جمعہ , 28 فروری 2020
تازہ ترین

ایک نئے انقلاب کا آغاز (3)

تحریر: سید ثاقب اکبر

ملی یکجہتی کونسل کے وفد کے ہمراہ ہم پارک فن آوری، مشہد میں بھی گئے۔ آپ اسے "پارک آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی” کہہ سکتے ہیں۔ یہ مختلف ٹیکنالوجیز میں کام کرنے والے مختلف اداروں کا ایک مرکز ہے۔ اس مرکزیت کا فائدہ یہ ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں کام کرنے والا کوئی ادارہ دوسرے ادارے سے لاتعلق نہیں ہے۔ اسی طرح ایک ادارے کو دوسرے ادارے سے تعاون کی ضرورت ہو تو ایک ہی مرکز کے تحت ہونے کی وجہ سے اس امر میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ اداروں کو ابتداء میں جس تربیت اور سرپرستی کی ضرورت ہوتی ہے، وہ بھی اسی مرکز کے تحت فراہم کر دی جاتی ہے۔ جب ادارہ خود کوئی منصوبہ آگے بڑھانے، پیداوار دینے اور ڈیویلپمنٹ کے قابل ہو جاتا ہے تو اسے الگ سے اپنا کام شروع کرنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ ہر شعبے کی پیداوار کی مارکیٹنگ، ملک کے اندر اور باہر، کے لیے بھی یہی مرکز تعاون کرتا ہے۔ یہ قراردادوں اور ایم او یوز کے انعقاد میں بھی مدد کرتا ہے۔ زراعت، صنعت، ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں تیز رفتاری سے کام جاری ہے۔ اس مرکز کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ ایران کے روحانی راہنما آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی "اقتصاد مقاومت”(Economy of Resistance) سے کیا مراد ہے۔ ہم اسے "بحرانی حالت میں اقتصادی پیشرفت” کا ایک مظہر بھی کہہ سکتے ہیں۔

عالمی اقتصاد کے ماہرین مغربی اقتصادی نظام کو بحرانی حالت میں قرار دے رہے ہیں۔ اگر ایک طرف جبھہ ہای مقاومت (The Fronts of Resistance) یا مزاحمتی محاذوں پر امریکا اور اس کے اتحادیوں کی شکست نمایاں ہو رہی ہے تو دوسری طرف ایران پر آئے روز نئی پابندیوں کا اعلان ہو رہا ہے۔ مزاحمتی محاذ پر انہی دنوں میں ہونے والی پیش رفت میں دیکھیں تو شہید جنرل قاسم سلیمانی اور ابو مہدی مہندس کی امریکا کے ہاتھوں شہادت کے بعد عراقی، پارلیمان کا یہ فیصلہ کہ امریکا عراق سے نکل جائے، امریکی استعمار کے لیے ایک بڑی شکست کا پیغام ہے۔ اس استعماری ہزیمت کو جمعہ 24 جنوری 2020ء کے بغداد کے ملین مارچ نے تیز رفتار کر دیا ہے۔ شام میں جبھۃ النصرہ کی پے در پے شکست دوسرے محاذ سے آنے والی خبر ہے۔ یمن میں استعماری ایجنٹ منصور ہادی کے فوجی مرکز پر انصار اللہ کے تباہ کن حملے نے ایسی خبروں میں اضافہ کر دیا ہے اور اب 27 جنوری کو غزنی افغانستان میں امریکا کو پہنچنے والی بے مثال زک نے استعماری دماغوں کو وحشت آسا کر دیا ہے۔ ایسی خبروں کا سلسلہ رکنے والا نہیں۔

یہ عالم وحشت ہی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ہر کام میں "جلدی” پڑ گئی ہے۔ وہ جس قدر جلدی میں کوئی قدم اٹھاتے ہیں، اتنی ہی بڑی غلطی کرتے ہیں اور مزاحمت کو اتنا ہی شعلہ ور کرتے چلے جاتے ہیں۔ اسی تیزی میں انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ مل کر "صدی کے سودے” کا اعلان کر دیا ہے۔ نتیجے کے طور پر حماس اور الفتح ایک پیج پر آگئے ہیں۔ فلسطینی صدر محمود عباس اور حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ نے ایک طویل عرصے کے بعد آپس میں بات کی ہے اور دونوں نے واشگاف طور پر صدی کے منحوس سودے کو مسترد کر دیا ہے۔ فلسطینی، صہیونی استعماری منصوبے کے خلاف ایک ہوگئے ہیں۔ ایسے میں جب یہ جنگ تیز رفتار ہو رہی ہے، منافقت کی گنجائش کم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ منافقین بے نقاب ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

امریکا اور اسرائیل کی خواہش ہے کہ علاقے میں ان کے ساتھی، جو کسی حد تک پس پردہ رہنے میں عافیت سمجھتے چلے آرہے ہیں، اب کھل کر ان کا ساتھ دیں۔ بس جوں جوں وہ اس ڈیل آف دی سینچری (Deal of the Century) کی حمایت کرتے جائیں گے، بے نقاب ہوتے چلے جائیں گے۔ "منافقت سے جنگ” کی مشکل سے مزاحمتی محاذ کو نجات مل جائے گی۔ فریب خوردہ عوام کو حق کے پہچاننے میں آسانی ہوتی چلی جائے گی۔ جَآئَ الْحَقُّ وَ زَھَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا کی صدائوں کی گونج بلند بانگ ہوتی جائے گی۔ گرد بیٹھتی جائے گی۔ دھندلے چہرے بے نقاب ہوتے چلے جائیں گے۔ ملی یکجہتی کونسل نے 13 جنوری کے اپنے اعلامیے میں واضح موقف اختیار کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین ہماری ریڈ لائن ہے۔ یہ ہمارے لیے خط سرخ ہے۔ ہم کسی صورت کشمیر اور فلسطین کا سودا قبول نہیں کریں گے۔ مظلوم کشمیریوں اور مظلوم فلسطینیوں کی آزادی سے کم ہم کسی چیز پر راضی نہیں ہوں گے۔

ملی یکجہتی کونسل اس سے پہلے بھی واضح کرچکی ہے کہ بیت المقدس اور قدس شریف مسلمانوں کا ہے۔ اسرائیل ایک غاصب ریاست ہے۔ فلسطین فلسطینیوں کا ہے۔ دیگر ممالک سے لا کر بسائے گئے یہودیوں کو اپنے اپنے ملکوں میں واپس جانا ہے اور فلسطینیوں کو پھر سے اپنے گھروں میں آباد ہونا ہے۔ ملی یکجہتی کونسل یہ بھی اعلان کرچکی ہے کہ اس کے نزدیک فلسطینیوں کی نمائندہ حماس ہے۔ ہم فلسطین کی آزادی کی کوششوں میں حماس کے ساتھ ہیں۔ یہ مزاحمتی تحریک تھوڑی سی مزید آگے بڑھنے کی دیر ہے کہ امریکا، برطانیہ اور ان کے اتحادیوں کے لشکر مسلمان ملکوں سے واپس جاتے ہوئے نظر آنے لگیں گے۔ پھر لوٹ مار پر قائم سلطنت کے بکھرنے کے دن شروع ہوں گے۔ مغرب اور خاص طور پر امریکی اقتصاد ایک بڑے بحران کا شکار ہوگی۔ اس بحران پر سرمایہ داری نظام کے اصول قابو نہ پا سکیں گے اور بحران میں اقتصاد کی بنیاد رکھنے والے ایک دن "آزاد اقتصاد” کا نمونہ بن جائیں گے۔ اس آزاد اقتصاد کی بنیادیں ہم نے اپنے دورۂ ایران کے دوران میں بہت قریب سے دیکھی ہیں۔ فرزندان انقلاب حوصلے، حکمت، تدبر، محنت اور تسلسل کے ساتھ ان بنیادوں کو اٹھانے میں مصروف ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

فلسطین کی آزادی حتمی ہے

فلسطین کی آزادی کے لئے جاری جد وجہد ایک نئے مرحلہ میں داخل ہو چکی …