جمعرات , 9 اپریل 2020
تازہ ترین

دہلی میں منافرت کی نہیں عام آدمی کی جیت

جے اے رضوی

بھارت کے دارالحکومت دہلی کے ریاستی انتخابات میں تیسری مرتبہ عام آدمی پارٹی کی حکومت قائم ہوگئی۔ بھارت میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ریاستی اسمبلی کی ستر میں سے سات نشستوں میں ہی کامیابی حاصل کرسکی، جبکہ دہلی میں طویل ترین حکومت کا ریکارڈ رکھنے والی کانگریس اس بار ایک نشست بھی نہیں جیت پائی۔ اگرچہ ملکی سطح کے انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کرنے کے باوجود بی جے پی اس سے قبل دیگر ریاستی انتخابات میں شکست کا منہ دیکھ چکی ہے، لیکن دہلی میں بھاجپا کی شکست کی اہمیت مختلف ہے۔ انتخابات سے قبل نومبر اور دسمبر میں ہونے والے سروے پولز کے نتائج کے مطابق دہلی کی 86 فیصد عوام نے عام آدمی پارٹی کی حکومت کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ سروے کے انہی نتائج کی وجہ سے بی جے پی کو بھی اپنی روایت سے ہٹ کر عوامی مسائل کو انتخابی مہم کا حصہ بنانا پڑا تھا اور عام آدمی پارٹی کی کارکردگی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا، لیکن بھاجپا کی اصل حکمت عملی وہی تھی کہ شہریت ترمیمی قانون کے بعد رائے عامہ میں ہونے والی تقسیم کو اپنے حق میں استعمال کیا جائے، جس میں وہ بری طرح ناکام ہوگئی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ دہلی اسمبلی الیکشن کے حوالے سے تمام مشاہدات، سیاسی لیڈروں اور سیاسی پارٹیوں کے بیانات کچھ مخصوص ذہن کے حامل نجی ٹی وی چینلوں کے کردار بالخصوص ان چینلوں سے وابستہ کچھ اینکروں نے صحافتی پیشہ کے تقدس کو جس طریقے سے پاؤں تلے روند کر صحافت کے نام پر ایک نئی خباثت کو جنم دیا، اس کا مشاہدہ بھی کیا گیا، لیکن اس طرح کی زہر افشانی کے باجود دہلی کے رائے دہندگان نے جو فیصلہ کیا، اس کے لئے وہ قابل تعریف ہیں۔ دہلی کے رائے دہندگان نے صبر و تحمل ہی کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ اپنے ہوش و حواس کو بھی برقرار رکھا، کسی بھی اشتعال انگیزی میں نہیں آئے اور نہ ہی وہ اس منافرت اور ہجومی دبدبہ کو کسی خاطر میں لائے، جس کو ان کے اوپر مسلط کرنے کی ہر ممکن اور سطح پر کوشش کی گئی۔ اگرچہ مجبور ہو کر عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجروال نے اپنی انتخابی مہم میں تین بار دہلی کے معروف منر ہنومان مندر پر حاضری دی۔ وہ مجبور ہوئے تو انہوں نے ’’جے شری رام‘‘ کے نعرے کے مقابلے میں ’’جے بجرنگ بلی‘‘ کا نعرہ بلند کیا۔ یہ وہ ماحول ہے جسے بی جے پی نے پروان چڑھایا اور دوسروں کی مجبوری بنایا۔

اس کے برعکس دہلی کے رائے دہندگان نے اس پیغام کو بھی واضح طور سے پہنچایا کہ انسانی معاشروں میں نفرت کی سیاست ہی سب کچھ نہیں ہے بلکہ انسانی سیاست سے دنیا کو آگے لے جایا جاسکتا ہے، جس سیاست کا مقصد بنی نوع انسان کی کم از کم روز مرہ کی ضرورتوں، جذبات اور خواہشات کی تکمیل اور احترام ہے۔ دہلی کے ووٹروں نے اپنے لئے سیاسی جنون کو نہیں بلکہ ترقی کو ترجیح دی اور ترقی کو ہی منتخب کیا۔ دہلی کے ووٹروں کے اس فیصلے پر ایک فطری جنون پرست ٹیلی ویژن اینکر نے یہ بازاری دلیل دی کہ اگر پاکستان کا وزیراعظم عمران خان بھی ان ایشوز پر الیکشن لڑتا تو وہ بھی دہلی سے چناؤ جیت جاتا۔ یہ محض ایک چھوٹا سا حوالہ ہے، جو اس مخصوص ذہنیت کو بے نقاب کر رہا ہے، جس ذہنیت کو لیکر جمہوری عمل کے سارے تانے بانے کو اس مخصوص لڑی میں پرونے کی سعی کی جارہی ہے، لیکن دہلی کے رائے دہندگان نے اس ذہنیت، اس اپروچ اور اس سوچ کو اپنے ناقابل تسخیر جذبہ، عمل اور رواداری سے مسترد کر دیا ہے۔

یہ اصل میں ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ کی ایک ایسی عملی تصویر ہے، جس کے اندر یا باہر کوئی داغ دھبہ اور اگر مگر نہیں ہے بلکہ صاف و راست ہے۔ معاشروں کی ترقی کا مدعا ہو یا ملک یا ریاست کی ترقی کا مسئلہ ہو، وہ کسی بھی حوالے سے مذہبی منافرت اور مذہبی جنون کے سہارے ممکن نہیں بلکہ ترقی کے لئے لازمی طور سے کچھ بنیادی لوازمات درکار ہوتے ہیں۔ عوام کا غیر مشروط اشتراک، امن، رواداری اور مساوات پر مبنی ذرائع اور وسائل کی تقسیم، ترقیاتی عمل اور ترقیاتی ثمرہ فرقوں، طبقوں، ذات پات اور علاقوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ خالص غیر منقسم معاشرہ کی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے تو اسی سے سب کا ساتھ اور اسی میں سب کا وکاس (ترقی) کی ضمانت ہے۔ دہلی نشین عام آدمی پارٹی اس ضمن میں کامیاب ہے کہ اس نے سیاسی گند میں الجھنے کی بجائے عوام کی ترقی کو اپنا ایجنڈا بنایا۔ پانچ برس تک ترقی کے اس ایجنڈا کو عملی جامہ پہنایا جاتا رہا۔ تعلیم، صحت عامہ، بجلی اور پانی انسان کی لازمی اور بنیادی ضرورت ہے۔ اسی کو اروند کیجروال او اسکے ساتھیوں نے اپنے لئے نقش راہ مقرر کیا۔

اس سے ہٹ کر کسی اور ایشو کو اپنے لئے شجر ممنوع قرار دیا۔ یہاں تک کہ الیکشن کی گہما گہمی کے دوران اس پارٹی نے نہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو ذاتی طور پر کسی ہدف کا نشانہ بنایا اور نہ ہی حکمران جماعت کے کسی دوسرے لیڈر کو، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ حکمران جماعت (بی جے پی) سے وابستہ کئی سینیئر لیڈروں اور ممبران پارلیمنٹ نے کئی ایک اعتبار سے بازاری زبان بھی استعمال کی، ہجومی تشدد کو بھی ہوا دی، منافرت کی سیاست بھی زور و شور سے چلائی گئی، لیکن اروند کیجروال اور اس کے ساتھیوں نے درمیانی راستہ اختیار کرکے سیاست کے میدان میں کچھ نئے مگر قابل دید باب رقم کر لئے۔ بھارت کی سیاست میں یہ تبدیلی اور بدلاؤ دوسری بہت ساری سیاسی جماعتوں کے لئے ایک واضح پیغام ہے۔

نوٹ: ابلاغ نیوز کی پالیسی کا تجزیہ نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

عالمی وبا اورادب

تحریر: زاہدہ حنا شہروں کی کہانیاں کس طرح دھندلکوں میں چھپی ہوتی ہیں ، اس …