بدھ , 15 جولائی 2020

ہر دن یومِ کشمیر ہو!

کشمیر پاکستان کی شہ رگ ِحیات ہے، جس میں گذشتہ بہتر سال سے ظلم و جبر کی تاریخ رقم کی جا رہی ہے۔ اہل کشمیر نے ہندوستان سے اپنی آزادی کی تمام تر امیدیں پاکستان سے باندھ رکھی ہیں، پاکستان میں نت نئے حکمران اور سیاسی خلفشار نے اس مسئلہ سمیت دیگر بہت سے مسائل کو نظر انداز کیا ہے اور ہمارے حکمران اس جانب ضروری توجہ یا اہمیت دینے سے قاصر دکھائی دیئے ہیں، جبکہ کشمیر میں ظلم و جبر اور تشدد کی کالی سیاہ راتیں اہل کشمیر پر کسی عذاب سے کم نہیں، ہم گذشتہ بہتر سال کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہندوستان نے کشمیریوں کو جبر و ستم کی چکی میں اس طرح پیسا ہے کہ ان کیلئے خون کے آنسو بھی بہائیں تو کم ہیں جبکہ ہم فقط ایک دن منا کر اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآں ہونے میں ہی عافیت محسوس کرتے ہیں۔ کوئی کشمیر کے کسی بھی باپ سے پوچھے کہ اس کی کیا حالت ہے، کوئی کشمیر کی کسی بہن سے پوچھے کہ اس کے کیا جذبات ہیں، کوئی کشمیر کی کسی ماں سے پوچھے کہ اس کے کیا احساسات ہیں، کوئی کشمیر کے کسی بیٹے سے پوچھے کہ اسے کن مصائب کا سامنا ہے۔

یہاں بدترین اور تاریک ترین دن اور راتیں ہیں، ایک جنت ہے، جسے جھنم میں تبدیل کر دیا گیا ہے، کوئی کشمیر کے بہتے پانیوں سے پوچھے کہ اس میں کتنوں کا لہو شامل ہے، کوئی کشمیر کے گھنے خوبصورت جنگلات سے پوچھے کہ اس نے کتنوں کو لہو میں تر بہ تر ہوتے دیکھا ہے، کوئی کشمیر کے سبز بلند بالا پہاڑوں سے پوچھے کہ انہوں نے اپنے دامن میں کتنے بے گناہوں کو ظلم کی تلوار جھیلتے دیکھا ہے، کوئی اس جنت ارضی میں بہنے والی گہرے پانیوں کی جھیلوں سے پوچھے کہ اس میں کتنے معصوموں کو پھینکا گیا ہے، کوئی اس وادی میں قائم تنگ و تاریک اور کالی کوٹھڑیوں میں گم ہو جانے والی چیخوں کا پتہ لگائے، جن میں ان کے والدین، خاندان، بہن، بھائیوں، بیٹوں، بیٹیوں اور مائوں کے سامنے اٹھائے گئے بے گناہ و معصوم جوانوں کو لا کر غائب کر دیا گیا ہے۔ ان غائب کئے گئے جوانوں کا درد ہی جدا ہے، جو شہید کر دیئے گئے، ان کی لاشیں مل گئیں، ان کے جنازے اور سوئم ہوئے، رسومات ادا کر دی گئیں، ان کے ورثاء کو صبر بھی کرنا پڑ گیا۔

مگر جن کو ان کے سامنے جیتے جاگتے، کھلی آنکھوں سے دن کی روشنی یا رات کی تاریکی میں اٹھایا گیا، ان کی مائیں تو ہر شام کو دروازے کی طرف تکتی رہ جاتی ہیں اور ان کی امید کا دیا ہر شب کے ساتھ بجھ جاتا ہے، جب ان کا پیارا نہیں لوٹتا، ان کا درد جدا ہوتا ہے، ان کا دکھ الگ ہی ہوتا ہے، اس لئے کہ ہر شام ان کی امید کی کرن بجھتی ہے اور ہر نئی صبح کا سورج ان کیلئے نئی امید لے کر طلوع ہوتا ہے کہ شائد۔۔۔ شائد آج آجائے اور اسی امید میں اس کے ورثاء اور پیارے دروازے کی طرف تکتے رہتے ہیں۔۔۔ ہاں ان لوگوں کا درد ہم سے زیادہ کون سمجھ سکتا ہے کہ ہمارے بہت سے پیارے ایسے ہی یہاں غائب کئے گئے ہیں، ایسے ہی اٹھائے گئے ہیں، ایسے ہی کال کوٹھڑیوں میں پھینکے گئے ہیں، ایسے ہی ان کے بچوں کے سامنے انہیں اٹھایا گیا ہے، ایسے ہی انہیں عدالتوں سے ماوراء قید کیا گیا ہے، ان کی زندگی اور موت کا کوئی پتہ نہیں، ان کے حال اور مستقبل سے کسی کو علم نہیں، خفیہ ایجنسیوں کا طریقہ کار ایک سا ہوتا ہے، ان کا انداز ایک ہی طرح کا ہوتا ہے، انکے مقاصد ایک جیسے ہوتے ہیں، ان کی کارروائیاں ملتی جلتی ہیں۔ اس میں مسلم، غیر مسلم یا پاک و ہند کا فرق نہیں ہوتا، یہ خفیہ ایجنسیاں ہوتی ہیں، جن کے اپنے اصول اور اپنی دنیا ہوتی ہے۔

ایک شاعر احمد فرہاد نے بہت خوب ترجمانی کی ہے۔

یہ اپنی مرضی سے سوچتا ہے، اسے اٹھا لو
اٹھانے والوں سے کچھ جدا ہے، اسے اٹھا لو
وہ بے ادب، اس سے پہلے جسے اٹھا لیا تھا
یہ ان کے بارے میں پوچھتا ہے، اسے اٹھا لو
اسے بتاتے بھی تھے کہ کیا بولنا ہے، کیا نہیں بولنا
مگر یہ اپنی ہی بولتا ہے، اسے اٹھا لو
یہ پوچھتا ہے کہ امن و عامہ کا مسئلہ کیوں؟
یہ امن و عامہ کا مسئلہ ہے، اسے اٹھا لو
سوال کرتا ہے یہ دیوانہ، ہماری حد پر
یہ حد سے گزر گیا ہے، اسے اٹھا لو
احمد فرہاد کی اس نظم میں وہ سب کچھ ہے، جو میں یا آپ کہنا چاہتے ہونگے، اہل کشمیر اپنی جنت نظیر وادی میں بھارتی بربریت و ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں، ان کیلئے دنیا جو خود کو مہذب سمجھتے، کہتے ہیں کہ ان کے کانوں تک جوں تک نہیں رینگتی۔
یہ لوگ ایک عرصہ سے کرفیو میں زندگی گزشار رہے ہیں، ان کے بنیادی ترین حقوق پائمال ہیں، ان پر آگ و بارود کی بارش ہے، ان کیلئے کھانا پینا، کاروبار، تعلیم، انٹر نیٹ، سفر، اسپتال، بنیادی ترین دوائیں اور مرنے والوں کیلئے کفن کا کپڑا ناپید ہے، سخت ترین سردی میں ان کا جینا محال ہے مگر نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں، اقوام متحدہ اور امریکہ و برطانیہ سمیت سب نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے، بھارت ایک نام نہاد بڑی جمہوریت بنا ہوا ہے، جسے دنیا ایک بڑی مارکیٹ کہتی ہے، چونکہ اس کی آبادی بہت زیادہ ہے اور عالمی سطح پر کوئی ملک بھی اس مارکیٹ کو کھونا نہیں چاہتا،حتیٰ کھیل کے میدان میں بھی وہ اپنی مرضی کرتا ہے، اس لئے کہ اسپانسر شپ کا مسئلہ ہے، اہل کشمیر پر روا رکھا جانے والا سلوک تو ایک طرف اگر کسی مسلمان ملک میں عام سے مظاہرین پر لاٹھی چارج یا گرفتاریاں ہوتی ہیں تو عالمی میڈیا، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور امریکہ چیخ پڑتا ہے، پابندیاں لگاتا ہے، ایران میں چند سو ایجنٹوں سے مظاہرے کروا کر وہاں کے قانون کو توڑنے والوں کی امریکی صدر اور وزیر خارجہ کھل کر حمایت کرتے ہیں اور ایران کو اس مسئلہ پر دھمکیاں دیتے ہیں۔

پاکستان میں منظور پشتین اور اس کے ساتھیوں کی گرفتاری پر عالمی میڈیا چیختا ہے، رپورٹس چلاتا ہے، مگر اہل کشمیر کا درد بیان کرنا ان کے حق میں آواز بلند کرنا، ان کیلئے قراردادیں پیش کرنا، ان کا مقدمہ لڑنا، ان پر ظلم کرنے والے بھارتی حکمرانوں پر پابندیاں لگانا اقوام متحدہ، امریکہ، برطانیہ اور یورپ سب کیلئے ایک بھیانک خواب ہے۔ سب کچھ دیکھتے، جانتے بوجھتے یہ مکار قوتیں مودی کو اپنے اپنے ممالک میں اضافی پروٹو کول دیتے ہیں اور تو اور عرب امارات اور سعودی عرب نے تو حد کر دی ہے، تجارت اور تعلقات تو ایک طرف مودی کیلئے اپنے ممالک کے اعلیٰ ترین اعزازات اور انعام و اکرام و تحائف سے نوازنا اہل کشمیر کے رستے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارے حکمران اور بااختیار ادارے بھی مسئلہ کشمیر کو سنجیدگی سے حل کرنے کیلئے منظم جدوجہد نہیں کر رہے، جیسے ایران نے اسرائیل کی تباہی کیلئے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے اور اس کیلئے کوشاں دکھائی دیتا ہے، ایسے ہی پاکستان کو بھی ایک ہدف مقرر کرنا چاہیئے، تاکہ اہل کشمیر میں بہتر برس سے جاری ظلم کی تاریک اور اندھیری رات کا خاتمہ ہو، یہ مسئلہ فقط ایک دن کیلئے مخصوص نہیں ہونا چاہیئے بلکہ جب تک کشمیر بھارت سے آزاد نہیں ہو جاتا کوئی دن بھی ایسا نہ ہو کہ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کو بھول جائیں۔

یہ بھی دیکھیں

توجہ دو اور کام کرو

تحریر:ڈاکٹر عبدالقدیر خان پچھلے دو کالموں میں آپ کی خدمت میں عقل و فہم و …