جمعرات , 9 اپریل 2020
تازہ ترین

بھارت: مہاراشٹر میں متنازع قانون کو غیر موثر بنانے کیلئے قانونی راستے پر غور

مہاراشٹر کے وزیر داخلہ انیل دیشمکھ نے اپنی ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے متنازع قانون نیشنل پاپولیشن رجسٹریشن (این پی آر) کے خلاف قانونی راستہ اپنانے کا عندیہ دے دیا۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق انیل دیشمکھ نے کہا کہ مہا وکاس آغاڈی حکومت ریاست میں این پی آر کے اطلاق کو غیر موثر بنانے کے لیے قانونی طریقوں پر غور کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک درجن سے زائد ریاستوں کے وزرا اعلیٰ نے شہریت کے منتازع قانون این پی آر پر تحفظات کا اظہار کردیا۔

شہریت (ترمیمی) قانون (این آر سی) کی مخالفت کی ملک گیر احتجاج کے پس منظر میں انیل دیشمکھ نے کہا کہ مہاراشٹر میں کسی کو بھی ان کی ‘شہریت’ کی حیثیت سے ہراساں نہیں کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں انہوں نے مظاہرین سے دعویٰ کیا کہ وہ اپنا احتجاج ختم کردیں کیونکہ ریاست میں این پی آر اور این آر سی کا نفاذ نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ بھارت کی 13 ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے این پی آر کے خلاف اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

کانگریس کے زیر اقتدار مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ، پنجاب، پڈوچیری، جھاڑکھنڈ، مغربی بنگال اور کیرل میں متنازع شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مسلسل احتجاج جاری ہیں۔

علاوہ ازیں ریاست کے متعدد سابق بیوروکریٹس نے متنازع قانون کی مخالفت کی۔

103 دستخط کنندگان میں شامل سابق آئی پی ایس افسر میران بورونکر نے سوشل میڈیا پر کہا کہ شہریت ترمیمی قانون کے حق میں مہم چلانے کے بجائے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو بھارت اور اس کے شہریوں کو غربت سے نکالنے پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے متنازع قانون کے اطلاق سے قبل ہی سارے بھارت میں نریندر مودی اور قانون کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔

اس دوران نریندرمودی کے مسلح حامیوں نے پر امن مظاہرین پر فائرنگ بھی کی۔

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں اپنی نوعیت کا تیسرا واقعہ پیش آیا جس میں نامعلوم ملزمان نے جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے گیٹ پر فائرنگ کردی تھی۔

دو نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے یونیورسٹی کے گیٹ نمبر 5 کے باہر فائرنگ کی تاہم اس سے کوئی زخمی نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ یکم فروری کو شاہین باغ کے علاقے میں ایک اور مسلح نوجوان نے فائرنگ کی تھی جسے گرفتار کر لیا گیا تھا۔

نئی دہلی کے جامعہ نگر میں شاہین باغ میں ایک مسلح نوجوان نے فائرنگ کی تاہم کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا۔

سوشل میڈیا میں زیر گردش ویڈیو میں واضح طور پر سنا گیا کہ پولیس کی حراست میں موجود نوجوان چلا رہا ہے کہ ‘ہمارے دیش میں اور کسی کی نہیں چلے گی، صرف ہندوؤں کی چلے گی۔’

قبل ازیں 30 جنوری کو نئی دہلی میں ایک ہندو قوم پرست نے انٹرنیٹ پر لائیو اسٹریمنگ کے دوران متنازع شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے طلبہ پر فائرنگ کرکے ایک طالب علم کو زخمی کردیا تھا۔

انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مشتبہ شخص نے نئی دہلی میں واقع جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہر متنازع قانون کے خلاف سراپا احتجاج طلبہ پر یہ کہہ کر فائرنگ کردی کہ ‘یہ لو آزادی’ اور ‘نئی دہلی پولیس زندہ باد’۔

پولیس نے فائرنگ کرنے والے ہندو قوم پرست نوجوان کو گرفتار کرلیا تھا۔

یاد رہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں بھارتی شہریت کے حوالے سے متنازع بل منظور کیا تھا جس کے تحت 31 دسمبر 2014 سے قبل پڑوسی ممالک (بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان) سے غیرقانونی طور پر بھارت آنے والے افراد کو شہریت دی جائے گی لیکن مسلمان اس کا حصہ نہیں ہوں گے۔

اس بل کی منظوری کے بعد یہ قانون کی شکل اختیار کر گیا تھا جس کے بعد بھارت میں مظاہرے پھوٹ پڑے تھے اور شمال مشرقی ریاستوں میں احتجاج کے ساتھ ساتھ ملک کے کئی اہم شہروں میں انٹرنیٹ کی معطلی اور کرفیو بدستور نافذ ہے۔

 

یہ بھی دیکھیں

عراق، نئے وزیر اعظم کے نام پر اتفاق

عراقی پارلیمنٹ کے اہم سیاسی دھڑوں کے درمیان نئے وزیر اعظم کے نام پر اتفاق …