جمعرات , 9 اپریل 2020
تازہ ترین

عمر شریف کی بیٹی اعضا کی غیر قانونی پیوندکاری کرنیوالے ریکٹ کا شکار

لاہور: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی (ایچ او ٹی اے) نے بحریہ ٹاؤن میں ٹرانسپلانٹ سرجن ڈاکٹر فواد ممتاز کے گھر پر چھاپہ مارا۔

یہ چھاپہ اس اطلاع پر مارا گیا کہ ڈاکٹر فواد نے آزاد کشمیر کے کسی نامعلوم مقام پر معروف کامیڈین عمر شریف کی بیٹی کے گردے کی غیر قانونی پیوندکاری کی تھی جس کے بعد سنگین طبی پیچیدگیوں کے باعث ان کا انتقال ہوگیا تھا۔

اس سلسلے میں ایک عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ لاہور جنرل ہسپتال میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر فواد پنجاب کے مختلف حصوں میں اعضا کی تجارت کا نیٹ ورک چلانے کے حوالے سے بدنام ہیں۔

عہدیدار نے یہ بھی بتایا کہ ڈاکٹر فواد گرفتاری سے بچنے کے لیے پہلے ہی گھر سے فرار ہوچکے تھے جس کے باعث ٹیم کو لوٹنا پڑا۔

خیال رہے کہ ایف آئی اے اور ایچ او ٹی اے کی مشترکہ ٹیم نے یہ کارروائی عمر شریف کے بیٹے جواد عمر کی شکایت پر کی تھی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کی بہن حرا شریف ڈاکٹر فواد ممتاز کی جانب سے کی گئی گردے کی غیر قانونی پیوندکاری کے باعث وفات پاگئیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکٹر فواد نے گردے کی پیوندکاری کے لیے 34 لاکھ روپے لیے تھے اور انہیں آزاد کشمیر کے کسی نامعلوم مقام پر لے گئے تھے جہاں آپریشن کے ایک ہفتے بعد انہیں سنگین طبی پیچیدگیاں لاحق ہوگئیں تھیں۔

جواد عمر نے الزام لگایا کہ ان کی بہن کو رائیونڈ روڈ کے ایک نجی ہسپتال میں تشویشناک حالت میں لایا گیا تھا جہاں سنگین طبی پیچیدگیوں کے باعث پیر کی رات ان کا انتقال ہوگیا۔

تاہم جواد عمر نے اس مقام، عمارت یا سڑک کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا کہ جہاں ان کی بہن کا آپریشن کیا گیا تھا۔

عہدیدار نے بتایا کہ ان کی درخواست میں لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کے لیے ایچ او ٹی اے نے ایک 4 رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔

’ناقص نظام انصاف‘
اس پورے عمل سے واقف ایک عہدیدار نے بتایا کہ ٹرانسپلانٹ سرجن ڈاکٹر فواد کا مجرمانہ ریکارڈ ہے اور بغیر کسی رکاوٹ کے اعضا کی غیر قانونی پیوندکاری کا جو نیٹ ورک وہ چلا رہے تھے وہ ’ناقص نظام انصاف کے منہ پر طمانچہ ہے‘۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ فیصل آباد، ملتان، لاہور اور پنجاب کے مختلف حصوں میں ڈاکٹر فواد کے خلاف اعضا کی غیر قانونی پیوندکاری کرنے پر مجرمانہ مقدمات درج ہیں۔

کچھ مقدمات کا ذکر کرتے ہوئے عہدیدار نے بتایا کہ ڈاکٹر فواد کو ایف آئی اے نے اپریل 2017 میں اس وقت رنگے ہاتھوں گرفتار کیا تھا جب وہ ای ایم ای سوسائٹی میں اردنی، لیبیائی اور عمانی شہریوں سمیت غیر ملکیوں کی فی کس 60 لاکھ روپے کے عوض گردے کی غیر قانونی پیوند کاری کررہے تھے۔

اس آپریشن کے دوران اردن کی شہری سلمیٰ کا انتقال ہوگیا تھا، تاہم چھاپہ مار ٹیم نے پنجاب کے ینگز ڈاکٹر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر التمش کھرل اور دیگر 2 ملزمان کو بھی گرفتار کیا تھا۔

اس وقت لاہور میں سرکاری شعبے کے بڑے ٹیچنگ ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹرز کی جانب سے چلائے جانے والے اعضا کے تجارتی نیٹ ورک کو توڑنے کی خبر نے ملکی میڈیا میں ہلچل مچادی تھی۔

جس کے باعث اس قسم کے بدنام طبی عملے کو نظام صحت میں لوگوں کی زندگیوں کے کھیلنے کی گنجائش فراہم کرنے پر میڈیکل کمیونٹی اور محکمہ صحت کے حکام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

بعد ازاں اپریل 2018 میں لاہور ہائی کورٹ نے گردے کی غیر قانونی پیوندکاری پر ڈاکٹر فواد ممتاز کی ضمانت بعد ازگرفتاری مسترد کردی تھی۔

تاہم جب انہوں نے دوبارہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تو انہیں ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا جس کے بعد انہوں نے لاہور جنرل ہسپتال میں اپنی ذمہ داریاں دوبارہ سنبھال لی تھیں اور نجی جگہوں پر دوبارہ اعضا کی پیوندکاری شروع کردی تھی۔

عہدیدار نے بتایا کہ ڈاکٹر فواد کو اگست 2019 میں ایک مرتبہ پھر ایک مقدمے میں نامزد کیا گیا تھا جب انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک غریب بڑھئی شاہد مسیح کا گردہ نکال لیا تھا۔

کچھ عرصہ قبل ملتان میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت ان کے خلاف ایک اور مقدمہ اس وقت درج کیا گیا جب ’اعضا کی غیر قانونی پیوندکاری‘ کے نتیجے میں کچھ مریضوں کی اموات ہوگئی تھیں۔

مقدمے کے اندراج کے بعد ڈاکٹر فواد نے ایڈیشنل ڈسٹرک اینڈ سیشن جج محمد نواز بھٹی کی عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرلی تھی۔

بعد ازاں عدالت میں ایچ او ٹی اے کے لیگل ڈائریکٹر عمران احمد نے کیس کی پیروی جاری رکھی جس میں پیش نہ ہونے پر ڈاکٹر فواد کی ضمانت مسترد کردی گئی تھی۔

یہ بھی دیکھیں

عراق، نئے وزیر اعظم کے نام پر اتفاق

عراقی پارلیمنٹ کے اہم سیاسی دھڑوں کے درمیان نئے وزیر اعظم کے نام پر اتفاق …