بدھ , 15 جولائی 2020

افغان امن عمل کا مستقبل

تحریر: طاہر یاسین طاہر

میرا تجزیہ یہی ہے کہ افغان طالبان اور امریکہ کے مابین "امن مذاکرات” کم از کم اس نئے سال میں تو کامیاب نہیں ہونگے اور پھر اس سے اگلے سال بھی ایسے مذاکرات کامیاب نہیں ہونگے، جو افغانستان سے امریکی فوجیوں کے پرامن انخلا پر منتج ہوں۔ البتہ ایسا کوئی حادثہ ممکن ہے ضرور ہو جائے، جسے بنیاد بنا کر امریکہ مشرقِ وسطیٰ کے کسی مسلم ملک میں اپنے مزید فوجی دستے بھیج دے، جو خطے میں امریکی مفادات اور ترجیحات کا تحفظ کرتے رہیں۔ میری دانست میں طالبان کے حالیہ بیان کے بعد افغان طالبان اپنی کارروائیوں میں مزید تیزی لائیں گے اور اپنی دانست میں امریکہ کو "عسکری دبائو” میں لانے کی کوشش کرینگے، یعنی مزید خون خرابہ ہوگا اور عام افغانی امن کے نام پر جنگ کا رزق ہوتے رہیں گے۔

دنیا کو امن کی ضرورت ہے۔ یہ انسان کی جبلت ہے کہ وہ فطرت کے قریب ہو کر رہنا چاہتا ہے۔ فطرت امن کی حسین و شاداب وادیوں میں، خوش کن و خوش لباس انسانوں کو دیکھ کر اور انسانی بصارت فطرت کے نظاروں کو دیکھ کر ایک دوسرے کے شکر گزار ہوتے ہیں۔ لیکن یہ بھی انسانی جبلت ہے کہ وہ اپنی انا اور طاقت کے بے لگام گھوڑے پر سوار ہو کر حاکمیت کے خوابوں کی تعبیر انسانی خون بہا کر پورا کرنا چاہتا ہے۔ تضادات ہیں، بے شمار تضادات کہ انسان آب و گِل کا آمیزہ ہے۔ معلوم انسانی تاریخ یہی ہے کہ انسان پر امن کی خواہش غالب رہی اور حیرت یہ ہے کہ اسی امن کے حصول کے لیے انسان جنگ کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ یہی صدیوں سے ہوتا آیا ہے۔انسان اپنی ذات، قوم، قبیلے، برادری، خطے اور پھر جدید ریاستی نظام کے بعد ریاستوں کی بقاء کے لیے دوسری ریاستوں اور قوم و قبیلے کو اپنے زیر نگیں رکھنا چاہتا ہے۔ اس حوالے سے صدیوں پرانا آزمودہ نسخے مذہب کا سہارا لیا جاتا ہے، تو کبھی جدید معاشی نظام کی جکڑ بندیوں میں قوموں کو جکڑ دیا جاتا ہے۔

اب امن کے سارے حربے جنگ کے ساز و سامان لیے ہوئے ہیں۔ بارہا لکھا کہ طاقتوروں کے اپنے ضابطے اور ان کے اپنے قواعد ہوتے ہیں۔ ان کی اپنی تہذیب ہوتی ہے اور وہی تہذیب مغلوب قومیں بڑے "فخر” کے ساتھ اپناتی بھی ہیں۔ تاریخ کو اگر "چسکا خوری” کے بجائے تنقیدی مضمون کے طور پر پڑھا جائے تو بہت سے اسباق اس کے بوسیدہ صفحات میں پوشیدہ ملتے ہیں۔ سکندرِ اعظم یونان سے چلا اور دنیا کو روندتا ہوا پوٹھوہار کے مردم خیز خطے تک آیا، جہاں اسے راجا پورس نے روک لیا، نتیجہ کیا ہوا؟ یہ الگ بحث ہے۔ اصل معاملہ اپنی سرزمین، قوم، قبیلے، آبرو، معاشیات اور راجدھانی کے لیے مر مٹنے کا جذبہ تھا، جس کے زیر اثر راجا پورس فاتح عالم کے سامنے ڈٹ گیا۔ سکندرِ اعظم یونان کو عظیم بنانا چاہتا تھا اور راجا پورس اپنی سرزمین کو حملہ آوروں سے محفوظ رکھنا چاہتا تھا۔ سماجی سائنس کے اصولوں کے تحت دیکھا جائے تو سکندرِ اعظم اپنی طاقت کے زعم میں ساری دنیا کو اپنی جاگیر اور دنیا کے سارے انسانوں کو اپنی "جمہور” بنانا چاہتا تھا، مگر راجا پورس اس کے راستے میں آگیا، کیونکہ راجا پورس بھی انہی سماجی سائنس کے اصولوں کے تحت اپنی راجدھانی، اور اپنے "عوام” کا تحفظ خود پر قرض و واجب سمجھتا تھا۔ اسی طرح مغلوں کا عروج و زوال حتیٰ کہ محمد بن قاسم کی سندھ پر چڑھائی کو اگر ہم سماجی سائنس کے اصولوں کے تحت دیکھیں تو ہمیں سمجھ آتی ہے کہ مذہب یا انسانی حقوق وغیرہ، حملہ آور ہونے کی حیلہ سازیاں ہیں۔

جدید ریاستی نظام میں بھی یہی اصول ہے کہ طاقتور ریاستیں مختلف حیلوں سے کمزور ریاستوں کو اپنے زیر نگیں رکھتی ہیں۔ دنیا جب دو بلاکوں میں تقسیم تھی تو اس وقت بھی ایک طرف امریکہ اور اس کے اتحادی تھے اور دوسری طرف روس اور اس کے اتحادی۔ روس کے انہدام کے بعد امریکہ عالمی طاقت بنا تو اس نے "نیو ورلڈ آرڈر” نافذ کرنے کی ٹھانی۔ مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی خون ریزی اسی امریکی نیو ورلڈ آرڈر کا عملی اظہاریہ ہے۔ ہم تسلیم کریں تو ہمیں حقیقت پسند کہا جائے گا، ہم نہ تسلیم کریں تو اس سے امریکہ و اس کے مشرقی و مغربی اتحادیوں کا بگڑتا کچھ نہیں۔ سوائے اس کے کہ مسلم ممالک مزید استعماری شکجنے میں کس دیئے جائیں۔ اس خوش فہمی سے نکلنا ہوگا کہ امریکہ افغانستان میں امن چاہتا ہے۔ امریکہ لیبیا، شام، عراق اور یمن میں بھی امن چاہتا ہے اور یہ کہ امریکی صدر فلسطین و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر افسردہ ہیں۔ سادہ بات یہی ہے کہ امریکہ نے اگر افغانستان سے جانا ہوتا تو وہ یہاں اتنی سرمایہ کاری کیوں کرتا؟ عراق میں امریکی "سرمایہ کاری” الگ سے ایک داستان ہے۔ اس کے پاس اتنی عسکری و معاشی اور سائنسی قوت ہے کہ وہ چند ہفتوں میں پورے افغانستان کو راکھ کا ڈھیر بنا سکتا ہے۔اس حقیقت کو مسلم ممالک نظر انداز کیوں کر دیتے ہیں؟

لیکن امریکہ ایک ہی بار مارنے کے بجائے "سلو پوائزنگ” والے طریقے کے تحت باری باری مسلم ممالک کو اپنے نشانے پر لے رہا ہے۔ کچھ کو براہِ راست جنگی نشانے پر تو کچھ کو معاشی، سیاسی اور "میڈیا وار” کے ذریعے۔ اپنے گذشتہ کالم میں بھی لکھا تھا کہ "امریکہ افغان مذاکرات کی بیل منڈھے چڑھتی دکھائی نہیں دے رہی، کیونکہ جب امریکی نمائندے اور افغان طالبان باہم "امن مذاکرات” کر رہے ہوں گے تو خطے میں کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ رونما ہو جائے گا، جسے بنیاد بنا کر امریکہ افغان طالبان سے "امن مذاکرات” کے عمل کو معطل کر دے گا۔” ابھی مذاکرات کی میز کے گَِرد کرسیاں سیدھی بھی نہیں ہوئی ہیں کہ افغانستان میں امریکی جدید طیارے کو افغان طالبان نے مار گرانے کا دعویٰ کر دیا، جس میں سی آئی اے کے چیف کے مرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا، مگر امریکہ نے طیارہ گرنے اور دو امریکی فوجی مرنے کا تو اعتراف کیا، لیکن اس حادثے کو فنی خرابی کا نام دیا۔

عالمی عسکری و سیاسی حرکیات پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار اسی وقت بھانپ گئے تھے کہ اب اس کے بعد کیا ہونے والا ہے۔ اب افغان طالبان نے امریکہ پر الزام عائد کر دیا ہے کہ امریکہ نے افغان امن عمل کو روک دیا ہے۔ یہ وہ امن عمل ہے، جس کے تحت افغانستان سے امریکی و اتحادی فوجیوں کا انخلا ہونا تھا، جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ افغان طالبان پرتشدد کارروائیوں میں کمی نہیں لا رہے۔ میرا تجزیہ یہی ہے کہ افغان طالبان اور امریکہ کے مابین "امن مذاکرات” کم از کم اس نئے سال میں تو کامیاب نہیں ہوں گے اور پھر اس سے اگلے سال بھی ایسے مذاکرات کامیاب نہیں ہوں گے، جو افغانستان سے امریکی فوجیوں کے پرامن انخلا پر منتج ہوں۔ البتہ ایسا کوئی حادثہ ممکن ہے ضرور ہو جائے، جسے بنیاد بنا کر امریکہ مشرقِ وسطیٰ کے کسی مسلم ملک میں اپنے مزید فوجی دستے بھیج دے، جو خطے میں امریکی مفادات اور ترجیحات کا تحفظ کرتے رہیں۔ میری دانست میں طالبان کے حالیہ بیان کے بعد افغان طالبان اپنی کارروائیوں میں مزید تیزی لائیں گے اور اپنی دانست میں امریکہ کو "عسکری دبائو” میں لانے کی کوشش کریں گے۔ یعنی مزید خون خرابہ ہوگا اور عام افغانی امن کے نام پر جنگ کا رزق ہوتے رہیں گے۔

یہ بھی دیکھیں

توجہ دو اور کام کرو

تحریر:ڈاکٹر عبدالقدیر خان پچھلے دو کالموں میں آپ کی خدمت میں عقل و فہم و …