جمعرات , 9 اپریل 2020

جسٹس قاضی فائز ریفرنس: ناخوشگوار انداز میں اٹارنی جنرل کے دلائل کا آغاز

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی جانب سے صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی جس میں اٹارنی جنرل انور منصور خان نے شعلہ بیانی سے اپنے دلائل کا آغاز کیا۔

عام طور پر ایسا بیان سپریم کورٹ کے فُل کورٹ بینچ جیسے سنجیدہ مقام پر ٹھیک نہیں سمجھا جاتا۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دس رکنی فل کورٹ نے صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس فائز عیسی اور دیگر کی درخواستوں پر سماعت کے دوران اٹارنی جنرل انور منصور خان نے اپنے دلائل کا آغاز کیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے فل کورٹ کے سامنے جو بیان دیا، اس پر ججز نے انہیں استثنیٰ دیتے ہوئے بیان سے دستبردار ہونے کا کہا اور ان کے بیان کو ’ گستاخانہ ‘ اور ’ انتہائی سنگین‘ قرار دیا تھا۔

اس کے ساتھ ہی ججز نے میڈیا کو مذکورہ معاملے پر رپورٹنگ سے روک دیا تھا۔

سماعت کے بعد متعدد وکلا نے واقعے کو حکومتی ٹیم کے منصوبے کا حصہ قرار دیا۔

اٹارنی جنرل نے دلائل کا آغاز اس بیان سے کیا کہ انہیں احساس ہے کہ انہوں نے کچھ ایسا کہا تھا جو عدالتی بینچ کے لیے خوشگوار نہیں تھا، جس پر کورٹ روم نمبر ون کا ماحول اچانک افسردہ ہوگیا۔

جسٹس مقبول باقر نے ردعمل دیا کہ ’ یہ گستاخانہ تھا‘۔

جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ اس میں کچھ شامل نہیں کریں گے لیکن جسٹس سید منصور عل شاہ نے ریمارکس دیے کہ انور منصور خان نے ’ سنگین بیان‘ دیا تھا اور انہیں اس سے دستبردار ہونا چاہیے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ’ آپ ریاست ہیں اور گر آپ کے کچھ مسائل یا تحفظات ہیں تو آپ روسٹرم پر اظہارِ خیال کے بجائے تحریری شکل میں دے سکتے ہیں‘۔

اپنے ریمارکس میں جسٹس عمر عطا بندیال نےمزید کہا کہ ’ ہم (ججز) عوام کے مکمل اعتماد کے ساتھ کام کرتے ہیں‘۔

اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ‘ تمام ججز انصاف کے ساتھ کام کریں گے، مجھے ان پر مکمل اعتماد ہے‘۔

جسٹس مقبول باقر نے ایک مرتبہ پھر اٹارنی جنرل سے بیان سے دستبردار ہونے کے لیے کہا تاکہ کارروائی آسانی سے آگے بڑھے، انہوں نے کہا کہ ’ ہم پیچیدگیاں نہیں چاہتے‘۔

تاہم اٹارنی جنرل نے بیان واپس لینے سے انکار کردیا تھا لیکن عدالت نےمیڈیا کو بیان شائع کرنے سے منع کردیا کیونکہ ’ اٹارنی جنرل اپنے بیان سے دستبردار ہوگئے تھے‘۔

اٹارنی جنرل نے آزاد عدلیہ کی اہمیت اور اسے محفوظ بنانے سے متعلق آئین میں موجود پیش لفظ پڑھا، کہ کُل کائنات کا مالک اور اصل حاکمیت اللہ تعالی کی ہے، ملک کا نظام منتخب نمائندوں کے ذریعے چلایا جاتا ہے، عدلیہ کو آئین میں مکمل تحفظ فراہم کیا گیا ہے اور جج عدالتوں میں انصاف کرنے کے لیے موجود ہوتے ہیں۔

اٹارنی جنرل انور منصور خان نے درخواست پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میں کوشش کروں گا کہ درخواست گزار کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کے جواب دوں جبکہ اصل مسئلے کو درخواست گزاروں کی جانب سے اٹھایا ہی نہیں گی۔

انور منصور خان نے کہا کہ درخواست گزار جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف الزامات کا جائزہ سپریم جوڈیشل کونسل نے لینا ہے اور کونسل کو جائزہ لینے کے لیے کہا گیا کہ مذکورہ جائیدادیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ہیں یا نہیں۔

اٹارنی جنرل آف پاکستان نے کہا کہ تاثر ہے لندن جائیدادوں کا براہ راست تعلق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ ہے اور انہوں نے غیرملکی جائیدادوں کے لیے رقم فراہم کی، سپریم جوڈیشل کونسل کی انکوائری سے پہلے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ کسی جج کے خلاف کوئی عداوت ہے، نہ ہی کسی سے دشمنی، ججوں کے خلاف جو الزامات ہیں ان کا جائزہ لیا جانا چاہیے اور انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل نے ججوں کا حلف بھی پڑھ کر سنایا اور کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کا جج کوڈ آف کنڈکٹ کا پابند ہوتا ہے اور حلف اٹھاتے وقت وعدہ کرتا ہے۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ مسٹر اٹارنی جنرل! سب سے پہلے اپنی گزارشات کے پوائنٹس دے دیں جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ کیا عدالت عظمیٰ آرٹیکل 183/3کے مقدمے میں ریفرنس کے حقائق کا جائزہ لے سکتی ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ کیا شوکاز نوٹس کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی چیلنج ہو سکتی ہے، جج نے جائیدادیں اہلیہ اور بچوں کے نام تسلیم کیں تو کیا غیر اعلانیہ اور ظاہر نا کردہ جائیدادوں کی معلومات حاصل کرنا جاسوسی ہے۔

انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا ایگزیکٹیو کو جج کے خلاف ملنے والی معلومات کی تصدیق نہیں کرنی چاہیے۔

انور منصور خان نے کہا کہ صدارتی ریفرنس میں پوچھا گیا ہے کہ جائیدادوں کا جائزہ لیں اور اب جوڈیشل کونسل نے دیکھنا ہے کہ جج نے مس کنڈکٹ کیا یا نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ یہ ہے کہ برطانیہ میں تین جائیدادیں خریدی گئیں، ایک جائیداد 2004 میں خریدی گئی جس کی تجدید 2011 میں ہوئی جبکہ دوسری جائیداد 2013 میں خریدی گئی۔

اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ2004 میں جو جائیداد خریدی گئی وہ بہت اہم ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ زرینہ کھوسو کا نام پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ اٹارنی جنرل صاحب پہلے بتائیں کہ ریفرنس کیسے بنایا گیا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ 2011 میں جائیداد میں بیٹی سحر علی کا نام بھی شامل کیا گیا،2013 میں جائیدادیں اہلیہ، بیٹی اور بیٹے ارسلان کے نام خریدی گئیں اور جج نے جوڈیشل کونسل میں کہا کہ میری جائیدادیں نہیں ہیں۔

انور منصور خان نے فل کورٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سارے سوالوں کا جواب دوں گا پہلے مجھے کیس بتانے دیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ جج کو خوف اور جانب داری کے بغیر فیصلہ کرنا چاہیے جس پر فل کورٹ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ کیا حلف کے مطابق خوف اور جانب داری کے بارے میں جج کا دماغی معائنہ کرنا چاہیے۔

انور منصور خان نے کہا کہ میں نے تو صرف جج کا حلف پڑھا ہے۔

دلائل جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جائیداد تسلیم کرنے سے حقائق درست ثابت ہوئے، اب سوال یہ ہے کہ یہ جائیدادیں جج کو گوشواروں میں ظاہر کرنے چاہیئیں یا نہیں اور یہ سوال بھی ہےکہ جائیدادیں بچوں اور اہلیہ کے نام پر ہونا درست ہے۔

جسٹس یحیٰ آفریدی نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ پہلے یہ بتا دیں کہ ریفرنس میں الزام کیا ہے؟ جس کا جواب دیتے ہوئے اٹارنی جنرل نے کہا کہ معذرت چاہتا ہوں مجهے یہ بات پوچھنے سے پہلے ہی بتانی چاہیے تهی۔

اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ الزام یہ ہے کہ برطانیہ کی جائیدادیں ٹیکس گوشواروں میں ظاہر نہیں کی گئیں اس کے ساتھ ساتھ انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 116 کے تحت ’ فنڈز کی منتقلی‘ کو بھی ظاہر نہیں کیا گیا۔

بعدازاں فل کورٹ بینچ نے کیس کی سماعت اگلے روز تک ملتوی کردی تھی۔

خیال رہے کہ 17 فروری کو جسٹس منیب اختر ناسازی طبیعت کے باعث سماعت ملتوی کردی گئی تھی جس کے باعث اٹارنی جنرل انور منصور خان اپنے دلائل شروع نہیں کرپائے تھے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس
واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا تھا۔

ریفرنس میں دونوں ججز پر اثاثوں کے حوالے سے مبینہ الزامات عائد کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل سے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔

سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو پہلا نوٹس برطانیہ میں اہلیہ اور بچوں کے نام پر موجود جائیدادیں ظاہر نہ کرنے کے حوالے سے جاری کیا گیا تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جاری کیا گیا دوسرا شو کاز نوٹس صدر مملکت عارف علوی کو لکھے گئے خطوط پر لاہور سے تعلق رکھنے والے ایڈووکیٹ وحید شہزاد بٹ کی جانب سے دائر ریفرنس پر تھا۔

ریفرنس دائر کرنے کی خبر کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر ڈاکٹر عارف علوی کو خطوط لکھے تھے، پہلے خط میں انہوں نے کہا تھا کہ ذرائع ابلاغ میں آنے والی مختلف خبریں ان کی کردار کشی کا باعث بن رہی ہیں، جس سے منصفانہ ٹرائل میں ان کے قانونی حق کو خطرات کا سامنا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر مملکت سے یہ درخواست بھی کی تھی کہ اگر ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا جاچکا ہے تو اس کی نقل فراہم کردی جائے کیونکہ مخصوص افواہوں کے باعث متوقع قانونی عمل اور منصفانہ ٹرائل میں ان کا قانونی حق متاثر اور عدلیہ کے ادارے کا تشخص مجروح ہو رہا ہے۔

بعد ازاں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے سپریم کورٹ میں ریفرنس کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی جس پر عدالت عظمیٰ کا فل کورٹ بینچ سماعت کررہا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

حکومت پاکستان باکسر عامر خان کے اقدام پر ان کی شکر گزار ہے، زلفی بخاری

اسلام آباد : وزیراعظم کے مشیر زلفی بخاری نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان باکسر …