پیر , 6 اپریل 2020

رہبر معظم انقلاب اسلامی کی طرز زندگی کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے پر تاکید

پارہ جگر حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے حسینیہ امام خمینی (رہ) میں جشن میلاد منعقد ہوا، جس میں اہلبیت علھیم السلام کے مداحوں اور شعراء نے پیغمبر اسلام (ص) کی عظيم بیٹی کی تعریف اور مدح و ثنا میں اشعار پیش کئے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اس ملاقات میں معاشرے اور خاص طور پر جوانوں کے درمیان اسلامی اور دینی معارف کے فروغ کو شعراء اور مداحوں کی اہم اور اساسی ذمہ داری قراردیتے ہوئے فرمایا: طرز زندگی کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے ، خاص طور پر سماجی سطح پر باہمی تعاون کے فروغ اور عوامی سطح پر ایکدوسرے کی مدد اور اسی طرح معاشرے میں استقامت، پائداری اور بصیرت کے جذبے کے فروغ کے سلسلے میں معاشرے کے مؤثر طبقہ پر اہم اور فیصلہ کن ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جن میں شعراء اور مداح بھی شامل ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے معاشرے میں مجالس عزا اور معنوی محفلوں کی ہدایت اور مدیریت کے سلسلے میں ذاکرین ، نوحہ خوانوں اور مداحوں کی ذمہ داری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: بعض روشنفکر ایک دور میں گریہ کو ضعف و کمزوری کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے تھے جبکہ ان کے نظریہ کے برعکس گریہ ضعف و کمزوری نہیں بلکہ ایک انسان کے اعلی احساسات کو بیان کرنے اور عزت ، قدرت اور شجاعت کے احساس کو پیش کرنے کا ایک وسیلہ ہے اور اس سنت کے بانی آئمہ اطہار (ع) ہیں اور وہی ان مجالس کے فروغ کے بانی بھی ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے شہید حاج قاسم سلیمانی اور ان کے شہید ساتھیوں کی بے مثال تشییع جنازہ کو ایسی مجالس کا مظہر اور واضح نمونہ قراردیتے ہوئے فرمایا: آج ملک کے جوانوں کو سافٹ ویئر کے ہتھیاروں سے مسلح ہونے کی سخت ضرورت ہے کیونکہ اس کے ذریعہ جوانوں کی روحی ، فکری اور معنوی قدرت کی گہرائی اور ارتقاء ، فاطمی معارف اور اہلبیت علیھم السلام کے معارف کی صحیح شناخت اور پہچان میں مدد مل سکے گي ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس ہتھیار سے مسلح ہونے کے بعد معاشرے اور اسلامی نظام کے محفوظ ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ ذمہ داری مداحوں اور شعراء کے دوش پر عائد ہوتی ہے اگر وہ اپنی اس اہم اور سنگین ذمہ داری پر عمل نہیں کریں گے اور انھیں اللہ تعالی کی بارگاہ میں سنگین مؤاخذہ کا سامنا کرنا پڑےگا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس سلسلے میں معارف اہلبیت (ع) ، مجالس حضرت امام حسین (ع) اورنام حضرت زہرا (س) کی قدرت کے ایک نمونہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: امریکہ کے زبردست ، عمیق اور وحشی دباؤ کے مقابلے میں ایرانی قوم کی استقامت اور پائمردی نے دنیا کے ناظرین کو حیرت میں ڈال دیا ہے اور یہ استقامت انہی معارف کی برکت کا ثمرہ اور نتیجہ ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: موجودہ سخت شرائط میں 22 بہمن کی ریلیوں اور اس سے قبل شہید قاسم سلیمانی کی تشییع جنازہ میں سبھی نے ایرانی عوام کے وسیع پیمانے پر شرکت کو مشاہدہ کیا اور ایرانی قوم کا یہ عظیم حوصلہ اور استقامت حقیقت میں حیرت انگیز ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلامی طرز زندگی کے فروغ کو مداحوں اور شعراء کی ایک اور ذمہ داری قراردیتے ہوئے فرمایا: ہمیں دشمن کی ثقافتی یلغار کا مقابلہ کرنے کے لئے معاشرے میں اسلامی طرز زندگی کے فروغ پر توجہ مبذول کرنی چاہیے اور اگر مداحوں اور شعراء کی طرف سے یہ کام انجام دیا جائے تو ان کا یہ عمل معاشرے میں بہت ہی مؤثر ثابت ہوگا۔

یہ بھی دیکھیں

شہید قاسم سلیمانی اور شہید ابو مہدی مہندس شخصیت کا نام نہیں نظریے کا نام ہے؛ محمد امین شہیدی

اسلام آباد: ایرانی جنرل قاسم سلیمانی پر امریکی حملے کے بعد اسلام آباد میں نکالی …