں ترقی و پیش رفت کا عزم رکھتی ہے۔

استعماری معاشی قدغنوں کے اثرات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا، کرنسی کی حالت بہت پتلی ہے، لیکن جب قومیں شکست قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوں اور ہر حالت میں آگے بڑھنے کا عزم رکھتی ہوں تو پھر انہیں کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ ایرانی قوم نے اپنے رہبر کے پیچھے صف بندی کر رکھی ہے۔ قوم اور قیادت میں یکجائی اور یکسوئی ہے۔ تمام ادارے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ پارلیمان کے اجلاس جاری و ساری ہیں۔ پارلیمان کے دورے کے دوران میں اراکین کی کثرت اور نشستوں کو پُر دیکھ کر ہم حیران ہو رہے تھے۔ سب سے زیادہ حیرت تو خود جناب لیاقت بلوچ کو ہو رہی تھی، جو کئی مرتبہ پاکستان کی قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوچکے ہیں۔ ہم نے ایرانی پارلیمان میں ہونے والی تقاریر بھی کچھ دیر کے لیے سنیں۔ خارجہ امور پر بحث ہو رہی تھی۔ وزیر خارجہ پر کھل کر تنقید ہوئی اور پھر وزیر خارجہ جواد ظریف نے بھی اراکین کے اعتراضات کے جوابات دیئے۔

اسی طرح تمام ایرانی اداروں، تحقیقی مراکز، علمی موسسات اور یونیورسٹیوں کے مختلف شعبوں کو ہم نے فعال دیکھا۔ ہمارا ایک اجتماعی احساس تھا کہ ایرانی قوم جس جذبے، لگن اور یکسوئی سے تمام میدانوں میں پیش رفت کر رہی ہے، وہ تمام عالم اسلام کے لیے نمونے اور مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔ پس ماندہ قومیں آج کے ایران سے بہت کچھ سیکھ سکتی ہیں۔ اگر چند اسلامی ممالک مل کر فیصلہ کر لیں کہ ہم نے آزاد خارجہ پالیسی اور باہمی تعاون و اشتراک کے ساتھ استعماری قرضوں اور پابندیوں سے نجات حاصل کرنا ہے تو ایسا کامیابی سے کیا جاسکتا ہے۔ اگر اکیلا ایران یہ سب کچھ کرسکتا ہے تو چند ممالک مل کر تو تیز رفتار معجزے برپا کرسکتے ہیں۔ شاید کوالالمپور کے اجلاس میں شرکت نہ کرکے پاکستان نے ایک ایسی ہی پیش رفت کا موقع ضائع کر دیا ہے۔ ہمیں پھر سے ایسے مواقع مہیا کرنے کے لیے حوصلہ مندانہ جذبوں سے اپنے سینوں کو معمور کرنا ہوگا۔ اس سلسلے میں جناب لیاقت بلوچ کی یہ تجویز بہت اہمیت رکھتی ہے کہ پاکستان کو تلافی کے لیے آگے بڑھ کر خود سے اب اس کانفرنس کی میزبانی کرنا چاہیئے۔

یہ بھی دیکھیں

توجہ دو اور کام کرو

تحریر:ڈاکٹر عبدالقدیر خان پچھلے دو کالموں میں آپ کی خدمت میں عقل و فہم و …