بدھ , 15 جولائی 2020

امریکہ کی اسٹریٹجک سرگردانی

تحریر: اسٹیفن والٹ (کالم نگار فارن پالیسی

ٹرمپ حکومت دیگر ممالک کے حکومتی عہدیداروں کی ٹارگٹ کلنگ کو خارجہ پالیسی کا ایک قانونی ہتھکنڈہ تصور کرتی ہے اور یہ ناپاک حکومتوں والی سوچ ہے۔ بدقسمتی سے تنگ نظری پر مشتمل یہی نقطہ نظر مغربی ایشیا میں لاگو کیا جا رہا ہے۔خارجہ سیاست میں غیر مطلوب کارکردگی صرف ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں موجود امریکی حکومت سے مخصوص نہیں بلکہ گذشتہ کئی عشروں سے واشنگٹن ایک ہم آہنگ حکمت عملی سے عاری ہے۔ اس سے پہلے میں ایک تحریر میں مغربی ایشیا خاص طور پر ایران سے متعلق ٹرمپ حکومت کی دماغی موت کی وضاحت کر چکا ہوں۔ اسٹریٹجی یا حکمت عملی سے مراد ایسے واضح اہداف کا مجموعہ ہے جن کے حصول کیلئے طے شدہ منصوبہ بندی پائی جاتی یو۔ اس منصوبہ بندی میں مدمقابل کے ممکنہ ردعمل کا جائزہ بھی لیا جا چکا ہو۔ ہمارے پاس ایسی چیز کی بجائے وحشیانہ طاقت ہے جس کی کارکردگی واضح اہداف سے بہت دور ہے اور یہ طاقت ایسے نادان صدر کے اختیار میں ہے جسے کافی حد تک اپنے فیصلوں پر کنٹرول نہیں ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی مدت صدارت کے تین سال گزر جانے کے بعد جنگ کا خطرہ بہت بڑھ گیا ہے اور ان کی پالیسیوں نے ایران کو دوبارہ جوہری سرگرمیوں کی جانب دھکیل دیا ہے جبکہ عراق نے بھی امریکہ سے فوجی انخلاء کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ مزید برآں، امریکہ کے قابل اعتماد ہونے کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔ یورپ میں اپنے ہی اتحادیوں کو وارننگز جاری کی گئی ہیں جبکہ روس اور چین عقلمندی اور نظم کا سرچشمہ بن گئے ہیں۔

ٹرمپ حکومت نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ دیگر ممالک کے حکومتی عہدیداروں کی ٹارگٹ کلنگ کو خارجہ سیاست میں ایک قانونی ہتھکنڈہ تصور کرتی ہے۔ یہ وہی اقدام ہے جو ناپاک حکومتیں انجام دیتی ہیں اور ان کا خیرمقدم کرتی ہیں۔ بدقسمتی سے یہی غلط نقطہ نظر مغربی ایشیا میں لاگو کیا جا رہا ہے۔ چین کے مسئلے پر توجہ دیں۔ ٹرمت حکومت چین کو امریکہ کا واحد ایٹمی حریف جانتی ہے اور چند عشروں تک اسے توجہ کا مرکز بنائے گی۔ البتہ سیاسی ماہرین چین کو ایک بڑے چیلنج کے طور پر پیش کرنے کے مخالف ہیں لیکن صرف اندھے افراد ہی چین کی ترقی کے پریشان کن نتائج کے بارے میں غلطی کا شکار ہوتے ہیں۔ اگر آپ اسٹریٹجک سوچ کے حامل ہوں تو کم ترین اخراجات کے ذریعے چین کے اثرورسوخ کو کم کرنے کیلئے مناسب راستے تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ آپ دیکھیں گے کہ امریکہ (اپنا نقصان کئے بغیر) چین کی معیشتی ترقی کو روکنے یا واپس لے جانے کی طاقت نہیں رکھتا لیکن آپ کو سخت محنت کرنا ہو گی۔ درحقیقت آپ کو چین کو کوانٹم کیلکولیشن اور مصنوعی ذہانت جیسے امور میں تبدیلی سے باز رکھنے کیلئے سنجیدگی سے سوچنا پڑے گا۔ آپ کو ایشیا میں اپنی سفارتکاری کی سطح بڑھانے کیلئے دقیق اقدامات انجام دینے ہوں گے اور ایسی راہیں تلاش کرنا ہوں گی جن سے چین اور روس میں فاصلہ پیدا ہو اور کم ترجیح والے مسائل میں الجھنے سے بچنا ہو گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدا میں ہی ایٹلانٹیک سے اس پار تعاون کو نظرانداز کیا ہے۔ یہ اقدام درحقیقت بحر الکاہل کے ساحلی ممالک کے منہ پر طمانچے کی مانند تھا۔ وہی ممالک جن کے ساتھ ایسے معاہدے انجام دینے کی شدید کوششیں کی گئی تھیں جو ہمارے لئے اقتصادی مفادات کا باعث بن سکتے اور امریکہ کی معیشت کیلئے مفید ثابت ہو سکتے۔ یوں ٹرمپ نے چین کے ساتھ تجارتی جنگ کا آغاز کیا اور دیگر اہم طاقتوں کے ساتھ تعاون اور ہم آہنگی کی بجائے انہیں تجارتی جنگ کی دھمکیاں دیں۔ اس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے مقابلے میں اپنا حقیقی نقطہ نظر پیش کیا۔ پہلے اسے دھمکیاں دیں اور اس کے بعد کیم جانگ اون کے ساتھ ایک بے فائدہ میٹنگ کر کے دوسروں کے تمسخر کا باعث بنے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان تعلقات سے متعلق کوئی خاطرخواہ پیشرفت حاصل نہ ہوئی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات نہ صرف شمالی کوریا کی جوہری سرگرمیوں میں توقف اور دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم موڑ کا باعث نہ بنے بلکہ ایشیا میں امریکہ کا اعتماد بھی ختم ہو گیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ تین سالوں میں اپنا زیادہ تر وقت یورپ میں اپنے اصلی اتحادیوں کو زچ کرنے اور نیٹو فوجی اتحاد سے نکلنے کی دھمکیاں دینے میں صرف کیا ہے۔

چینی سفارتکاروں نے ہواوے کمپنی کی ساکھ بحال رکھنے کیلئے ٹرمپ کے احمقانہ اقدامات سے فائدہ اٹھایا ہے اور یورپی حکام کو اعتماد میں لیا ہے۔ انہوں نے یورپی حکام کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ امریکی حکمرانوں کی نسبت ٹیکنالوجی کے میدان میں زیادہ آسان پالیسیوں اور قوانین کے تحت کام کریں گے۔ اسی طرح چین نے موسمیات سے متعلق معاہدوں کی پاسداری کا بھی اعلان کیا ہے۔ یہ ان معاہدوں میں سے ایک ہیں جن سے ڈونلڈ ٹرمپ انتہائی احمقانہ انداز میں دستبردار ہوئے ہیں۔ امریکہ میں جرمن مارشل فنڈ سے وابستہ جولیان اسمتھ اس بارے میں کہتی ہیں: "چینی حکام نے یہ ظاہر کرنے کیلئے کہ امریکہ کی بجائے چین کی یورپ کے ساتھ مشترکہ اقدار زیادہ ہیں، جرات مندانہ کوششوں کا آغاز کیا ہوا ہے۔ چین موسمیاتی تبدیلیوں اور دوطرفہ احترام کا قائل ہے۔ اس کا یہ پیغام خاص طور پر جرمنی کیلئے ایک بہت طاقتور پیغام تھا۔” دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ ایسے حالات میں جب امریکی وزارت خارجہ زوال کی جانب گامزن ہے چین ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ چین نے امریکہ کی نسبت زیادہ سفارت خانے، قونصل خانے اور سفارتی مراکز قائم کئے ہیں۔ ویلیم برونز نے امریکن ڈپلومیٹ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: "ہم ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جس میں سفارتکاری کی اہمت ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔ چین اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے اور بہت تیزی سے اپنی سفارتی قابلیتوں میں اضافہ کر رہا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا: "چین کے برعکس امریکہ یکطرفہ طور پر خود کو سفارتی مہارتوں سے عاری کر رہا ہے۔ ایشیا میں چین سے مقابلے کی ہر امید کا انحصار اس بات پر ہے کہ امریکہ کے ایشیائی ممالک سے مضبوط تعلقات استوار ہوں۔ یہ کام صرف علم، مہارت، صبر اور مخصوص سفارتکاری سے ہی ممکن ہے۔ یہ فعالیت کسی طور فوجی فعالیت سے کم نہیں ہے۔” اس بارے میں آخری نکتہ یہ ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے اختتام سے لے کر سرد جنگ کے خاتمے تک طاقت کا توازن امریکہ کے حق میں تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس توازن کی جانب واپس جانے کی بجائے اپنے متنازعہ مشیروں اور خطے کے ممالک کو یہ اجازت دی کہ وہ اسے ایران کے ساتھ نہ ختم ہونے والے ٹکراو میں دھکیل دیں۔ چین کے خارجہ پالیسی کے ماہرین کی مسکراہٹ اس وقت سمجھ میں آتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ کیسے اپنی ہی بنائی ہوئی دلدل میں پھنس چکا ہے۔ مختصر یہ کہ ٹرمپ اور ان کی کابینہ نے چین کو اپنی خارجہ پالیسی میں پہلی ترجیح دینے کی بجائے ایسی خارجہ پالیسیاں اختیار کر رکھی ہیں جن کا سب سے زیادہ فائدہ چین کو ہو رہا ہے۔ البتہ یہ بری خبر نہیں ہے کیونکہ اگرچہ ٹرمپ حکومت نے نئی سطح پر اسٹریٹجی سے عاری نقطہ نظر اختیار کر رکھا ہے لیکن ماضی میں بھی ایسے اقدامات انجام پا چکے ہیں۔

امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن سمجھتے تھے کہ وہ نیٹو اتحاد کو مشرق کی جانب پھیلا سکتے ہیں تاکہ ایک وقت میں ایران اور عراق کو بھی نظر میں رکھیں اور چین کو بھی ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں شامل کر لیں اور یوں وسیع سطح پر گلوبلائزیشن انجام دیں۔ لیکن انہوں نے اس کے منفی نتائج سے چشم پوشی کی تھی۔ جارج ڈبلیو بش کا خیال تھا کہ ظلم و ستم اور آمرانہ حکومت کا خاتمہ ہمیشہ امریکی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد رہنا چاہئے۔ وہ سمجھتے تھے کہ امریکی فوج انتہائی کم مدت میں مغربی ایشیا کو جمہوریت کے گڑھ اور امریکہ کے حامی میں تبدیل کر سکتی ہے۔ البتہ بل کلنٹن بش سے زیادہ خوش قسمت تھے کیونکہ ان کی پالیسیوں کے منفی پہلو ان کے برسراقتدار رہنے تک منظرعام پر نہیں آئے تھے۔ لیکن بہرحال امریکہ کا کوئی صدر بھی ملک کی پوزیشن میں بہتری نہ لا سکا۔ گذشتہ تمام صدور مملکت میں سے براک اوباما کی نگاہ زیادہ حقیقت پر مبنی تھی اور انہوں نے سفارتکاری کو زیادہ اہمیت دی۔ لیکن انہوں نے دیگر ممالک میں امریکہ کی فوجی سرگرمیاں محدود کرنے کیلئے بہت کم اقدامات انجام دیے اور فوجی طاقت کے استعمال کی حمایت کی۔ براک اوباما نے 2009ء میں افغانستان میں مزید فوجی بھیج دیے تھے۔ اسی طرح لیبیا اور شام میں حکومتی نظام میں تبدیلی کی حمایت کی اور ڈرون حملوں میں بھی اضافہ کر دیا تھا۔

کیوں امریکہ اس قدر بری حکمت عملی کا حامل ہے؟ البتہ خارجہ پالیسی کا میدان ایک مشکل میدان ہے جس میں غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے اور بعض اوقات غلطی کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا لیکن اسٹریٹجک انداز میں سوچنے کی عدم قابلیت امریکہ کے جینز میں نہیں پائی جاتی۔ ٹرومین کی حکومت دوسری عالمی جنگ کے بعد بہت مشکل حالات سے روبرو تھی لیکن مارشل پلان، نیٹو فوجی اتحاد کی تشکیل، ایشیا میں مختلف معاہدوں اور اقتصادی مراکز کے قیام کے ذریعے ان مشکلات پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئی۔ ان اقتصادی مراکز نے چند عشروں تک امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو بہت زیادہ فائدہ پہنچایا ہے۔ جارج بش کی پہلی حکومت نے 1989ء سے 1993ء تک سابق سوویت یونین کے ٹوٹنے، مشرقی اور مغربی جرمنی کے درمیان پرامن الحاق اور خلیج فارس کی پہلی جنگ جیسے واقعات کو بہت اچھی طرح کاونٹر کیا۔ کوئی بھی امریکی حمایت اعلی کارکردگی کی حامل نہیں رہی لیکن نئے اور پیچیدہ مسائل سے روبرو ہوتے وقت مسئلے کی صحیح پہچان اور مناسب راہ حل سب سے زیادہ اہم امر ہے۔ بالفاظ دیگر وہ اسٹریٹجی کے لحاظ سے بہتر کارکردگی کے حامل تھے۔

یہ بھی دیکھیں

توجہ دو اور کام کرو

تحریر:ڈاکٹر عبدالقدیر خان پچھلے دو کالموں میں آپ کی خدمت میں عقل و فہم و …